63

بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں ریپ  کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ کشمیری خواتین جو اپنے خاوند، بھائیوں اور بیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، اس وقت سماجی اور مالی مسائل کا سامنا کررہی ہیں۔

کشمیری خواتین کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی مقررین نے شدید مصائب کا شکار مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

“جموں و کشمیر کی نیم بیوہ خواتین” کے عنوان سے اس آن لائن کانفرنس کا انعقاد کشمیر کونسل ای یو نے کیا۔

کانفرنس کے منتظم کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید تھے جبکہ میزبانی کے فرائض ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی سیاسی نفسیات کی ماہر خاتون ماریان لوکس نے انجام دیے۔

ماریان لوکس نے کانفرنس کا ایجنڈا بیان کیا جبکہ علی رضا سید نے کانفرنس کے آغاز پر تعارفی کلمات کئے۔

کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں سری نگر سے آصبہ خان بھی شامل تھیں جو مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔

کانفرنس کی دیگر مقررین میں آزاد کشمیر کی سابق وزیر بہبود آبادی فرزانہ یعقوب، پاکستان پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی سربراہ مشال حسین ملک، کینیڈا سے سلک تنظیم کی شریک بانی حولہ صدیقی، کشمیر گوبل کونسل کی رکن ثریا صدیقی اور آزاد کشمیر سے یوتھ فورم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ماریہ اقبال ترانہ شامل تھیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصبہ خان جن کے خاوند فاروق احمد ڈار بھارتی جیل میں قید ہیں، نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بہت سی خواتین ہیں جو اپنے خاوند اور دیگر رشتہ داروں کی تلاش میں مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ وادی کی کچھ خواتین کے نام بھی بتائے جو اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت اٹھارہ ہزار کشمیری بچے بھارتی جیلوں میں ہیں جن کی مائیں ان کے بارے میں پریشان ہیں۔

سابقہ وزیر آزاد کشمیر فرزانہ یعقوب نے کہاکہ نیم بیوہ خواتین کا مسئلہ بہت ہی سنگین ہے۔ وہ نہیں جانتیں کہ ان کے شریک حیات زندہ ہیں یا وفات پاچکے ہیں۔ وہ دوبارہ شادی نہیں کرسکتیں اور نہ ہی وہ اپنے خاوند کی املاک کو تقسیم کرسکتی ہیں۔

انہوں نے عالمی امداد کے بے اثر ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ عالمی سطح پر کوشش کی جائے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں خصوصاً خواتین کی مشکلات کم ہوں۔

پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کے سربراہ مشال ملک نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بہت ہی زیادہ مصائب کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں ریپ  کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ کشمیری خواتین جو اپنے خاوند، بھائیوں اور بیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، اس وقت سماجی اور مالی مسائل کا سامنا کررہی ہیں۔

سلک تنظیم کی شریک بانی حولہ صدیقی نے کہاکہ ہمیں مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے مسائل خصوصاً ان پر جنسی تشدد کو سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنا چاہیے۔ ہمیں ان خواتین کے مصائب کو زیادہ سے زیادہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی آواز دنیا تک پہنچ سکے۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی نیم بیوہ خواتین کے بارے میں بتایا کہ دس ہزار سے زائد کشمیری مرد گم شدہ ہیں جن کی بیویاں، مائیں اور بہنیں اب بھی انتظار کررہی ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتی کہ وہ مرچکے ہیں یا زندہ ہیں۔

کشمیر گوبل کونسل کی رکن ثریا صدیقی نے بھی کشمیری خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

یوتھ فورم آزاد کشمیر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ماریہ اقبال ترانہ نے کہاکہ  مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر بھی آئے دن کشمیری خواتین اور بچے بھارتی وحشیانہ حملوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی تشدد کے بارے آزادانہ تحقیقات کروائی جائے۔ کانفرنس کے حتمی مرحلے میں سوال و جوابات کی نشست تھی جس کے دوران شرکا نے مقررین سے سوالات پوچھے اور اپنے تاثرات بیان کئے۔

کانفرنس کے اختتامی مرحلے پر میزبان ماریان لوکس نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

کانفرنس کے اختتام پر چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید کہاکہ ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور خاص طور پر خواتین کے مصائب کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں گے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون آصبہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی آواز کو یورپی فورمز پر بلند کریں گے۔

….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں