46

وزیراعظم آزاد کشمیر کے حامیوں نے مظفرآباد وزیراعظم ہائوس کے قریب حملہ کردیا

یہ یکم مارچ ہے رات قریب 10:45 کا وقت ہے جب مجھے C.M.H روڈ پر دیوار گرنے اور مشین آپریٹر کے زخمی ہونے کی اطلاع بزریعہ واٹس ایپ گروپ ملی۔ قریب ہی دوست ہمزہ کاٹل کو خبر کی تصدیق کے لئے فون کیا جو موقع پر پہنچ چکے تھے۔ 11بجے تک میں بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔ کیمرے کی آنکھ سے منظر کشی ممکن نہیں تھی تاہم لب روڈ زمینی کٹاو کے باعث عالی جناب ریاست کے آخری وزیراعظم راجہ فاروق کے محل کی دیوار سلائیڈ کرنے کے باعث مشینری پھنسی ہوئی تھی۔ یہی وقت ہے کہ جب ہم پر نہ جانے کس غیر قانونی دھندے کو چھپانے کے لئے جناب وزیراعظم کے دم چھکوں نے حملہ کردیا، تشدد شروع کر دیا گیا۔ ہمارے لوگو مائیک بھی چھین لیے گئے موبائل بھی توڑ دیا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جاتی رہی رہیں۔ کان سے خون بہنے لگا تو سی ایم ایچ کی ایمرجنسی میں ابتدائی طبی امداد کے لئے پہنچا جہاں پر دیگر دوست بھی پہنچنا شروع ہوگئے۔ صدر YJF نعیم چغتائی پولیس کو بزریعہ درخواست واقعے کی اطلاع دینے کا کہا اور دیگر دوستوں نے مشورہ دیا کہ قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ اسی لیے ایڈوکیٹ ہائی کورٹ اسلم رضا صاحب کو بھی بلایا گیا۔ یوں ہم تھانہ سٹی میں درخواست دینے پہنچ گئے۔ گھنٹہ بھر خالی کرسیوں کو دیکھنے کے بعد SHO وارد ہوئے اور درخواست کو دیکھنے لگے۔ کمرے میں سکوت بندھ گیا۔ قریب 15 منٹ بعد نعیم چغتائی گویا ہوئے کہ جناب ایس ایچ او صاحب ہمارے لئے کیا حکم ہے۔ بغیر وردی کچھ اہلکار بلائے اور دوسرے کمرے میں لے جاکر بٹھانے کا کہا اور یوں کمرے سے سب لوگوں کو باہر لے گئے۔ ایس ایچ او صاحب نے ساتھ ہی ایک سپاہی کو کہا کہ سب کی تلاشی لے کر انہیں حوالات میں بند کر دو۔ یہ بات میرے لئے انتہائی غیر معمولی تھی۔ اب مجھے اندازا ہو چکا تھا کہ دروغہ صاحب نے تیاری کرلی ہے۔ حد تو یہ تھی کہ ہمارا وکیل بھی حوالات کی سیر پر تھا۔ مجھ سے ایس ایچ او صاحب کے حکم پر موبائل بھی چھین لیے گئے اور ایک کمرے میں بند کردیا گیا۔ جہاں مجھے صبح چار بجے تک قید کردیا۔
باہر نکلے تو حکم ہوا کہ آپ اپنا میڈیکل پھر سے کروائیں اور گھر جائیں اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم پڑا کہ رپورٹر جی این این مظفرآباد نعیم چغتائی، نواز ڈار، صدیق احمد اور ہمزہ کاٹل کے خلاف غیر قانونی اسلحہ، کار سرکار میں مداخلت اور گالم گلوچ کی ایف آئی آر درج کی جاچکی تھی۔ جب کہ ان سے ملاقات پر بھی پہرے سخت کر دیئے گئے ہیں اور یوں داد رسی کے لئے پولیس سے رجوع کرنے کرنا ایک جرم ثابت ہوا۔
آپ بیتی
تقی الحسن رپورٹر دنیا نیوز مظفرآباد بیورو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں