95

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے پولیس، سی ٹی ڈی،آئی ایس آئی اور آئی بی کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا مستردکرتے ہوئے کہا بار کے نمائندے ملوث وکلا کی نشاندہی کریں اور ان کے نام جے آئی ٹی کو دیں، پانچ گھنٹے ججز کو یرغمال رکھ کر جو وکلا گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوئے انہیں مثالی سزا ملنی چاہیے۔یہ معاملہ قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے۔ چیف جسٹس پاکستان کو بتا دیا تھا کوئی ایکشن لے کر ہائی کورٹ کو میدان جنگ نہیں بننے دوں گا، اس بات ک لیے بھی تیار تھا کہ وکلا آئیں اور بے شک مجھے جان سے بھی مار دیں
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ہائی کورٹ پر حملہ کے بعد بے قصور وکلا کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کی تو بار کے سیکرٹری سہیل اکبر چودھری عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور استدعا کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے کہا ایک وکیل کا نام آتا ہے اور پولیس اس نام کے تمام وکلا کو پکڑنا شروع کر دیتی ہے، ہم سب بہت شرمندہ ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے میں نے اپنی آنکھوں سے بار کے صدر اورسیکرٹری کو بے بس دیکھا۔ کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا اگر مگر نہیں چلے گا قانون اپنا رستہ خود بنائے گا۔ ہائی کورٹ پر دھاوا بولا گیا اور یہ ناقابل برداشت ہے۔ ملوث لوگوں کو مثالی سزا ملنی چاہیے۔ جے آئی ٹی نے رپورٹ دی ہے کہ وکلا اور بار ان سے تعاون نہیں کر رہے۔ میں نے چیف جسٹس پاکستان کو بھی بتایا کہ کوئی ایکشن لے کر ہائی کورٹ کو میدان جنگ نہیں بننے دوں گا، وکلا کو کہا کہ آپ آئیں اور آ کر بے شک مجھے مار دیں مگر ایکشن لے کر اس کو تماشہ نہیں بناؤں گا۔ صرف میرا ایشو نہیں، آٹھ دیگر ججز کو بھی محصور رکھا گیا، یہ ادارے کا معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کو معلوم ہے کہ وہ پلاننگ کے ساتھ آئے تھے اور باہر میڈیا والوں کو مارا اور وڈیوز ڈیلیٹ کی ہیں۔ اگر ایسا کسی سیاسی جماعت کے لوگوں نے کیا ہوتا تو ریاست ان کے ساتھ کیا کرتی؟ شیر افضل ایڈووکیٹ نے کہا عدالت عالیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ہم سب کو دکھ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں