84

اٹک پولیس کی طرف سے دی گی 302 کی جھوٹی ایف آئی آر کا معاملہ* *کچھ دن قبل نشاندہی کی گئی تھی ثبوت سب کے سامنے حاضر ہے*

*@JournoMalik*

*وزیر اعلی پنجاب آئی جی پنجاب اور آر پی او ایکشن لیں*

*اٹک پولیس کی طرف سے دی گی 302 کی جھوٹی ایف آئی آر کا معاملہ*

*کچھ دن قبل نشاندہی کی گئی تھی اج ثبوت سب کے سامنے حاضر ہے*

*یہ کال ڈیٹا ریکارڈ ثبوت ہے کہ ایف آئی آر میں درج ٹائم مورخہ 18 جنوری کے مطابق دونوں باپ بیٹا سفطین اور اُس کا والد پرویزاٹک کورٹس کے آس پاس اور اُس کے بخشی خانے کے پاس تھے ہی نہیں بلکہ “ہٹیاں (کامرہ) کے میں تھے اور 23 دن بعد ایس پی انویسٹیگیشن اٹک عمارہ شیرازی نے سفطین کی درخواست اور بیان میں اپنے ناانصافی کمنٹس پر تنقید پڑھکر جھوٹا کیس بنوا دیا*۔

*جس مُلک کے افسر انا پرست ، خود پسند اور ناانصافی کرنے والے ہونگے اُس ملک کا معاشرہ خوشحال اور امن پسند نہیں ہو سکتا اور اُس ملک کے فیلڈ ملازمین اور اہلکار لازمی لازمی کرپٹ اور ظالم ہونگے*

*تفصیلات*

*‏مظلوم کی آواز بننے سے ظلم کم ہو نہ ہو ظالم کی بربادی کا آغاز ضرور ہو جاتا ہے*

مُلک جنگل بن چُکا ہے ایس پی انویسٹیگیشن اٹک نے ظُلم کی حد کر دی۔ عمران خان تیرے “نئے پاکستان” میں انصاف نہیں اور ظُلم پر آہ کرنا بھی جُرم بنا دیا جاتا ہے سب انسپیکٹر عاطف حسین نے تھانہ رنگو اٹک پولیس کی مدد سے سفطین ولد پرویز اور اُس کے پانچ کس بھائیوں کو یکم ستمبر کی رات ایک بجے چادر اور چاردیواری کو پامال کرتے ہوئے بغیر کسی وارنٹ اور بغیر کسی ایف آئی آر میں نامزدگی کے غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہو کر ے تشدد کا نشانہ بنایا اور اُٹھا کر لے گیا اور چالیس کلومیٹر دور تھانہ باہتر اٹک میں حبس بے جا میں رکھا۔
حضرو سرکل کے عاطف حسین SI/HIU کے موبائل
0300 5233923-0333 5304904 ، عثمان ہیڈ کانسٹیبل1545 موبائل نمبر 03125736273 کا یکم ستمبر، 4ستمبر اور 5 ستمبر کا کال ڈیٹا کی لوکیش اور سعید ڈرائیور موبائل نمبر03015532783 کا 5 ستمبر کے کال ڈیٹا ریکارڈ کی لوکیشن ان تینوں کی تھانہ رنگو تا تھانہ باہتر آمدورفت کا واضح ثبوت ہے۔ جبکہ تھانہ رنگو حضرو سرکل کے اہلکاروں سفطین ASI کے موبائل 03009581817، عادل رحمن کانسٹیبل کے موبائل 03115133236 اور جابر کانسٹیبل کے موبائل 03128705885 کی یکم ستمبر تا 5 ستمبر تھانہ باہتر میں موجودگی اُن کے کال ڈیٹا ریکارڈ لوکیشن سے ثابت ہے ۔ سفطین کے بھائیوں صدام، عمران، فیضان اور بابر کے خلاف 3 ستمبر کو دُہرے قتل کا ایک جھوٹا تتیمہ بیان بنایا گیا اور اُن کو تھانہ باہتر سے 4 ستمبر کو صدام 5 ستمبر کو باقی سب کو تھانہ رنگو شفٹ کیا گیا۔ اور پھر وہاں مزید دو دن حبس بے جا میں رکھا گیا۔ اور 7 ستمبر کو قتل کے کیس میں سفطین کے چار بھائیوں کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا جبکہ 8 ستمبر کی صبح سفطین کو تھانہ باہتر سے چھوڑ دیا گیا جبکہ اُس کے باقی بھائیوں کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے لے گئے۔ یکم کو سفطین اور اس کے بھائیوں صدام، عمران ، فیضان، شاہزیب اور بابر کو گرفتار کیا گیا تھا چار بھائیوں کی قتل میں گرفتار ڈالی گئی جبکہ یکم ستمبر کی رات اُٹھائے گئے سفطین کے بھائی شاہزیب کی 13-2a-65 میں گرفتاری ڈالی گئی جس کی ضمانت 8 ستمبر کو ہوئی۔
شاہزیب کا موبائل نمبر 03175407069 یکم ستمبر تھانہ باہتر حبس بے جا میں بند ہونے سے لیکر 8 ستمبر تھانہ رنگو سے باہر آنے تک بالکل بند ہے اور یہ ثبوت ہے کہ اُسے پولیس نے اُٹھایا تھا۔
اس ظُلم اور قہر کے خلاف سفطین نے پہلے بھی درخواستیں دیں جبکہ 20 جنوری کو باقاعدہ ڈی پی او کے سامنے اپنے والد کو لیکر پیش ہوا اور ڈی پی او اٹک کو ڈائری نمبر 144 درخواست دی اور وزیراعظم، آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی درخواستیں بھیجی تھیں جس پر ڈی پی او اور ایس پی انویسٹی گیشن نے کاروائی نہ کی تو سفطین نے عدالت میں 22-A دائر کر دی۔
جس پر ایس پی انویسٹی گیشن اٹک نے سفطین کو بُلایا اور اُس کو سننے کی بجائے اُلٹا ڈانٹ ڈپٹ کر کے اور بغیر توجہ سے سنے باہر بھیج دیا اور عدالت میں جھوٹ پر مبنی کمنٹس جمع کروا دیے۔ جبکہ 25 جنوری کو بھی سفطین پر اور اُس کے والد پر ایلیٹ پولیس کی مدد سے سیشن کورٹ کے احاطے میں حملہ ہوا جس کی پولیس نے درخواست ڈائری 175۔CC دینے کے باوجود تھانہ سٹی پولیس اٹک نے FiR درج نہ کی بلکہ سفطین پر درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ ایف آئی آر نہ کرنے پر سیشن جج اٹک کو دوبارہ 22-A کی درخواست دی دونوں 22-A درخواستوں کی تاریخ 11 فروری مقرر ہے بعد ازاں مورخہ 3 فروری کو دوبارہ سیشن کورٹ اٹک کے احاطے میں سفطین پر حملہ ہوا اور 15 پر کال کر کے پولیس بلوانا پڑی۔ اُس کی بھی رپورٹ ڈی پی او اٹک آفس میں ڈائری نمبر 277-CC درخواست مورخہ 3 فروری 2021 کو دی گئی لیکن تھانہ سٹی پولیس نے کوئی ایف آئی آر درج نہ کی۔ جبکہ بعد ازاں 6 فروری کو سفطین کے کھیتوں میں کام کرتے چچا کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں تو اُس کی درخواست ڈائری نمبر ڈی پی او آفس اٹک ڈائری نمبر 297-CC درج کروائی گئی اور ہٹیاں چوکی تھانہ حضرو پیش ہو کر بھی درخواست دی جس پر کوئی کاروائی نہ ہوئی آج ایس پی انویسٹی گیشن نے سفطین کی دوسری 22-A کی درخواست کے نام پر بلوایا اور ایک جُھوٹی FIR بنوا کر گرفتار کروا دیا۔ اُس وجہ سفطین کا ایس پی انویسٹی گیشن کو جمع کروایا گیا جواب تھا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ ایس پی صاحبہ! آپ نے بجائے میری بات سننے کے عدالت میں جُھوٹے کمنٹس جمع کروائے اس لیے اب میں زبانی جواب دینے کی بجائے آپ کو اپنا تحریری بیان جمع کروا رہا ہوں یہ سُن کر ایس پی انویسٹیگیشن اٹک غصے میں آ گئیں اور پولیس والوں سے کہا کہ اسے گرفتار کر کے کوئی ایف آئی آر بنا دو۔ جس پر تھانہ سٹی کی پولیس کو بلوا کر سفطین کو گرفتار کر لیا۔ اور جھوٹی ایف آئی آر بنائی جا رہی ہے۔
یہاں بولنا جُرم ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں