57

طبقاتی نظام تعلیم نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردیں ۔ نہ جانے یکساں نصاب تعلیم کا وعدہ کب پورا ہوگا سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ طبقاتی نظام تعلیم نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردیں ۔ نہ جانے یکساں نصاب تعلیم کا وعدہ کب پورا ہوگا ۔ تین کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ، ہائر ایجوکیشن کے لیے مختص فنڈز میں مسلسل کمی ہورہی ہے ۔ طلبہ یونینز پر پابندی ہٹائی جائے ۔ طلبہ کو آئینی حق سے محروم رکھنا ظلم ہے۔ اشرافیہ خوفزدہ ہیں کہ یونیورسٹیوں اور کالجز سے اٹھنے والی بیداری کی لہر ان کی کشتی کو ہمیشہ کے لیے نہ ڈبو دے ۔ غربت کی بنیاد پر تعلیمی اداروں کو تقسیم کیا گیا ہے جو استحصالی نظام کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔ ظلم کا راج ہے ، قرضوں کا ہمالیہ قوم کے سروں پر مسلط کردیا گیاہے ۔ پاکستان کی لبرل اور سیکولر قیادت ناکام ہو گئی ۔ ممبران اسمبلی کی پارلیمنٹ کے فلور پر وہ گالیاں سنائی دیتیہیں جو گلیوں کے غنڈے بھی نہیں دیتے ۔ اگر سیاسی طور پر تربیت یافتہ افراد اسمبلیوں میں جائیں تو قوم کو یہ تماشا نہ دیکھنا پڑے ۔ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرسیاسی دکانداری چمکائی۔ اخلاق و کردار سے عاری لوگ قوم پر مسلط ہیں ملک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکاکہ سرمایہ دارانہ نظام کو دریا برد کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کا آغاز کیا جائے اور اس کو سہارا دینے والوں سے بھی جان چھڑائی جائے ۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ۔ اربوں ڈالر کا پانی ہر سال ضائع ہوتاہے۔ سودی نظام معیشت کی وجہ سے کروڑوں افراد کے گھروں میں غربت نے ڈیرے لگارکھے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس ملک کا مستقبل ہیں ،قیادت تیار ہو کر ملک کی باگ ڈور سنبھالے ۔ ڈسپلن اور نظم و ضبط سے طاقتور اشرافیہ سے مقابلہ کیا جاسکتاہے ۔ اسلامی انقلاب پاکستان کی منزل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے گجرات میں اسلامی جمعیت طلبہ کے 68 ویں اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر طارق سلیم امیر جماعت شمالی پنجاب اور ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حمزہ محمد صدیقی بھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہمارا مقابلہ استعمار کے ایجنٹوںسے نہیں بلکہ ان قوتوں سے ہے جو مسلم دنیا کے ریسورسز پر قابض اور امت مسلمہ کو اپنا غلام بنائے رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے ۔ ملک پر کمزور اخلاق سے عاری افراد حکومت کر رہے ہیں ۔ ان حکمرانوں نے کشمیر کا ز کو سبوتاژ کیا اور لاکھوں شہدا کے خون سے غداری کی ۔ انہوںنے کہاکہ غریب کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ان کے بچے سکول نہیں جاتے اور انہیں انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں ۔ قوم کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہتھکڑیاں پہنا دی گئی ہیں ۔ اب لوگوں کے پاس ایک چوائس ہے کہ اس نظام کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں اور تحریک اسلامی کے دست و بازو بنیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکمرانوں نے گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بناکر مودی کو یہ جواز مہیا کردیا کہ وہ کہے کہ آپ نے اپنی طرف وہی کام کیا ،جو ہم نے مقبوضہ کشمیر میں کیا ۔ سابقہ حکمران بھی کشمیر پر پسپائی کے برابر کے ذمہ دار ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سودی معاشی نظام کی وجہ سے دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے ، دوفیصد لوگ ملک کی تقدیر کے وارث بنے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف غریب نان شبینہ کا محتاج ہے ۔ ایک عام پاکستانی چالیس اقسام کا ٹیکس دیتاہے مگر اسے دو وقت کا کھانا میسر نہیں جبکہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ کوئی ٹیکس نہیں دیتا ۔ انہوںنے اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین پر زور دیا کہ وہ ملک میں اسلامی انقلاب کے سفیر بنیں اور انسانیت کی تعمیرکریں ۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ کو ایک ماڈل تنظیم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے سالانہ جمہوری عمل کی تعریف کی جس کے تحت ہر سال شفاف الیکشن کے ذریعے قیادت کا انتخاب ہوتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں اس سے سبق سیکھیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں