111

مظہر برلاس کا ناقابل اشاعت کالم

مظہر برلاس کا ناقابل اشاعت کالم

05/02/2021

موجودہ حکومت کو قائم ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ ایک دوپہر میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو مل کر نکلا تو راہداری میں چند ڈرائیوروں نے مجھے گھیر لیا، کہنے لگے ’’ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، ہمیں مختلف محکموں میں نوکری کرتے ہوئے کئی برس بیت گئے، ہماری تنخواہیں بیس تیس ہزار ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے ڈرائیوروں کی تنخواہیں لاکھوں میں ہیں، کیا یہ انصاف ہے؟‘‘ وہاں سے آواز اٹھانے کا وعدہ کر کے نکلا مگر گہری سوچوں میں کھو گیا کہ یہ کیسا نظام ہے جہاں ایک ہی سطح کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اتنا بڑا فرق ہے کہ ایک کی تنخواہ ہزاروں میں اور دوسرے کی تنخواہ لاکھوں میں حالانکہ رتبے کے اعتبار سے دونوں کی حیثیت ایک جیسی ہے۔

پھر مجھے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جن کے حق میں ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا مگر ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا پھر سوال اُبھرا کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کیوں کا جواب آیا کہ جہاں عدالتیں عملدرآمد کروانا چاہتی ہیں، وہاں عملدرآمد ہو جاتا ہے اور جہاں عملدرآمد ضروری نہیں سمجھا جاتا وہاں بس فیصلہ تھما دیا جاتا ہے۔جیسے اردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ ہے۔

خواتین و حضرات! پچھلے بارہ سال سے سیاسی حکومتوں نے صرف بدنامی کمائی، سیاسی پارٹیاں بے عزت ہوئی ہیں، ملک پر عملاً عدلیہ حکومت کر رہی ہے۔ سیاسی حکومتوں کے ہر فیصلے کو عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے، جس کو بےعزت کرنا مقصود ہو، اسے بےعزت کر دیا جاتا ہے، جسے اقتدار سے محروم کرنا ہو، اسے محرومی عطا کر دی جاتی ہے۔ کسی کے مقدر میں صرف محرومی آتی ہے تو کسی کے نصیب میں نااہلی بھی لکھ دی جاتی ہے۔

یہ سلسلہ یوسف رضا گیلانی سے شروع ہوا، راجہ پرویز اشرف کو بھی عدالتیں بلاتی رہیں، نواز شریف کو محرومی اور نااہلی ملی، شاہد خاقان عباسی کی بھی حاضریاں لگتی رہیں، اب عمران خان کی باری ہے۔ ہمارے سیاست دان فوج کو بدنام کرنے پر لگے ہوئے ہیں، انہیں یہ ادراک ہی نہیں کہ ان کے اقتدار میں عملاً حکومت عدلیہ ہی کرتی رہی ہے۔ ہائیکورٹ کے احاطہ میں ہوائی فائرنگ ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہاں قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

ڈرائیوروں کی تنخواہوں میں اتنے بڑے فرق کو جب وسیع پیمانے پر دیکھا تو پتا چلا کہ جو سول بیوروکریٹ یا آرمی افسر تیس پینتیس سال قوم کی خدمت کرتا ہے اسے ماہانہ پنشن تقریباً ایک لاکھ سے لے کر دو ڈھائی لاکھ تک ملتی ہے مگر جج صاحب خواہ پانچ سال ہی سروس کریں انہیں ماہانہ پنشن آٹھ سے دس لاکھ ملتی ہے۔ اتنی کم سروس کا اتنا بڑا معاوضہ، ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہوں گی۔ ویسے تو ہمارے ہاں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی سروس ہوتی ہی بارہ سے پندرہ سال ہے، کسی کی اٹھارہ سال ہو گئی تو کوئی بڑی بات نہیں، دس لاکھ ماہانہ پنشن کے ساتھ دیگر بہت سی مراعات بھی جج صاحبان کو مل جاتی ہیں۔ یہ سہولتیں تاحیات دی جاتی ہیں۔ کوئی چیف سیکرٹری یا آرمی چیف ریٹائر ہو، ان دونوں کی ماہانہ پنشن کو اگر جمع بھی کر لیا جائے تو وہ ایک جج کی پنشن سے کہیں کم بنتی ہے۔ یہی حساب تنخواہوں کا ہے، یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ ججز اپنی تنخواہیں بڑھاتے وقت کسی سے نہیں پوچھتے، وزارتِ خزانہ کو بھی اطلاع ہی ملتی ہے۔ ججز اپنی تنخواہیں خود بڑھاتے ہیں۔

آپ کو ایک اور بات پر بھی حیرت ہو گی کہ اعلیٰ عدلیہ اور نچلی عدلیہ کے ججوں کی عزت میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ یعنی نچلی عدلیہ کے ججز امتحان پاس کرکے آتے ہیں، انٹرویو دے کر آتے ہیں، انہیں عدالتوں میں تھپڑ بھی مارے جاتے ہیں تو توہینِ عدالت نہیں ہوتی مگر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے سامنے اگر کسی کو چھینک بھی آ جائے تو توہین عدالت ہو جاتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کوئی امتحان دیئے بغیر جج بنتے ہیں، ان کا تو شاید انٹرویو بھی نہیں ہوتا۔ بس جج بننے کیلئے سماجی و سیاسی روابط کا ہونا ضروری ہے۔ اسی لئے انصاف کی فراہمی میں ہمارا نمبر 121واں آیا ہے جبکہ آخری نمبر 128 ہے۔

میں نے حکمرانوں کو بارہا یہ تجویز دی ہے کہ فیڈرل سروس میں جہاں فارن سروس ہے، انفارمیشن سروس ہے وہاں جوڈیشل سروس بھی ہونی چاہئے۔ جیسے فوج میں آرمی چیف بننے کیلئے سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہونا ضروری ہے، آئی جی پولیس بننے کیلئے اے ایس پی بننا ضروری ہے یا چیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری بننے کیلئے مجسٹریٹ درجہ دوم یا اسسٹنٹ کمشنر بننا ضروری ہے۔ اسی طرز پر مقابلے کا امتحان ہو، چیف جسٹس بننے کیلئے سروس کا آغاز بطور سول جج ہونا چاہئے۔ اس سے انصاف میں بھی بہتری آئے گی اور کسی کا حق بھی نہیں مارا جائے گا، یہ بھی نہیں ہو گا کہ فلاں چیمبر کے اتنے جج بن گئے ہیں اور فلاں سیاسی پارٹی نے فلاں فلاں ہائیکورٹس میں اتنےجج بنوا لئے ہیں۔

ہماری عدلیہ کی تاریخ میں جسٹس ایم آر کیانی، جسٹس کارنیلیئس اور جسٹس دراب پٹیل کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ کبھی کسی نے سوچا کہ وہ مقابلے کا امتحان دے کر جوڈیشنل سروس کا حصہ بنے تھے؟ اس زمانے میں یہ آپشن دیا جاتا تھا کہ آپ ایگزیکٹو میں جانا چاہتے ہیں یا جوڈیشل سروس میں۔ جو اب ہو رہا ہے اس طرح نہیں ہوتا تھا۔ تازہ ترین مثال لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی ہے جنہوں نے لسٹ دے کر پھر واپس لے کر ججز کے انتخاب پر نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ یہ لسٹ محض اس لئے واپس لی گئی کہ اس میں کئی افراد کے بھتیجوں اور بھانجوں کا نام شامل تھا۔ اب اس پر خود عدلیہ کو غور کرنا چاہئے۔ اپنی تنخواہوں اور مراعات پر بھی غور کرنا چاہئے، کیا یہ سب انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے، کیا تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ان کے درجوں کے حساب سے ایک جیسی نہیں ہونی چاہئیں۔ کیا ایک غریب ملک میں تنخواہیں اور مراعات صدر اور وزیراعظم سے بھی زیادہ وصول کرنا جائز ہے؟ عطاالحق قاسمی یاد آ جاتے ہیں کہ

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں