64

قلندر مومند نامور شاعر، سیاسی کارکن، نقاد اور سچے پشتون سیاسی کارکن تھے، اسفندیارولی خان

قلندر مومند نامور شاعر، سیاسی کارکن، نقاد اور سچے پشتون سیاسی کارکن تھے، اسفندیارولی خان
پشتو زبان و ادب اور بالخصوص تنقید کے میدان میں انکے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جائیگا
وہ باچاخان کے تحریک کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہے، سختیاں برداشت کیں لیکن راستہ نہیں بدلا
آج بھی انکے شعر، تحاریر پشتون قوم کی ترجمانی کیلئے استعمال کئے جاسکتے ہیں
قومی تحریک میں شعرائ، ادیبوں، فنکار، ہنرمندوں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں
ایک استاد کی حیثیت سے قلندرمومند نے پشتو ادب کو بڑے بڑے نام بھی دیے
انکی محفل میں بیٹھا ہوا شخص خود استاد بن جاتا تھا، انکی کمی شاید ہی کبھی پوری ہوسکے گی
صاحبزادہ حبیب الرحمان قلندرمومند نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا
آج کی نئی نسل کو بھی اپنی زبان، ادب، تاریخ پڑھنی ہوگی اور اسکی ترویج کیلئے محنت بھی کرنی ہوگی
اے این پی سربراہ اسفندیارولی خان کا نامور نقاد، شاعراور افسانہ نگار قلندرمومند کی 18ویں برسی پر پیغام

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے نامور نقاد، شاعر، افسانہ نگار اور پشتو زبان و ادب کے استاد صاحبزادہ حبیب الرحمان قلندر مومند کی 18ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قلندر مومند نامور شاعر، سیاسی کارکن، نقاد اور سچے پشتون سیاسی کارکن تھے، پشتو زبان و ادب اور بالخصوص تنقید کے میدان میں انکے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جائیگا۔وہ باچاخان کے تحریک کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہے، سختیاں برداشت کیں لیکن راستہ نہیں بدلا۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ آج بھی انکے شعر، تحاریر پشتون قوم کی ترجمانی کیلئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ قومی تحریک میں شعرائ، ادیبوں، فنکار، ہنرمندوں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ایک استاد کی حیثیت سے قلندرمومند نے پشتو ادب کو بڑے بڑے نام بھی دیے۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ انکی محفل میں بیٹھا ہوا شخص خود استاد بن جاتا تھا، انکی کمی شاید ہی کبھی پوری ہوسکے گی۔صاحبزادہ حبیب الرحمان قلندرمومند نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔آج کی نئی نسل کو بھی اپنی زبان، ادب، تاریخ پڑھنی ہوگی اور اسکی ترویج کیلئے محنت بھی کرنی ہوگی تاکہ دنیا بھر میں نہ صرف اپنی زبان، تاریخ اور ثقافت کا لوہا منوائے بلکہ اپنا قومی فریضہ بھی ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں