سوات پولیس کا خواتین پر سر عام تشدد 100

خواتین پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش کا نوٹس ملوث پولیس آفسران /اہلکاران کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا، اور اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم بھی دیا گیا

خواتین پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش کا نوٹس
ملوث پولیس آفسران /اہلکاران کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا، اور اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم بھی دیا گیا

تفصیلات کے مطابق: گزشتہ روز سیدو شریف کے محلہ برکلے سے ایک شخص تھانہ سیدوشریف آکر رپورٹ درج کرتے ہوئے کہا کہ ہم اہل خانہ کے ہمرہ سیر کرنے کے لئے ملم جبہ گئے تھے اور گھر کے سارے کمرے اور مین گیٹ کو تالا لگایا تھا، شام کے قریب گھر پہنچ کر گھر کا تالا کھولا پایا گیا، گھر کے اندر جا کر دیکھا تو کھڑی کی پر لگا ہوا جال بھی کٹ شدہ تھا، گھر کے تالاشی لینے پر معلوم ہوا کہ گھر سے کسی نامعلوم ملزم/ملزمان نے چوری کرکے 19تولے سونا اور نقدرقم 99000چوری کرکے لے گئے ہیں۔ جس پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، پولیس ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے تین خواتین کو گرفتار کر لیا، گرفتار خواتین میں مسماۃ رخسانہ زوجہ علی خان، مسماۃ محبوبہ زوجہ سلیمان، مسماۃ حضرہ زوجہ اقبال سکنہ بنوں حال بٹ خیلہ کو گرفتار کر لیا، گرفتار چور گروہ سے مال مسروقہ 19تولے سونا اور 99ہزار نقد رقم برآمد کی۔
آج مورخہ 03-02-2021کو سوشل میڈیا پر درجہ بالا چوری کرنے والے خواتین پر تشدد کرنے کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں پولیس اہلکاران گرفتار خواتین پر تشدد کر رہے ہیں،وائرل شدہ ویڈیو پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے وقوعہ میں ملوث سب انسپکٹر رفیع اللہ ایس ایچ اُو تھانہ سیدو شریف، سب انسپکٹر آیاز ایڈیشنل ایس ایچ اُو کوکارئی، کانسٹیبل فضل خالق، کانسٹیبل محمد عالم، کانسٹیبل اسحاق کو معطل کرکے لائن حاضر کر لیا اور ملوث اہلکاران کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم کرتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن نذیر خان اور ڈی ایس پی سٹی پیر سیدخان، ڈی ایس پی کبل بادشاہ حضرت پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل کرکے 24گھنٹوں کے اندر اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ طلب کی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں