107

فواد چوہدری نے بول کے اینکر سمئع ابراہیم کی ان کی نااہلی کیلئے دائر کی گئی درخواست کو بلیک میلنک واردیتے ہوئے خارج کرنے کا مطالبہ کیا چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فواد چودھری سے لہا کہہمیں بتایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ججوں کو گالیاں دی جارہی ہیں، سیاسی قائدین چائیں تو گالی کا یہ کلچر تبدیل کیا جا سکتا

*اسلام آباد ہائیکورٹ*

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

عوامی نمائندوں کی نااہلی کے لئے دائر تمام درخواستوں پر ایک ہی بار فیصلہ ہو گا عدالت نے رجسٹرار آفس کو تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دے دیا چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک ہی بار اس معاملے کو نمٹا دینا چاہتے ہیں تاکہ سائلین کو سن سکیں، نو مارچ کو تمام درخواستیں یکجا کر کے مقرر کی جائیں ، اس معاشرے کی اخلاقیات ختم ہو چکی ہیں، ہم آنے والی نسلوں کو اس کلچر سے تباہ کر رہے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں فواد چوہدری کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر سماعت عدالت آپ کی درخواست کیوں سنے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ کا درخواستگزار سے سوال اور کہا کہ عوامی نمائندوں کیخلاف درخواستوں پر ہمارا ایک مستقل موقف رہا ہے ، جہاں عوامی مفاد کو ٹھیس پہنچتا ہو، عدالت کا اختیار ہے وہاں احتراز برتے، عدالتوں کو سیاسی معاملات میں استعمال کرنے سے عدالت کا نقصان ہوتا ہے، چیف جسسٹس نے کہا کہ سیاسی معاملے پر جس طرف بھی فیصلہ کریں دوسری سائیڈ تنقید کرتی ہے، ایسی درخواست عدالت کیوں سنے جس پر تنقید عدالتوں کو ہی سہنا پڑے، ہم نے خواجہ آصف کیس میں نااہلی کافیصلہ دیا بھی تھا ، سپریم کورٹ نے وہی فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا ، جب کسی عوامی نمائندے کو نااہل کریں تو نقصان حلقے کے عوام کا ہوتا ہے،جو کچھ عدالتوں کے ساتھ ہوُرہا ہے عدالتیں کیوں اب یہ سنیں؟ درخواستگزار سمیع ابراہیم نے کہا کہ جہاں قانون کی خلاف ورزی ہو تو فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے، نوازشریف کو بھی عدالت سے ہی نااہل قرار دیا گیا تھا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جسٹس کھوسہ نے پارلیمنٹ کو یہ بھی تھا کہ باسٹھ ون ایف میں ترمیم کریں،اگر یہ ایسے ہی رہا تو ہم سب اس قانون کے تحت نااہل ہو سکتے ہیں، اگر عوام غلط لوگوں کو منتخب کر رہے ہیں انہیں کرنے دیں،سیاسی معاملات کے فیصلوں سے عدلیہ پر اثرات پڑ رہے ہیں ہمیں عوام کے فیصلوں پر اعتبار ہے، اگر اہلیت اور نااہلی کے فیصلے کرنے ہیں تو عدالت سے باہر کریں، عدالت
اگر ہم نے فیصلہ دیا تو اس بار نااہلی کی تمام درخواستوں کو اکٹھا کر کے دیں گے، ایک ہی بار سب پر فیصلہ دے دیتے ہیں تاکہ ہم اصل سائلین کو سنیں،
وفاقی وزیر فواد چوہدری کیس کی پیروی کے لئے خود عدالت پیش ہوئے ان کا موقف تھا کہ عدالت کے سامنے جو کیس آیا یہ بلیک میلنگ کا کلاسیک کیس ہے، عدالت کا کام ہے ہمیں بلیک میلنگ سے بھی بچائے ،
سمیع ابراہیم کی درخواست ہرجانے کے ساتھ خارج کی جائے، فواد چوہدری یہ کوئی طریقہ نہیں کہ پہلے بلیک میل کرے کوئی پھر پیسے مانگے ، اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا فواد چوہدری سے مکالمہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ججوں کو گالیاں دی جارہی ہیں، سیاسی قائدین چائیں تو گالی کا یہ کلچر تبدیل کیا جا سکتا جو بلیک میلنگ کا کلچر آپ بتا رہے ہیں اسے تبدیل بھی آپ کر سکتے ہیں، ہم اس بلیک میلنگ کے کلچر کے خلاف ہی کھڑے ہیں،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں