90

پیمرا بل پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سانے صحافیوں نے افہام و تفہیم کی اپیل کردی

چیئرمین قائمہ کمیٹی اطلاعات سینیٹر فیصل جاوید خان کی طرف سے میڈیا کارکنان کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ سے متعلق دوبارہ لانے کا اعلان۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید کی طرف سے بل کی موجودہ شکل میں دوبارہ مخالفت کا اعلان۔ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے افہام و تفہیم سے دوبارہ بل لانے کی اپیل کردی۔

اسلام آباد

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت اجلاس ، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بہزادسلیمی اور سیکرٹری اطلاعات علی شیر کی خصوصی دعوت پر شرکت ۔ پیمرا ترمیمی بل 2020 سینیٹ سے مسترد ہونے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ صدر پی آراے بہزاد سلیمی نے اپوزیشن کی مخالفت کے باعث پیمرا ترمیمی بل مسترد ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس بل کی مخالفت کرکے الیکٹرانک میڈیا کے کارکنان سے دشمنی کی گئی ہے جو کئی کئی ماہ تنخواہیں نہ ملنے سے پیداشدہ معاشی دبائو کے باعث موت کے منہ میں جارہے ہیں ۔ پی آراے آزادی صحافت کے ساتھ ساتھ میڈیا کارکنوں کے حقوق کے تحفظ پر پختہ یقین رکھتی ہے ۔ اگر پیمرا ترمیمی بل میں کوئی خرابی تھی تواسے درست کیا جانا چاہئے تھا نہ کہ اسے یکسر مسترد کیا جانا چاہیے تھا ۔ سینیٹر پرویز رشید نے پیمرا ترمیمی بل کو آزادی صحافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے آئندہ بھی اس کی مخالفت جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہاُکہ الیکٹرانک میڈیا کے کارکنان کی تُنخواہوں کا معاملہ ویج بورڈ ایوارڈ کو بھیج دینا چاہئے ۔ صدر پی آراے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ الیکٹرانک میڈیا کارکنان ویج بورڈ ایوارڈ کے دائرہ کار میں ہی نہیں آتے۔الیکٹرانک میڈیا کارکنان کی تنخواہوں کے مسئلہ کے حل اور ان کے حقوق کو تحفظ دینے کے لئے نئے قانون کی ضرورت ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی اطلاعات فیصل جاوید نے یقین دلایا کہ اپوزیشن سے مزید مشاورت کرکے دوبارہ بل لائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں