91

اسلام آباد ہائیکورٹ اے پی پی میں دی گئی غیر قانونی ترقیوں کے احکامات کی منسوخی کے حوالے سے اہم کیس کی سماعت آج کرے گی

اہم خبر28 جنوری 2021 ء بروزجمعرات

اسلام آباد ہائیکورٹ اے پی پی میں دی گئی غیر قانونی ترقیوں کے احکامات کی منسوخی کے حوالے سے اہم کیس کی سماعت آج کرے گی،فریقین کے وکلا دلائل پیش کریں گے

اسلام آباد ( ): اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس غلام اعظم قمبرانی آج 29 جنوری بروز جمعہ کو دوپہر 2 بجے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان کے زیر انتظام کام کرنیوالے قومی سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (اے پی پی ) میں رپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈ تھری کی گریڈ ٹو میں ترقیوں کے ضمن میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر محکمانہ پروموشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ترقیاں منسوخ کرنے کے حوالے سے دائر رٹ پٹیشنز کی سماعت کریں گے جس میں پٹیشنرز سید یاور عباس اور ممتاز سلیم لنگاہ وغیرہ سمیت فریقین کے وکلا دلائل پیش کریں گے ۔ گزشتہ تاریخ سماعت 21 جنوری 2021 پر سال 2005 اور 2007 میں خالصتاً میرٹ، ایم اے ماس کمیونیکیشن تعلیم اور قومی صحافت میں بطوررپورٹر/سب ایڈیٹر 5 سالہ تجربہ کی بنیاد پر ملک گیراخبار اشتہارات،ٹیسٹ، انٹرویو کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے رپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈ تھری کی جانب سے سید یاور عباس کے توسط سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن نمبر864/2020 اور ممتاز سلیم لنگاہ رپورٹر /سب ایڈیٹر گریڈ تھری و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن نمبر1796/2020 میں پٹیشنر زکے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ کیسز ہذا میں تمام فریقین کو نوٹس جاری و موصول ہوچکے ہیں اور جن چند اہلکاروں کی عدالتی نوٹسز کی تعمیل نہیں ہوئی تھی ان کی عدالت عالیہ کے حکم پر منیجنگ ڈائریکٹر ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن کے ذریعے تعمیل ہوچکی ہے لہٰذارٹ پٹیشنز کو بحث کیلئے مقرر فرمایا جائے جس پر جسٹس غلام اعظم قمبرانی نے فریقین کے وکلا کوآج29 جنوری بروز جمعرات کودوپہر2 بجے بحث اور دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ پٹیشنرز کی جانب سے وفاقی سیکرٹری انفارمیشن حکومت پاکستان، منیجنگ ڈائریکٹر ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور محکمانہ پروموشن کمیٹی کے ارکان کےخلاف دائر کی گئی رٹ پٹیشنز میں موقف اختیار کیاگیا کہ انہیں تاریخ تقرری، ڈیٹ آف جوائننگ، ڈیٹ آف برتھ سمیت ہر طرح سے سینئر ہونے کے باوجود بعض قوانین کی اپنی پسند کے مطابق تشریح کرتے ہوئے سینئررپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈ ٹو کے عہدہ پر ترقی دینے کی بجائے ان کے جونیئرز کوسینئررپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈ ٹو کے عہدہ پرترقی دیدی گئی ہے مگر انہیں سنیارٹی کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے ترقی سے محروم کردیا گیاہے اور وہ سال 2005 و سال2007 سے اب تک 15 سالہ اور 13 سالہ سروس کے باوجود ایک ہی عہدہ پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نےموقف اختیار کیا کہ جب 15 اور 13 سال قبل ان کی تقرری اور جوائننگ ہوئی تھی اس وقت انہیں کسی پیپر مارکنگ نمبروں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا لیکن اب کیس دائر ہونے پر اے پی پی انتظامیہ نے خود ساختہ پیپر مارکنگ کے نمبر لگاکر ان حاصل کردہ نمبرز کی بنیاد پر سنیارٹی لسٹ تیار کی اور منظور نظر افراد کو زیادہ جبکہ دیگر افراد جن کی سفارش نہ تھی انہیں کم نمبر دیکر جونیئر قرار دیدیا حالانکہ سرکاری ملازمت میں سنیارٹی صرف ڈیٹ آف جوائننگ اور ایک ہی وقت میں زیادہ افراد کے جوائن کرنے کی صورت میں تاریخ پیدائش کے کرائی ٹیریا کے مطابق فکس کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں انہیں سنیارٹی لسٹ کے حوالے سے میرٹ لسٹ /حاصل کردہ نمبروں کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تھی نیزاس دورا ن اے پی پی ہیڈ آفس نے متعدد بار سنیارٹی لسٹیں جاری کیں لیکن میرٹ اور حاصل کردہ نمبرز کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیاجبکہ18اپریل 2012کو جاری کردہ سنیارٹی لسٹ اور2مئی 2018کو رپورٹرز/سب ایڈیٹرز گریڈتھری کی جاری کردہ سنیارٹی لسٹ میں بھی بھرتی سے قبل تحریری پیپر کے حاصل کردہ نمبرز کے حوالے سے کہیں ذکر نہیں ہے لیکن بعد میں اے پی پی انتظامیہ نے اپنے غیر قانونی اقدام کو تحفظ دینے کیلئے اب اتنے سالوں بعد خود ساختہ پیپر مارکنگ لسٹ تیار کرلی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ انہوں نے استدعا کی کہ سال 2020 میں خود ساختہ سنیارٹی لسٹ کے تحت منظور نظررپورٹرز/سب ایڈیٹرزگریڈ تھری کوناجائز طور پرسینئر رپورٹرز/سب ایڈیٹرزگریڈ ٹو کے عہدہ پر دی گئی تمام ترقیاں منسوخ کی جائیں اور انہیں ڈیٹ آف جوائننگ و عمر میں سینئر ہونے پر قواعد کے مطابق ترقیاں دینے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔ عدالت عالیہ نے سماعت پرپٹیشنرز کے وکلا کے دلائل سنے اور فریقین کے مزید دلائل کیلئے سماعت آج 29 جنوری بروز جمعہ تک ملتوی کردی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں