87

آزاد کشمیر میں پولیس کی زیادتیاں نوجوان کو زبرستی گاڑی میں ڈالنے کی کوششیں ناکام نوجوان کو عدالت طلب کرتے ہوئے تمام دفعات کی ضمانت لے لیکر میڈیکل کے لیے روانہ کر دیا میرا بیٹا بے گناہ ہے پولیس اہلکار اپنے پاس سے چرس ڈال کر گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے

پٹہکہ/
چوکی پولیس پٹہکہ کے اہلکاروں کا نوجوان پر سر عام تشددپولیس اہلکاروں نے زبیر احمد عباسی کو پٹہکہ پٹرول پمپ سے گرفتار کرنے کی کوشش کی اور زبردستی گاڑی میں ڈالنے کی کوشش سول کورٹ پٹہکہ کے گیٹ پر پولیس سے ہاتھا پائی اور جھڑپ پولیس اہلکار گرفتاری میں ناکام وکلا اور ججز قاضی صاحبان نوجوان پر پولیس تشدد کو دیکھنے کے بعد نوجوان کو عدالت طلب کرتے ہوئے تمام دفعات کی ضمانت لے لیکر میڈیکل کے لیے روانہ کر دیا میرا بیٹا بے گناہ ہے پولیس اہلکار اپنے پاس سے چرس ڈال کر گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے ارباب اختیار چوکی پولیس پٹہکہ کی جانب سے سر عام تشدد کا نوٹس لیکر کاروائی کریں نوجوان کے والد ریٹائرڈ مدرس قاری محمد آصف عباسی کی میڈیا سے گفتگو زبیر احمد عباسی منشیات فروش ہے اس سے قبل بھی دو مقدمات درج ہیں گزشتہ روز بھی منشیات فروخت کرنے کی اطلاع پر گرفتار کرنے کی کوشش کی چوکی پولیس پٹہکہ کا موقف تفصیلات کے مطابق پٹہکہ کڑیاں کے رہائشی زبیر احمد عباسی جس پر پولیس کی جانب سے منشیات فروخت کرنے کا الزام تھا کے والد قاری محمد آصف عباسی نے پٹہکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا کراچی سے منگل کی رات اپنے گھر پہنچا اور بدھ کے روز گاڑی سروس کروانے کے لیے پٹہکہ گیا پٹرول پمپ لے پاس سے سول کپڑوں میں ملبوس چار پولیس اہلکاروں نے زبردستی گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی اس دوران میرے بیٹے نے گرفتاری سے بچنے کے لیے شور شرابا کیا پولیس اہلکار بچے لو گھسیٹتے ہوئے سول کورٹ پٹہکہ کے گیٹ تک لے گے اس دوران گاڑی کے نیچے آکر زبیر کا پاوں زخمی ہوا اسی اثناء میں وہاں پر موجود وکلاء نے شور شرابا کیا دھوپ پر بیٹھے سول وسیشن کورٹ کی ججز اور قاضی صاحبان نے ساری صورت حال کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے نوجوان کو عدالت طلب کرتے ہوئے معاملے کی پوچھ گچھ کی اور پولیس کی جانب سے ہونے والے سر عام تشدد پر برہمی کا اظہار کیا اور زخمی نوجوان کی جملہ دفعات میں قبل از وقت ضمانت لیکر میڈیکل کے لیے بھیج دیا لڑکے کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس سے قبل بھی پولیس نے بے گناہ پرچے دیکر میرے بیٹے کو مجرم بنانے کی کوشش کی لیکن عدالت میں کچھ ثابت نہ کر سکی پولیس اہلکاروں کی سر پرستی میں منشیات فروخت ہو رہی ہے پولیس اہلکار بے گناہ لوگوں کے جیبوں میں چرس ڈال کر ان کے خلاف مقدمات قائم کرتے ہیں اعلی حکام سرعام بے گناہ لوگوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں