90

نوجوان صحافی عدیل سرورکا کردار صحافت اور اہل صحافت کے ہمیشہ زندہ رہے گا مقررین کا راولپنڈی پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں خراج عقیدت

26جنوری2021
راولپنڈی ()موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن نوجوان صحافی عدیل سرورکا کردار صحافت اور اہل صحافت کے علاوہ مختلف شعبوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا نبی پاک ﷺ اور اہل بیت اطہار کی محبت عدیل سرور کی زندگی کا محورومرکز تھی عدیل سرور اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات اوردین کی خدمت کے ساتھ مختلف مکاتب کے درمیان رابطوں میں کے لئے ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے رہے ان کی یاد اہل صحافت کے ساتھ شہر کی سیاسی، مذہبی و سماجی طبقات میں ہمیشہ زندہ رہے گی ان خیالات کا اظہار مقررین نے منگل کی شام راولپنڈی پریس کلب میں عدیل سرور(مرحوم)کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ریفرنس کا اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے کیا تھا ریفرنس سے پی ایف یو جے کے سیکریٹری ناصر زیدی،نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم، سیکریٹری انور رضا، پریس کلب کے سابق صدور فاروق فیصل خان، شکیل قرار،نیشنل پریس کلب کی جوائنٹ سیکریٹری شکیلہ جلیل،تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ترجمان سید قمر حیدر زیدی،بو علی مہدی، وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے نارکوٹکس شیخ راشد شفیق،سابق میئر راولپنڈی سردار نسیم،گرین ٹاسک فورس کے چیئر مین ڈاکٹر جمال ناصر،جماعت اسلامی کے رہنما رضا احمد شاہ، تحریک انصاف کے رہنماعارف عباسی، ساجدقریشی، جمعیت علما اسلام کے رہنما علامہ سید اظہار حسین بخاری،انجمن تاجران راولپنڈی کے صدر شاہد غفور پراچہ،سیکریٹری جنرل ندیم شیخ،عوامی تحریل کے رہنما غلام علی مسلم لیگ ن شعبہ خواتین کی رہنما ثمینہ شعیب،دربار شاہ چن چراغ کے سجادہ نشین سید اعتبار بخاری، پیپلز پارٹی کی رہنما سمیرا گل، شفقت ترابی، شیخ حمید،علی فرقان، ساجد شیخ اوراقبال ملک سمیت مختلف سیاسی و مذہبی اور سماجی شخصیات نے خطاب کیاجبکہ عدیل سرور مرحوم کے خالوڈاکٹر تنویرعلوی، ماموں زاد عبدالرؤف اور خالہ زاد اسد امان نے خصوصی شرکت کی مقررین نے کہا کہ عدیل سرور ایک انتہائی متحرک، خوش اخلاق، زیرک اور فہم وفراست کی حامل شخصیت تھے جو دنیاوی معاملات کے ساتھ حب رسول اور حب اہل بیت سے بھی سرشار تھے عدیل سرور ہمیشہ مقامی و قومی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے عدیل سرورکی یاد دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی اس موقع پر مختار آرگنائزیشن کی جانب سے عدیل سرور مرحوم کی خدمات کے صلے میں یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی جو ان کے خالو ڈاکٹر تنویر نے وصول کی جبکہ سینئر صحافی وائس آف امریکہ کے نمائندے اور بچپن کے دوست علی فرقان نے خصوصی مضمون پڑھا جس میں عدیل سرور مرحوم کی زندگی کا احاطہ کیا گیا تھا بعد ازاں عدیل سرور مرحوم اور ان کے والد کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا کی گئی یاد رہے کہ گزشتہ سال17اکتوبرکوعدیل سرور مندرہ چکوال روڈ پر اس وقت ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہو گئے تھے جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمرا گاؤں جا رہے تھے اس حادثے میں ان کے والدموقع پر انتقال کر گئے تھے جبکہ عدیل سرور 3ماہ سے زائد عرصہ موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد21جنوری کو خالق حقیقی سے جاملے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں