105

مسکرا ہٹیں بکھیر نے والے محبتییں بانٹنے والے المعروف دادا طفیل اختر انتقال کر گئے

مسکرا ہٹیں بکھیر نے والے محبتییں بانٹنے والے المعروف دادا طفیل اختر انتقال کر گئے اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن ۔۔۔ بے مثال رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی تھے شوبز صحافت میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے تھے اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

طاہر سرور میر نے فیس بک پر لکھا ہے” طفیل اختر دادا کے ساتھ آخری محفل پرویز کلیم صاحب کے ہاں سجی ، احتشام کی مہربانی کہ اس نے یہ محفل برپا کرنے کے لئے فول پروف کوآرڈینیشن کی ۔ اس رات بہت سی باتیں ہوئیں ہمیشہ کی طرح گزرے ہوئے زمانے سے لے کر ان دیکھے زمانوں کی باتیں
ثقافتی صحافت سے وابستہ ذیادہ تر لوگ پڑھتے کم اور لکھتے زیادہ ہیں دادا لکھنے سے پہلے پڑھتے تھے ۔ دھیمے لہجے کے ما لک دادا کا قلم چیختا چنگھاڑتا تھا ، انکی لکھاوٹ صحافت سے بلند اور ادب کے ہم پلّہ تھی ۔طنز انکی تحریر میں یوں قدرتی طور پر شامل تھی جیسے زرخیز زمین میں گھاس اور جڑی بوٹی اگتی ہیں ، طنز و مزاح کا میعار بلند ہو تو مشتاق احمد یوسفی کا نام اور کام ادب اعلیٰ کہلاتا ہے ۔ دادا کا قلم بھی قدرتی طور پر طنز ومزاح سے مرصع تھا

دادا کے قلم کا نمونہ ملاحظہ ہو
میں روزنامہ جنگ سے وابستہ تھا جہاں عاشق چوہدری میرے انچارج تھے اور بہت حوالوں سے نگار خانوں میں موضوع بحث رھتے تھے ۔ دادا نے اپنے ہفت روزہ میں اداکارہ ریما اور میری تصویر کی نیچے یہ کیپشن جمائی

روزنامہ جنگ کے جواں سال کلچرل رپورٹر ” معشوق چوہدری ” اداکارہ ریما سے خوش گپیوں میں مصروف ہیں

یہ شمارہ میرے سامنے آیا تو میں نے دادا کو نذر پیش کی ۔ ایسے پروفیشنل اور ایسے بزرگ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے ۔۔۔ پروردگار درجات بلند کرے ”

افسوس ناک اطلاع
لاھور میں سینئر صحافی طفیل اختر (دادا )کا انتقال ہوگیا ہے تدفین کل بروز منگل صبح ۱۱ بجے ہوگی
طفیل اختر مرحوم بہت فعال صحافی تھے ان کی تحریر کا انداز منفرد تھا
اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے لواحقین کو صبر عطا فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں