50

وفاقی شرعی عدالت نے سود کیخلاف درخواستوں پر 19 سال بعد فیصلہ سنا دیا سپریم کورٹ نے 2002 میں مقدمہ شریعت کورٹ کو دوبارہ فیصلے کیلئے بھجوایا تھا فیصلہ جسٹس سید محمد انور نے پڑھ کر سنا رہے ہیں

‏وفاقی شرعی عدالت نے سود کیخلاف درخواستوں پر 19 سال بعد فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے 2002 میں مقدمہ شریعت کورٹ کو دوبارہ فیصلے کیلئے بھجوایا تھا
فیصلہ جسٹس سید محمد انور نے پڑھ کر سنا رہے ہیں

اسلامی بینکنگ کا ڈیٹا عدالت میں پیش کیا گیا،سود سے پاک بنکاری دنیا بھر میں ممکن ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے پاک بینکنگ کے منفی اثرات سے متفق نہیں،معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے، فیصلہ

‏وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج سودی نظام کو خلاف شرع قرار دے دیا
ربا اور سود سے متعلق موجودہ قوانین شریعت سے متصادم ییں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

قوانین قرآن اورسنت کے مطابق بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے

‏بنکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول ربا کے زمرے میں آتا ہے، فیصلہ
بنکوں کا ہر قسم کا انٹرسٹ ربا ہی کہلاتا ہے، فیصلہ
قرض کسی بھی مد میں لیا گیا ہو اس پر لاگو انٹرسٹ ربا کہلائے گا، فیصلہ

‏اسلامی بنکاری نظام رسک سے پاک اور استحصال کیخلاف ہے،ملک سے ربا کا خاتمہ ہر صورت کرنا ہوگا،ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے،وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

‏ربا (سود )مکمل طور پر ہر صورت میں غلط ہے،۔وفاقی شرعی عدالت کا وفاقی حکومت کو اندرون و بیرونی قرض سود سے پاک نظام کے تحت لینے کی ہدایت

‏۔۔ربا سے پاک نظام زیادہ فائدہ مند ہوگا،سی پیک کیلئے چائنہ بھی اسلامی بنکاری نظام کا خواہاں ہے، وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ

انٹرسٹ ایکٹ 1839 مکمل طور پر شریعت کیخلاف قرار
سود کیلئے سہولت کاری کرنے والے تمام قوانین اور شقیں غیرشرعی قرار

‏تمام بینکنگ قوانین جن میں انٹرسٹ کا ذکر ہے وہ ربا کہلائے گا، فیصلہ
شریعت کورٹ نے قرض ادائیگی میں تاخیر پر انٹرسٹ لینے پر پابندی عائد کر دی
حکومت تمام قوانین میں سے انٹرسٹ کا لفظ فوری حذف کرے، فیصلہ

‏شرعی عدالت نے یکم جون 2022 سے انٹرسٹ لینے سے متعلق تمام شقوں کو غیر شرعی قرار دے دیا
۔
خلاف شریعت قرار دیے گئے تمام قوانین یکم جون 2022 سے ختم ہو جائیں گے، ویسٹ پاکستان منی لانڈر ایکٹ شریعت کیخلاف قرار

‏آئی ایم ایف، ورلڈ بنک سمیت بین الاقوامی اداروں سے ٹرانزیکشن سود سے پاک بنائی جائیں،شریعت کورٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں