71

3 اپریل کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بارے میں 5 دن بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ ساڑھے سات بجے سنایا جائے گا

،3 اپریل کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بارے میں 5 دن بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ ساڑھے سات بجے سنایا جائے گا

سپریم کورٹ
تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے
حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے، احمد اویس

آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد

پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دینگے، چیف جسٹس

کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیے گئے تھے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل

پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں، چیف جسٹس

اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس مظہر عالم

قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹم سے ہٹا دیا
ایم پی ایز عوام کے نمائندے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں؟ اعظم نذیر تارڑ
صدر مملکت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کے دلائل شروع

کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں، علی ظفر

کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ حاصل ہوگا؟ جسٹس مظہر عالم

کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے؟ جسٹس مظہر عالم

پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی؟ جسٹس جمال مندوخیل

کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے؟ جسٹس جمال مندوخیل

آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، علی ظفر

پارلیمان ناکام ہو جائے تو معاملہ عوام کے پاس ہی جاتا ہے، علی ظفر
آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے، علی ظفر
اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا؟ چیف جسٹس

اگر ججز کی آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے؟ علی ظفر

جیسے پارلیمنٹ عدلیہ میں مداخلت نہیں کر سکتی ویسے ہی عدلیہ بھی مداخلت نہیں کر سکتی، علی ظفر

کیا وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل پارلیمان کا اندرونی معاملہ ہے؟ چیف جسٹس

وفاقی حکومت کی تشکیل اور اسمبلی کی تحلیل کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے، علی ظفر

عدم اعتماد پر اگر ووٹنگ ہوجاتی تو معلوم ہوتا کہ وزیراعظم کون ہوگا، چیف جسٹس

وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد دونوں کا جائزہ عدالت نہیں لے سکتی، علی ظفر
پارلیمان کا استحقاق ہے کہ قانون سازی کرے، جسٹس جمال مندوخیل

اگر پارلیمان قانون سازی نہ کرے تو کیا ہوگا؟ جسٹس جمال مندوخیل

قانون سازی نہ ہو تو پرانے قوانین ہی برقرار رہیں گے، بیرسٹر علی ظفر

جمہوریت اور الیکشن کو الگ نہیں کیا جا سکتا، وکیل صدر مملکت

ووٹرز سب سے زیادہ بااختیار ہیں، علی ظفر

عدالت ماضی میں قرار دے چکی سیاسی مسائل میں دادرسی کا فورم عوام ہیں، علی ظفر

جونیجو حکومت کا خاتمہ عدالت نے خلاف آئین قرار دیا تھا، علی ظفر

جونیجو کیس میں عدالت نے کہا معاملہ الیکشن میں جا رہا ہے اس لئے عوام فیصلہ کرے گی، علی ظفر
جونیجو دور میں صرف اسمبلی تحلیل ہوئی تھی اور کچھ نہیں ہوا تھا، جسٹس مظہر عالم میاں خیل

عدالت نے انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، علی ظفر

موجودہ کیس میں اسمبلی تحلیل سے پہلے عدم اعتماد پر رولنگ ہے، جسٹس مظہر عالم

اسمبلی تحلیل ہوچکی، الیکشن کا اعلان ہوگیا ہے عدالت مداخلت نہ کرے، علی ظفر

عدالت کئی مقدمات میں قرار دے چکی کہ الیکشن میں مداخلت نہیں کر سکتے، علی ظفر

واضح کریں کہ کوئی آئینی بحران ہے تو کیسے ہے؟ چیف جسٹس

آئینی بحران کہاں ہے؟ ہمیں تو کہیں بحران نظر نہیں آ رہا، چیف جسٹس

وزیراعظم آئین کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہیں، چیف جسٹس

نگران وزیراعظم کا تقرر کا عمل بھی جاری ہے، چیف جسٹس

اس سب میں بحران کہاں ہے؟ سب کچھ آئین کے مطابق ہو رہا، چیف جسٹس
الیکشن کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی اقدام بدنیتی نہیں تھا، علی ظفر

اسمبلی کی اکثریت تحلیل نہ چاہے تو کیا وزیراعظم صدر کو سفارش کر سکتے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

منحرف اراکین کے باوجود تحریک انصاف اکثریت جماعت ہے، جسٹس اعجاز الاحسن

اگر اکثریتی جماعت سسٹم سے آئوٹ ہو جائے تو کیا ہوگا؟ جسٹس اعجاز لاحسن

سیاسی معاملے کا جواب بطور صدر کے وکیل نہیں دے سکتا، عکی ظفر

عدالت سیاسی معاملات میں نہ ہی پڑے، علی ظفر

علی ظفر کے دلائل مکمل
وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل شروع

عدالت ماضی میں اسمبلی کارروائی میں مداخلت سے اجتناب کرتی رہی ہے، امتیاز صدیقی
تحریک عدم اعتماد خالصتاً پارلیمان کی کارروائی ہے، مداخلت نہیں ہو سکتی، امتیاز صدیقی

اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کی صدارت پر اعتراض نہیں کیا تھا، وکیل وزیراعظم

ڈپٹی سپیکر نے اپنے ذہن کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا، امتیاز صدیقی

پارلیمان کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر نے جو فیصلہ دیا اس پر وہ عدالت کو جوابدہ نہیں، امتیاز صدیقی
قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی، چیف جسٹس

عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے، چیف جسٹس
ڈپٹی سپیکر کو کب بریفننگ ملی تھی؟ چیف جسٹس

قومی سلامتی کمیٹی کی ڈپٹی سپیکر کو بریفننگ کا علم نہیں، وکیل وزیراعظم

اگر آپکو معلوم نہیں تو اس پر بات نہ کریں، چیف جسٹس

وزیراعظم کو تحریک عدم اعتماد خارج ہونے کا علم ہوا تو اسمبلی تحلیل کر دی، امتیاز صدیقی

سپیکر نے تحریک عدم اعتماد 28 مارچ کو کیوں مسترد نہیں کی؟ چیف جسٹس

اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی سپیکر کی رولنگ ختم کر سکتا تھا، جسٹس اعجاز الاحسن

وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی، جسٹس اعجاز الاحسن
سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل شروع

سوال ہوا تھا کہ پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا، نعیم بخاری

پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پر لیا جا سکتا ہے، نعیم بخاری
کیا پوائنٹ آف آرڈر کے وقت سپیکر کو کوئی مواد دیا گیا تھا؟ جسٹس مظہر عالم

جہاں آپ نے اتنے تحمل سے کیس سنا ہے اور تھوڑا اور وقت دیں، نعیم بخاری

تمام سوالات کے جواب دیکر روسٹم چھوڑوں گا، نعیم بخاری

ہم بھی آپکو سننے کیلئے بیتیاب ہیں، جسٹس مظہر عالم
کیا سپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل

اگر سپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟ نعیم بخاری
آرڈیننس کو بیک وقت دونوں ایوانوں میں پیش نہیں کیا جا سکتا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

پیکا ایکٹ کے سیکشن 20 کو قانون میں موجود رہنا چاہیے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

یہ صرف پاکستان میں نہیں دیگر ممالک میں بھی کچھ پابندیوں کے ساتھ موجود ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود

کیا حکومت تسلیم کرتی ہے کہ پبلک آفس ہولڈرز اور ادارے اس قانون میں نہیں آتے، چیف جسٹس کا استفسار

پبلک آفس ہولڈرز کے کاموں پر تنقید اور انکا احتساب کیا جا سکتا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

پبلک آفس ہولڈرز کی ذاتیات یا انکے رشتے داروں پر حملے نہیں ہونے چاہئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

جو خرابیاں سامنے آئیں گی انکو وقت کے ساتھ ختم کیا جا سکے گا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

وقت کے ساتھ ساتھ ہم سیکھ جائیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود

آپ کے سیکھتے سیکھتے لوگوں کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ

بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے عدالتیں موجود ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود

اسی لئے ایف آئی اے نے ایس او پیز جمع کرا کے عدالت سے فراڈ کیا، چیف جسٹس اطہر من اللہ
کیا زیرالتواء تحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہو سکتی ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن

پوائنٹ آف آرڈر پر سپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے، نعیم بخاری

پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن سپیکر کا اختیار ضرور ہے، نعیم بخاری
نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا،وکیل نعیم بخاری

اب معاملہ عوام کے پاس ہے،وکیل نعیم بخاری

سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیئے،نعیم بخاری
سپریم کورٹ
سیاسی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت وقفے کے بعد شروع

تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کا مطلب نہیں کہ مسترد نہیں ہو سکتی، نعیم بخاری

عدالت بھی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرکے بعد میں خارج کرتی ہے، نعیم بخاری

اسمبلی کارروائی شروع ہوتے ہی فواد چوہدری نے پوائنٹ آف آرڈر مانگ لیا، نعیم بخاری

تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع ہوجاتی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں لیا جا سکتا تھا، نعیم بخاری
کیا فواد چوہدری کے پوائنٹ آف آرڈر کا ٹرانسکرپٹ ہے؟ جسٹس مظہر عالم میاں خیل

پوائنٹ آف آرڈر کے ٹرانسکرپٹ بھی دکھائوں گا، نعیم بخاری

سپیکر کو اختیار ہے کہ ایجنڈے میں جو چاہے شامل کر لے، نعیم بخاری

قرارداد اور تحریک کے لفظ میں کیا فرق ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن

قرارداد اور تحریک کے الفاظ ایک ہی اصطلاح میں استعمال ہوتے ہیں، وکیل نعیم بخاری
کیا ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد ہونے کا مطلب ووٹنگ کیلئے پیش ہونا نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

تحریک عدم اعتماد کے علاوہ پارلیمان کی کسی کارروائی کا طریقہ آئین میں درج نہیں، جسٹس جمال مندوخیل

کیا اسمبلی رولز کا سہارا لیکر آئینی عمل کو روکا جا سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل

کیا سپیکر آئینی عمل سے انحراف کر سکتا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل

کیا آئینی عمل سے انحراف پر کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل
نعیم بخاری کی جانب سے وقفہ سوالات کا حوالہ

تمام اپوزیشن اراکین نے کہا سوال نہیں پوچھنے صرف ووٹنگ کرائیں، نعیم بخاری

اس شور شرابے میں ڈپٹی سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا، نعیم بخاری

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو خط پر بریفننگ دی گئی، نعیم بخاری

کمیٹی کو بتایا گیا کہ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو نتائج اچھے نہیں ہونگے، نعیم بخاری

ریکارڈ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی میں 11 لوگ شریک ہوئے تھے، چیف جسٹس

پارلیمانی کمیٹی کو بریفننگ کس نے دی تھی؟ جسٹس اعجاز الااحسن

پارلیمانی کمیٹی کو بریفننگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں، چیف جسٹس
کیا وزیر خارجہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں موجود تھے؟ جسٹس جمال مندوخیل

وزیر خارجہ کے دستخط میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہے، جسٹس جمال مندوخیل

کیا وزیر خارجہ کو اجلاس میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ جسٹس جمال مندوخیل
وزیر خارجہ کو پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں ہونا چاہئیے تھا، نعیم بخاری

موئید یوسف کا نام بھی میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہا، چیف جسٹس
نعیم بخاری نے فواد چوہدری کا پوائنٹ آف آرڈر بھی عدالت میں پیش کر دیا
پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی اجلاس میں 57 ارکان موجود تھے، چیف جسٹس

اراکین اسمبلی کے نوٹس میں خط کے مندرجات آ گئے تھے، چیف جسٹس

پوائنٹ آف آرڈر پر رولنگ کی بجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لینا چاہیے تھا؟ چیف جسٹس

پوائنٹ آف آرڈر پر بحث نہیں ہوتی، نعیم بخاری
پارلیمانی کمیٹی میٹنگ منٹس میں ڈپٹی سپیکر کی موجودگی ظاہر نہیں ہوتی، جسٹس جمال مندوخیل

ڈپٹی سپیکر اجلاس میں موجود تھے، جسٹس جمال مندوخیل

رولنگ پر دستخط بھی ڈپٹی سپیکر کی جگہ سپیکر نے کئے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل

کیا ڈپٹی سپیکر جلدی میں تھے؟ جسٹس جمال مندوخیل

جو دستاویز پیش کی ہے وہ شاید اصلی والی نہیں ہے، نعیم بخاری
عدالت کو اصل دستخط شدہ دستاویزات پیش کر دوں گا، نعیم بخاری

فواد چوہدری نے سپیکر کو تحریک عدم اعتماد آرٹیکل 5 سے متصادم ہونے پر رولنگ مانگی، جسٹس منیب اختر

ممکن ہے اراکین کہتے کہ تحریک عدم اعتماد آئین کیخلاف ہے اس لیے حق میں ووٹ نہیں دینگے، جسٹس منیب اختر
سپیکر نے رولنگ کے بعد ووٹنگ کیوں نہیں کرائی؟ جسٹس منیب اختر

رولنگ میں تحریک عدم اعتماد مسترد کرنا شاید سپیکر کا اختیار نہیں تھا، جسٹس منیب اختر
ممکن ہے کچھ ارکان سپیکر کی رولنگ سے مطمئن ہوتے کچھ نہ ہوتے، جسٹس منیب اختر

تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آئین کا تقاضا ہے، جسٹس منیب اختر
ایسا لگتا ہے ڈپٹی سپیکر کو لکھا ہوا ملا کہ یہ پڑھ دو، جسٹس مظہر عالم
کیا عوامی نمائندوں کی مرضی کیخلاف رولنگ دینا پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

پارلیمان کے اندر جو بھی ہو اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا، نعیم بخاری

کیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں اٹھائے گئے نکات پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں تھے؟ جسٹس اعجاز الاحسن

حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا، ہمارا موقف ہے کہ رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا، نعیم بخاری
[ ایوان کے پاس رولنگ مسترد کرنے کا اختیار تھا لیکن نہیں کیا گیا، نعیم بخاری
آسمان گرا جب اسمبلی تحلیل ہوئی، چیف جسٹس

عدالت اسمبلی تحلیل کا جائزہ لے سکتی ہے، نعیم بخاری

جس رولنگ کی بنیاد پر اسمبلی تحلیل ہوئی اسے چھوڑ کر باقی چیزوں کا جائزہ کیسے لیا جا سکتا؟ جسٹس اعجاز الاحسن
اگر اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو متاثرہ ارکان کے پاس داد رسی کو طریقہ کا کیا تھا، جسٹس اعجاز الااحسن

کیا ارکان نئی عدم اعتماد لا سکتے تھے، جسٹس جمال خان مندوخیل

اسپیکر نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی توثیق کی، نعیم بخاری

رولز کے مطابق پوائنٹ آف آرڈر پر دوسری سائیڈ کو بات کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس بندیال

آپشن کے باوجود شنوائی کا موقع نہیں دیا گیا، چیف جسٹس بندیال
رول 28 کے تحت کیا لفظ اسپیکر ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ موجود ہے؟ جسٹس منیب اختر

آرٹیکل 69 میں اسپیکر کے ساتھ ڈپٹی اسپیکر کا ذکر ہے، وکیل نعیم بخاری
بطور سینیر وکیل بتائیں کیا آرٹیکل 95 کیلئے کسی رول کی ضرورت ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل

آرٹیکل 95 مکمل ضابطہ ہے کیا اسکی خلاف ورزی کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا؟ جسٹس جمال مندوخیل

کس حد تک پارلیمانی کارروائی میں مداخلت ہو سکتی ہے فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، نعیم بخاری

نعیم بخاری کے دلائل مکمل، اٹارنی جنرل کے دلائل شروع
اٹارنی جنرل صاحب کیا یہ آپکا آخری کیس ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل

اگر آپکی خواہش ہے تو مجھے منظور ہے، اٹارنی جنرل

پوری بات تو سن لیں، جسٹس جمال خان

ہم چاہتے ہیں آپ اگلے کیس میں بھی دلائل دیں، جسٹس جمال خان
نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی تفصیل کھلی عدالت میں نہیں دے سکوں گا، اٹارنی جنرل

عدالت کسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے بغیر بھی فیصلہ کر سکتی ہے، اٹارنی جنرل
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت بھی شریک ہوئی، اٹارنی جنرل

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر بریفننگ دی گئی، اٹارنی جنرل

قومی سلامتی کمیٹی پر ان کیمرہ سماعت میں بریفنگ دینے پر تیار ہوں ، اٹارنی جنرل
وزیراعظم سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں اس لئے اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے، اٹارنی جنرل

اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے وزیراعظم کو وجوہات بتانا ضروری نہیں، اٹارنی جنرل

صدر سفارش پر فیصلہ نہ کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی، اٹارنی جنرل
تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا کسی رکن کا بنیادی حق نہیں تھا، اٹارنی جنرل

ووٹ ڈالنے کا حق آئین اور اسمبلی رولز سے مشروط ہے، اٹارنی جنرل

سپیکر کسی رکن کو معطل کرے تو وہ بحالی کیلئے عدالت نہیں آ سکتا، اٹارنی جنرل
آپ کہنا چاہتے ہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رولز سے مشروط ہے؟ چیف جسٹس

تحریک عدم اعتماد سمیت تمام کارروائی رولز کے مطابق ہی ہوتی ہے، اٹارنی جنرل
پارلیمانی کارروائی کو مکمل ایسا استثنیٰ نہیں سمجھتا کہ کوئی آگ کی دیوار ہے، اٹارنی جنرل

پارلیمانی کارروائی کا کس حد تک جائزہ لیا جا سکتا ہے عدالت فیصلہ کرے گی، اٹارنی جنرل

اگر سپیکر کم ووٹ لینے والے کے وزیراعظم بننے کا اعلان کرے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے، اٹارنی جنرل
جو طریقہ کار آئین میں درج نہیں وہاں اسمبلی رولز کا اطلاق ہوگا، اٹارنی جنرل

اسپیکر ایوان کا نگران ہے، جسٹس منیب اختر

سپیکر صرف اپنی ذاتی تسکین کیلئے نہیں بیٹھتا،جسٹس منیب اختر

سپیکر ایسا تو نہیں کر سکتا کہ اپنی رائے دے باقی ممبران کو گڈ بائے کہہ دے،جسٹس منیب اختر
تحریک پیش کرنے کی منظوری کیلئے 20% یعنی 68 ارکان کا ہونا ضروری نہیں، اٹارنی جنرل

اگر 68 ارکان تحریک منظور اور اس سے زیادہ مسترد کریں تو کیا ہوگا؟ اٹارنی جنرل

اگر 172 ارکان تحریک پیش کرنے کی منظوری دیں تو وزیراعظم فارغ ہوجائے گا، جسٹس منیب اختر
اسمبلی میں کورم پورا کرنے کیلئے 86 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے، اٹارنی جنرل

تحریک پیش کرنے کی منظوری کے وقت اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے، اٹارنی جنرل

تحریک پیش کرتے وقت تمام 172 لوگ سامنے آ جائیں گے، اٹارنی جنرل

تحریک پیش کرنے اور ووٹنگ میں تین سے سات دن کا فرق بغیر وجہ نہیں، اٹارنی جنرل

سات دن میں وزیراعظم اپنے ناراض ارکان کو منا سکتا ہے، اٹارنی جنرل
بیس فیصد ممبران نے جب تحریک پیش کر دی تو بحث کرانا چاہئے تھی،جسٹس منیب اختر

وزیر اعظم کو سب پتہ ہوتا ہے وہ جاتے ممبران سے پوچھتے وہ کیا چاہتے ہیں،جسٹس منیب اختر

فواد چوہدری اگر عدم اعتماد پر 28 مارچ کو اعتراض کرتے تو کیا تحریک پیش کرنے سے پہلے مسترد ہوسکتی تھی؟ چیف جسٹس

تحریک پیش ہونے کے وقت بھی مسترد ہوسکتی تھی، اٹارنی جنرل
تحریک عدم اعتماد قانونی طور پر پیش کرنے کی منظوری نہیں ہوئی، اٹارنی جنرل

سپیکر نے قرار دیدیا کہ تحریک منظور ہوگئی آپ کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟ جسٹس مظہر عالم

سپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہوسکتی تو کیس ہی ختم ہوگیا، اٹارنی جنرل
تحریک پیش کرنے کے حق میں 161 لوگوں نے ووٹ کیا تھا، اٹارنی جنرل

اگر 68 لوگ تحریک پیش کرنے کی منظوری اور 100 مخالفت کریں تو کیا ہوگا؟ اٹارنی جنرل

ایوان کی مجموعی رکنیت کی اکثریت ہو تو ہی تحریک پیش کرنے کی منظوری ہوسکتی ہے، اٹارنی جنرل

آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اکثریت مخالفت کرے تو تحریک مسترد ہوگی، اٹارنی جنرل

تحریک پیش کرنے کی منظوری کا ذکر اسمبلی رولز میں ہے، اٹارنی جنرل

آرٹیکل 55 کے مطابق اسمبلی میں تمام فیصلے ہائوس میں موجود اراکین کی اکثریت سے ہونگے، چیف جسٹس
تحریک منظور کرنے کی سپیکر نے رولنگ دیدی تو بات ختم ہوگئی، چیف جسٹس

سپیکر کے وکیل نے کہا رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا، چیف جسٹس

سپیکر کی رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تو کیس ختم ہوگیا، اٹارنی جنرل

تین اپریل کو بھی وہی سپیکر تھا اور اسی کی رولنگ تھی، اٹارنی جنرل

اسمبلی کی تحلیل اصل مسئلہ ہے اس پر آپکو سننا چاہتے ہیں، چیف جسٹس

تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے بعد ہی اسمبلی تحلیل ہوئی، اٹارنی جنرل

دیکھنا ہے اسمبلی تحلیل اور سپیکر رولنگ میں کتنے ٹائم کا فرق ہے، چیف جسٹس

آپ کہتے ہیں انتخابات ہی واحد حل ہے، کوئی اور حل کیوں نہیں تھا؟ چیف جسٹس

چاہتے ہیں پارلیمنٹ کامیاب ہو اور کام کرے، چیف جسٹس

دنیا میں کہیں بھی اپوزیشن لیڈر وزیراعظم نہیں بنتا، اٹارنی جنرل

کئی ممالک میں بنتے ہیں لیکن اپوزیشن لیڈر جب وزیراعظم بنے تو کام نہیں چلتا، چیف جسٹس

کسی رکن اسمبلی کو عدالتی فیصلے کے بغیر غدار نہیں کہا جا سکتا، اٹارنی جنرل

ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کروں گا، اٹارنی جنرل
میرا فوکس نئے انتخابات پر ہے، اٹارنی جنرل

چار سال سلیکٹڈ کہنے والے آج اسی اسمبلی کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل

رولنگ کے بعد عمران خان وزیراعظم برقرار رہتے تو مستعفی ہو جاتا، اٹارنی جنرل

مناسب یہی تھا کہ عمران خان عوام میں جاتے وہی فیصلہ انہوں نے کیا، اٹارنی جنرل

ملک میں استحکام چاہیے، چیف جسٹس

آپ کہتے ہیں اسمبلی بحال ہوئی سڑکوں پر لڑائیاں ہونگی، چیف جسٹس

اپوزیشن مہنگائی کی باتیں کرتی ہے وہ بھی استحکام چاہتی ہے، چیف جسٹس
*سپیکر کی رولنگ غلط ہے یہ سامنے آ چکا ہے، چیف جسٹس *

اب آگے کیا ہونا ہے یہ دیکھنے والی بات ہے، چیف جسٹس
قومی مفاد اور عملی ممکنات دیکھ کر ہی آگے چلیں گے، چیف جسٹس

سماعت میں دس منٹ کا وقفہ

عدالت نے برطرف ملازمین کی نظرثانی مسترد کرکے بھی بحالی کا راستہ نکالا تھا، اٹارنی جنرل
عدالت برطرف ملازمین کیس کی طرز پر راستہ بنائے، اٹارنی جنرل
سری لنکا میں بجلی اور دیگر سہولیات کیلئے بھی پیسہ نہیں بچا، چیف جسٹس

آج روپے کی قدر کم ہوگئی، ڈالر 190 تک پہنچ چکا ہے، چیف جسٹس

ہمیں مضبوط حکومت درکار ہے، چیف جسٹس
: اپوزیشن لیڈر کیلئے یہ بہت مشکل ٹاسک ہوگا، چیف جسٹس

عدالت نے شہباز شریف کو روسٹرم پر بلا لیا
عدالت کے سامنے پیش ہونا میرے لئے اعزاز ہے، شہباز شریف

عام آدمی ہوں قانونی بات نہیں کروں گا، شہباز شریف

سپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی، شہباز شریف

رولنگ ختم ہونے پر تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی، شہباز شریف
ہماری تاریخ میں آئین کئی مرتبہ پامال ہوا، شہباز شریف

جو بلنڈر ہوئے انکی توثیق اور سزا نہ دیے جانے کی وجہ سے یہ حال ہوا، شہباز شریف

عدالت اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کرے، شہباز شریف

پارلیمنٹ کا عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے، شہباز شریف
پی ٹی آئی حکومت بھی اتحادی تھی، شہباز شریف

اپوزیشن کا اتحاد بھی پورے ملک کی جماعتوں کا ہے، شہباز شریف

ملک بھر نے اپوزیشن اتحاد کو تسلیم کیا، شہباز شریف

اپوزیشن خدمت کیلئے تیار ہے، آپکو فرق نظر آئے گا، شہباز شریف
مطمئن ضمیر کیساتھ قبر میں جائوں گا، شہباز شریف

سیاسی الزام تراشی نہیں کروں گا، شہباز شریف

اپنی پہلی تقریر میں چارٹر آف اکانومی کی بات کی تھی، شہباز شریف

عوام بھوکی ہو تو ملک کو قائد کا پاکستان کیسے کہیں گے، شہباز شریف

آج بھی کہتا ہوں چارٹر آف اکانومی پر دستخط کریں، شہباز شریف
حکومت 174 ووٹوں پر قائم تھی ہمارے ممبر 177 ہیں، شہباز شریف

آئین کی بحالی اور عوام کیلئے اپنا خون پسینہ بہائیں گے، شہباز شریف

2013 کے الیکشن میں آپ کی کتنی نشستیں تھیں؟ چیف جسٹس

گزشتہ انتخابات میں 150 سے زائد نشستیں تھیں، شہباز شریف

اکثریت حاصل کرنے والی جماعت فائدے میں رہتی ہے، چیف جسٹس
سیاسی استحکام آئین کیساتھ ہی مشروط ہے، شہباز شریف

رولنگ کو ختم کرکے دیکھیں گے آگے کیسے چلنا ہے، چیف جسٹس
سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کرینگے، چیف جسٹس

اپوزیشن پہلے دن سے الیکشن کرانا چاہتی تھی، جسٹس جمال مندوخیل
آج آپکو الیکشن میں جانے سے کیا مسئلہ ہے جسٹس جمال مندوخیل

مسئلہ آئین توڑنے کا ہے، شہباز شریف
اپنی اپوزیشن سے ملکر انتخابی اصلاحات کرینگے تاکہ شفاف الیکشن ہو سکے، شہباز شریف

عام آدمی تباہ ہوگیا اس کیلئے ریلیف پیدا کرنے کی کوشش کرینگے، شہباز شریف
سب چاہتے ہیں اراکین اسمبلی کے نہیں عوام کے منتخب وزیراعظم بنیں، اٹارنی جنرل

جنہوں نے عمران خان کو پلٹا ہے وہ شہباز شریف کو بخشیں گے،؟ اٹارنی جنرل

ہمیں معلوم ہے، چیف جسٹس

اپوزیشن کا الیکشن کا مطالبہ پورا ہو رہا ہے تو ہونے دیں، اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل کی آخری باتیں دھمکی آمیز تھیں، وکیل ن لیگ

کون کس کو نہیں چھوڑے گا، کس کو سرپرائز دے گا یہ نہیں کہنا چاہیے، مخدوم علی خان

وزیراعظم نے سرپرائز دینے کا اعلان کیا تھا، مخدوم علی خان

ہمیشہ نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے تھے آج کیوں نہیں مان رہے، چیف جسٹس

سرپرائز پر اپنا فیصلہ واضح کر چکے ہیں، چیف جسٹس

عدالت سیاسی تقاریر پر نہ جائے، مخدوم علی خان
اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، ڈالر مہنگا اور روپے کی قدر کم ہو گئی، مخدوم علی خان

یہ تمام معاشی مسائل ہیں، چیف جسٹس

یہ معاشی مسائل کس نے پیدا کیے پیں؟ مخدوم علی خان

مجھے نہیں لگتا ہم سوالات کے جواب دینے بیٹھے ہیں، چیف جسٹس

عدالت کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرائے گی، چیف جسٹس

موجودہ حالات کی وجہ سے معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے، چیف جسٹس
آرٹیکل 184/3 میں کیس سن رہے ہیں، چیف جسٹس

عوامی حقوق کا تحفظ کرینگے، چیف جسٹس
مجھے اندازہ تھا حکومت بلآخر انتخابات کی طرف جائے گی، مخدوم علی خان

جانتا تھا کہ سپیکر کی رولنگ کا دفاع کرنا ممکن نہیں، مخدوم علی خان
آئین سے 58(2B) جمہوری انداز میں نکالا گیا تھا، چیف جسٹس
یہ نہیں ہوسکتا کہ رولنگ ختم ہو اور اسمبلی بحال نہ ہو، مخدوم علی خان وکیل ن لیگ
تین اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، وکیل ن لیگ

صوبائی حکومتیں رکھتے ہوئے انتخابات کیسے شفاف ہونگے؟ مخدوم علی خان
صدر نے سپیکر کی ملی بھگت سے سمری منظور کی، وکیل ن لیگ

اپوزیشن پر بہت سنجیدہ الزامات عائد ہیں، چیف جسٹس

سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں، چیف جسٹس

عدالت میرٹ پر جائے گی نہ ہی الزامات پر فیصلہ دے گی، چیف جسٹس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں