33

انسانی پھیپھڑوں میں پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

انسانی پھیپھڑوں میں پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

محققین کا کہنا ہے انہیں پہلی بار زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں سے مائیکرو پلاسٹک ملے ہیں جو ان کے پھیپھڑوں کی گہرائی میں موجود ہیں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ وہ پلاسٹک کے ٹکڑے ہیں جو پلاسٹک کے ملبے کو ٹھکانے لگانے کے نتیجے میں آتے ہیں۔

یہ تحقیق انگلینڈ کے ہل یارک میڈیکل اسکول میں کی گئی اور سائنس آف دی ٹوٹل انوائرمنٹ کے جریدے میں شائع ہوئی، زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں پلاسٹک کی شناخت کرنے والی پہلی مضبوط تحقیق ہے۔

مقالے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر لورا سڈوفسکی کا کہنا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اس سے قبل انسانی لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے نمونوں میں پائے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید نہیں تھی کہ پھیپھڑوں کی گہرائی میں بھی اس تعداد اور سائز میں پلاسٹک کے ذرات ملیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات بہت زیادہ حیران کن ہے، کیونکہ انسان کے پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں ہوا کی نالیا چھوٹی ہوتی ہیں اور ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ان سائز کے ذرات پھیپھڑوں کی گہرائی میں جانے سے پہلے فلٹر ہو جائیں گے یا پھنس جائیں گے۔

تحقیق میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کھانے اور سانس لینے سے آسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پچھلے مہینے شائع ہونے والی ایک تحقیق نے انسانی خون میں پلاسٹک کے ذرات کی نشاندہی کی تھی۔ اس سے قبل پلاسٹک کے ٹکڑے  اخراج (غلاظت) اور سمندر کی گہرائیوں میں پائے جا چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں