55

بابر اعظم کی اننگز آسٹریلین کو مدتوں یاد رہے گی

بابر اعظم کی اننگز آسٹریلین کو مدتوں یاد رہے گی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے آسٹریلیا کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سخت پریشر میں جس طرح پاکستان کو شکست سے بچایا اس سے ان کا مقام اور مرتبہ مزید بلند ہوگیا ۔دنیا کے کئی کھلاڑی ان کی196رنز کی اننگز کو ہائی کوالٹی بولنگ کے خلاف چند یادگار اننگز میں شمار کررہے ہیں۔ کئی سابق کھلاڑی انہیں ویرات کوہلی اور اسٹیو اسمتھ کے پائے کا بیٹر قرار دے رہے ہیں۔

بابر کیئریئر کی پہلی ڈبل سنچری کے قریب آکر آوٹ ہوگئے لیکن ان کی196رنز کی اننگز نے پاکستان کو شکست کے منہ سے نکالا۔بابر اور رضوان نےناممکن کو ممکن بنادیا۔بابر اعظم کی فائٹنگ اورریکارڈ ساز اننگز کی بدولت پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ بھی ہارجیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا۔بابر اعظم نے اس اننگز کے دوران کئی بیٹنگ ریکارڈ توڑ دیئے۔ اس اننگز میں 10 گھنٹے سات منٹ بیٹنگ کی جو کسی ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی وقت کے اعتبار سے سب سے بڑی اننگز ہے۔

اس سے قبل 2006ء میں شعیب ملک نے سری لنکا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں اپنے 148 رنز 488 منٹ میں بنائے تھے۔ بابر اعظم چوتھی اننگز میں گیندوں کےاعتبار سے بھی سب سے بڑی اننگز کھیلنے والے پاکستانی بیٹسمین بن گئے ۔ انہوں نے اپنی اس اننگز میں 425 گیندیں کھیلیں۔اس سے قبل شعیب ملک نے اپنی 148 رنز کی اننگز میں 369 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔آسٹریلیا نے چار کیچ ڈراپ کئے، پہلے بابر اعظم اور عبداللہ شفیق ان کی جیت کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے506رنز کے ورلڈ ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں21رنز پر دو وکٹ گرنے کے بعد 27سالہ بابر اعظم نے گرم موسم اور دنیا کے بہترین بولنگ اٹیک کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹ گئے۔ بابر اعظم دس گھنٹے سات منٹ بیٹنگ کی اور 425 گیندوں کا سامنا کیا۔ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 21 چوکے شامل تھے۔ آخری دن کھانے کے وقفے سے محض 8منٹ قبل عبداللہ شفیق نروس نائنٹیز کا شکار ہو گئے۔عبداللہ شفیق پیٹ کمنز کی گیند پر سلپ میں اسٹیو اسمتھ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے اور سیریز میں دوسری سنچری سے محروم رہے۔انہوں نے96رنز305گیندوں پر بنائے۔

وہ سات گھنٹے48منٹ آسٹریلوی بولروں کا مقابلہ کرتے رہے انہوں نےایک چھکا اور چھ چوکے مارے۔عبداللہ نے بابر اعظم کے ساتھ تیسری وکٹ پر 377 منٹ میں 228 رنز بنائے۔ رضوان کا کہنا ہے کہ میری سنچری سے زیادہ اہمیت نعمان علی کے صفر کی تھی۔ محمد رضوان کا ساتھ دینے والے نعمان علی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی جنھوں نے کریز پر 37 منٹ گزارتے ہوئے 18 گیندوں کا سامنا کیا۔

بابر اعظم نے سخت گرم موسم میں ایسی اننگز کھیلی جس نے دنیا کے بہترین بولنگ اٹیک کو بے بس کردیا۔بابر اعظم کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی پر سوالات اٹھائے جاتے تھے۔ دوسرے ٹیسٹ میں سنچری سے قبل دس میچوں میں وہ صرف دو نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہو سکے تھے جبکہ پی ایس ایل میں ان کی ٹیم بھی آخری نمبر پر آئی تھی۔ بابر اعظم کے لیے بیٹنگ کے اعتبار سے یہ سیریز اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے آخری ٹیسٹ سنچری فروری 2020ء میں بنگلہ دیش کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں بنائی تھی جس کے بعد 20 اننگز کے انتظار کے بعد انھوں نے یہ سنچری ا سکور کی ہے۔

کراچی ٹیسٹ میں بابر اعظم رنز کے اعتبار سے چوتھی اننگز میں سب سے بڑی اننگز کھیلنے والے پاکستانی بیٹسمین بھی بن گئے ہیں۔ ان سے قبل یونس خان نے 2015ء میں سری لنکا کے خلاف پالیکیلے ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 171 رنز بنائے تھے۔ بابر اعظم کے علاوہ تین دیگر بیٹسمین ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں پانچ سو یا زائد منٹ بیٹنگ کر چکے ہیں جن میں مائیک ایتھرٹن (643 منٹ)، دلیپ وینگسارکر (522 منٹ) اور عثمان خواجہ (522 منٹ) شامل ہیں۔ بابر اعظم ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کپتان بھی بن گئے ہیں۔ 

ان سے قبل یہ اعزاز انگلینڈ کے کپتان مائیک ایتھرٹن کا تھا جنھوں نے 1995ء میں جنوبی افریقاکے خلاف جوہانسبرگ میں 185 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔بابر اعظم کہتے ہیں کہ مجھے اپنی ٹیم پر یقین تھا کہ ہم میچ میں واپس آئیں گے ڈرا اور اچھی کارکردگی کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے صورتحال ایسی تھی کہ کسی موقع پر 506 کے ہدف کے تعاقب کے بارے میں ہماری حکمت عملی میرے آوٹ ہونے کے بعد ناکام ہوگئی میرے آوٹ ہونے کے بعد ہم نے جیت کا ارادہ ترک کردیا۔ لیکن مثبت سوچ کے ساتھ آگے جارہے تھے ڈرا بہت بڑی بات ہے۔اپنی زندگی کی اس اننگز کو اپنے والد اور اہل خانہ کے نام کرتا ہوں جو ہر وقت مجھے سپورٹ کرتے ہیں اور میرے لئے دعائیں کرتے ہیں۔

پنڈی میں ہائی اسکور نگ ڈرا کے بعد کراچی کا میچ دلچسپ مقابلے کے بعد ڈرا ہوا۔ اب لاہور میں میدان سج گیا ہے اور لاہور کو تین ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئینٹی کی میزبانی کرنا ہے۔ پاکستان نے ون ڈے اور ٹی ٹوئینٹی ٹیم میں آصف آفریدی اور محمد حارث کو شامل کیا ہے لیکن سلیکٹرز جس انداز میں شان مسعود کو نظر انداز کررہے ہیں اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے اوپنر کو ٹیسٹ کے بعد ون ڈے اور ٹی ٹوئینٹی سیریز میں شامل نہ کرنے پر بابر اعظم اور ثقلین مشتاق بھی جواب دے ہیں۔ 

ہماری کرکٹ میں ہر دور میں کچھ ایسے کرکٹرز ہوتے ہیں جو اسی سلوک کی وجہ سے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ فواد عالم کی طرح ابھی تک شان مسعود ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنی کارکردگی سے ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کررہے ہیں جو انہیں مسلسل باہر بٹھا کر ایک باصلاحیت کرکٹر کو نظر انداز کررہے ہیں۔شائد اس بات کا جواب وقت ہی دے سکے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں