198

30 سال بعد عمران خان کا نام کوئی یاد نہیں رکھے گا، حنا ربانی کھر

30 سال بعد عمران خان کا نام کوئی یاد نہیں رکھے گا، حنا ربانی کھر

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر  کا کہنا ہے کہ  آج سے 30 سال بعد عمران خان کا نام کوئی یاد نہیں رکھے گا، یاد رکھا جائے گا پاکستان میں ایک وزیراعظم نے اپنی حکومت بچانےکے لیے امریکا سے تعلقات کو داؤ پر لگایا۔

جیو نیوز سے بات چیت  کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ دوسروں کو نقصان پہنچاتے پہنچاتے پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ ہماری حکومت کیا پورے پاکستان کی پالیسی ڈرون پر واضح تھی، وزیراعظم آفس میں فائز ہونے کی کچھ ذمہ داری بھی ہوتی ہے، مجھے وزیراعظم عمران خان کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر شدید غم و غصہ ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ پاکستان کی “انٹرنل کیبل” ہے جسے وزیراعظم لہرا لہرا کر خط کہہ رہے تھے، سفارتی کیبل ہر ملک کے سفیر اپنے ملک کو بھیجتے ہیں، کوئی بھی میسیج یا بات ہو سفیر اپنے ملک کے وزیر اعظم کو سفارتی کیبل بھیجتا ہے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ ڈپلومیٹک کیبل سے یہ تاثر دینا کہ خدانخواستہ وزیر اعظم کے خلاف سازش ہوئی ہے، انٹرنل کیبل کو اپنے مفاد کی خاطر اس حد تک استعمال کرنا خطرناک اسٹینڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ اس وقت تو تحریک عدم اعتماد پیش بھی نہیں ہوئی تھی جب کیبل آیا تھا، پاکستان میں دنیا بھر کے سفیر ہیں جو روز اپنے دارالحکومت کو یہاں کی صورتحال پر کیبل بھیجتے ہیں، پوری دنیا کو پتہ تھا کہ پاکستان میں تحریک عدم اعتماد کی بات چل رہی ہے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ ہمارے دورحکومت میں ہم نے ہمشیہ ڈرون حملے کی شدید مذمت کی، ڈرون حملے غیر قانونی قرار دینے کے لیے یو این نمائندہ برائے ماورائے عدالت قتل کو پاکستان بلایا۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈرون حملے کا پروگرام اس خطے سے ختم ہوچکا ہے، جب ہم اقتدار میں تھے تو یہاں پورے خطے میں ڈرون اسٹرائیک کا ٹرینڈ تھا، اب تو جنگ ختم ہوگئی اور خطے سے ڈرون حملے بھی بند ہوچکے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ ہمارے دور اقتدار کے وقت عمران خان یا کوئی اور بھی وزیر اعظم ہوتا تو ڈرون حملہ امریکی پالیسی کا حصہ تھا، ہم نے ڈرون حملے کی مذمت کی اور امریکا اور اقوام متحدہ کے ہر فورم پر اسے اٹھایا۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ عمران خان دوسروں کے دور اقتدار سے متعلق آسانی سے جھوٹ بول جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں