313

امارت اسلامیہ کے نائب وزیراعظم کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

امارت اسلامیہ کے نائب وزیراعظم کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات
امارت اسلامیہ افغانستان کے اقتصادی امور کے نائب وزیر ملا عبدالغنی برادر اخوند نے آج صبح عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد سے ملاقات کی۔
ملاقات ایوان صدر کے چارچنار محل میں ہوئی جس میں امارت اسلامیہ کے اعلیٰ حکام اور وزراء بھی موجود تھے، فریقین نے تجارت، ٹرانزٹ اور اقتصادی امور اور افغان، چین تعلقات کی مزید بہتری پر تبادلہ خیال کیا۔
چینی وزیر خارجہ اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ افغانستان اور چین کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات ہیں اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، اس لیے ان تعلقات کو مضبوط اور وسعت دینا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امارت اسلامیہ تمام ممالک بالخصوص چین کے ساتھ تعلقات مزید استوار کرنے کی کوشش کرتی ہے، انہوں نے افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ہم عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ حقیقی تعاون کے لیے پرعزم ہیں، افغانستان میں امن و سلامتی خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔
ملا عبدالغنی برادر اخوند نے کہا کہ افغانستان میں وافر مقدار میں معدنیات موجود ہیں، انہوں نے چین سے کان کنی شروع کرنے، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کرنے اور لوگر میں عینک تانبے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
اقتصادی امور کے نائب وزیراعظم نے چلغوزے اور زعفران سمیت زرعی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور افغانستان کو ایک بڑے منصوبے (ون بیلٹ، ون روڈ) میں شامل کرنے اور اس ملک میں افغان طلباء کے لیے اسکالرشپ میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
عوامی جمہوریہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا افغانستان اور چین کے دیرینہ اور تاریخی تعلقات ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی جاری رہے گی اور مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ چین افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور ہم افغانوں کی آزادی اور اعتماد کا احترام کرتے ہیں۔ چین امارت اسلامیہ کے مثبت اقدامات اور ایک جامع ریاست کی تعمیر اور افغان خواتین اور بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی اہمیت کو سراہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک نے افغان عوام کو ہنگامی امداد فراہم کی ہے اور ہم ان علاقوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جہاں فوری امداد کی ضرورت ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ چین افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہا ہے اور کان کنی اور سڑکوں اور ہسپتالوں کی تعمیر میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ ہم چین کو افغان زرعی مصنوعات کی درآمد میں اضافے کے لیے بھی کوششیں کریں گے اور چینی سفارت خانہ افغانستان کی معاشی ترقی میں افغان طلباء کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں اقدام کرے گا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں چین کی میزبانی میں وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوگا اور امارت اسلامیہ کے وزیر خارجہ کو شرکت کی دعوت دی ہے۔
اجلاس میں تجارت و صنعت اور کانوں اور پیٹرولیم کے قائم مقام وزراء کے علاوہ متعدد نائب وزراء نے بھی شرکت کی۔ لاجسٹک اور مالیاتی فریم ورک کی فراہمی، برآمدات کو معیاری بنانے کے لیے معروف چینی لیبارٹریز کی شاخیں کھولنا، افغان تاجروں کو ویزوں کا اجرا، سرمایہ کاری کی ترقی کے معاہدے، اقتصادی زونز کی تعمیر، پانی، ہوا، پتھر اور شمسی توانائی کے استعمال اور صنعت میں افغان انجینئرز کی تربیت پر اپنی تجاویز پیش کیں۔
اسی طرح مذکورہ حکام نے عینک تانبے کے منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے اور ملک کے دیگر کان کنی کے شعبوں میں چین کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور جیولوجیکل سروے اور کان کنی میں افغان کیڈرز کی تربیت کے حوالے سے اپنے مطالبات چینی وفد کے سامنے پیش کر دیئے۔
کابل:
وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے چینی وزیر خارجہ اور روسی نمائندہ خصوصی کی الگ الگ ملاقاتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں