55

متحدہ اپوزیشن کی اپیل پر سندھ کے متنازعہ بلدیاتی کالے قانون کے خلاف احتجاج جاری ہزاروں کی سیاسی کارکنوں کی شرکت پورے کراچی سے احتجاجی قافلے

ایم کیو ایم پاکستان کے زیر اہتمام سندھ کی اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ احتجاج


اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان فوارہ چوک پہنچنا شروع ہو گئے

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی احتجاج میں موجود

وسیم اختر، کنور نوید، عامر خان اور خواجہ اظہار بھی موجود ہیں
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے سولہویں روز میڈیا سے گفتگو*

*اتوار 16جنوری کو شاہرا ہ فیصل پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں ٗ حافظ نعیم الرحمن کی شہریوں سے اپیل*

کراچی:جماعت اسلامی کے تحت شہر بھر میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

کراچی:سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا جاری رہے گا۔

کراچی:کل بروز اتوار تمام اضلاع سے قافلوں کی صورت میں شاہراہ فیصل
پہنچیں گے۔

کراچی: شاہراہ فیصل پر ایک بڑا احتجاجی مارچ منعقد کیا جائے گا۔

کراچی:جماعت اسلامی کا دھرنا محض کوئی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی جنگ ہے۔

کراچی:دھرنا کراچی کے نوجوانوں کو تعلیم، ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی جدوجہدہے۔

کراچی:دھرنا کراچی کو بااختیار کرنے اور شہریوں کو روزگار دینے کی جنگ ہے۔

کراچی:بد قسمتی سے تمام حکومتی جماعتوں نے کراچی کو نظر انداز کیا ہے۔


کراچی:آج بدترن حالات میں بھی کراچی سندھ سمیت پورے پاکستان کی معیشت چلارہا ہے۔

کراچی:کراچی کی مردم شماری میں ایک کروڑ شہریوں کو گناہی نہیں گیا۔

کراچی: سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے جاگیر دار اور وڈیرے دیہی سندھ کے بعدکراچی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

کراچی:جماعت اسلامی کی جدوجہد وڈیرہ اور شاہی اور جاگیرداری ذہنیت کے خلاف ہے۔
سندھ بلدیاتی ایکٹ کیخلاف تحریک انصاف کے کارکنان احتجاجی مظاہرے میں شرکت کیلئے روان
: بلدیاتی بل کیخلاف پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان، رکن قومی اسمبلی آفتاب حسین صدیقی کا قافلہ احتجاج میں پہنچ گیا۔
خرم شیر زمان کی میڈیا سے گفتگو،

آج کراچی کی جمہوریت پسند جماعتیں سڑکوں پر ہے،
اس کالے قانون میں کچھ کالا ہے
اسی لیے اس قانون کیخلاف لوگ احتجاج کررہے ہیں
ہمارا مقصد بااختیار بلدیاتی نظام لانا ہے،
ہم متحد ہیں
ہم کسی صورت اس کالے قانون کو قبل نہیں کریں گے
یہ تحریک آج کراچی سے شروع ہوئی ہے
یہ تحریک کشمور تک جائے گی۔
سندھ حکومت کے کالے قانون کو مسترد کر چکے ہیں۔
اہوزیشن کا احتجاج

ایم کیو ایم کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
۔عامر خان ۔خواجہ اظہارالحسن دیگر رہنما فوارہ چوک پر موجود
ایم کیو ایم پاکستان سمیت متحدہ اپوزیشن کی اپیل پر سندھ کے متنازعہ بلدیاتی کالے قانون کے خلاف احتجاج جاری

احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں شرکاء کی شرکت

اسوقت پورے کراچی سے احتجاجی قافلے فوارہ چوک کی جانب رواں دواں
متحدہ اپوزیشن کا فوارہ چوک پر بلدیاتی بل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ جاری،

اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان کا جم غفیر،

پی ٹی آئی کارکنان کی بلدیاتی بل منظور کے نعرے۔
اسٹیج پر پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان، بلال غفار، جمال صدیقی، سیف الرحمن، شہزاد قریشی سمیت دیگر موجود

جی ڈی اے رہنماء سردار رحیم ،نصرت سحر عباسی ،ارشد شر بلوچ سمیت دیگر رہنما اسٹیج پر موجود

ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار، امین الحق، عامر خان، محمد حسین بھی اسٹیج پر موجود،
سرجانی ٹاون سے سے سینکڑوں لوگوں پر مشتمل قافلے کی آمد
کورنگی سے بڑے احتجاجی قافلے کی آمد
کراچی کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ ہنوز جاری
فوارہ چوک سے میٹرو پول ہوٹل تک عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر

سندھ حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف فلک شگاف نعرے
ایک جانب میٹرو پول ہوٹل سے شاہراہ فیصل پر ڈرگ روڈ اور ملیر تک احتجاج میں شرکت کے لئے گاڑیوں کے سینکڑوں قافلے پھنسے ہوئے ہیں

دوسری جانب گرومندر سے لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا کی ریلیاں ٹریفک جام کی باعث نہیں پہنچ پا رہیں
کیخلاف احتجاجی مظاہرہ جاری،

تلاوت قرآن سے آغاز،
صدر پی ٹی آئی سندھ و وفاقی وزیر کچھ دیر میں فوارہ چوک پہنچ رہے ہیں
جی ڈی اے رہنماء نصرت سحر عباسی کا خطاب،

تمام اپوزیشن پارٹیوں کے احتجاج میں شریک کارکنوں کا سلام پیش کرتی ہوں،

اج پیپلز پارٹی نے لوگوں کو بلدیاتی بل کیخلاف نکلنے پر مجبور کیا ہے،۔

پیپلز پارٹی اسمبلی کو اپنی جاگیر سمجھ کر کالے قانون پاس کرتی ہے۔

آج میری مائیں بہنیں سڑکوں پر نکل آئی ہیں،

بلدیاتی بل کالا قانون کو مسترد کرتے ہیں

پی پی اس قانون کے ذریعے سندھ پر قابض ہونا چاہتی ہے۔
سندھ کی متعصب حکومت کے خلاف سندھ کے غیور عوام کا احتجاجی مظاہرہ۔۔۔

شرکاء پیپلز پارٹی کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں

سندھ کی اپوزیشن عوام دشمن، سندھ دشمن اور آئین شکن قانون کے خلاف سڑکوں پر موجود ہے

شہری سندھ کے عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی اب کسی صورت ممکن نہیں

حقوق کا استحصال حکمرانوں کے زوال کا باعث بنے گا

جعلی اکثریت ٹیکس دہندہ شہری عوام کے حقوق مزید سلب نہیں کر سکتی۔
پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان

اج پی ٹی آئی کی تمام جمہوریت پسند جماعتوں کو دیکھ کر زرداری کی ٹانگیں کانپ رہی ہوں گی۔

آج یہ ثابت ہوگیا ہے کہ تمام زبانیں بولنے والے متحد ہیں

پیپلز پارٹی کا کالا قانون صوبے کے عوام کو منظور نہیں ہے،

پیپلز پارٹی غیر سیاسی جماعت ہے

14 سالوں سے پی پی نے مسائل میں کمی نہیں اضافہ کیا ہے،

ہسپتالوں میں علاج، تعلیم نہیں دے سکی،

پیپلز پارٹی اگر سندھ میں رہی تو مزید تباہی ہوگی،

پیپلز پارٹی کی دکانوں کو تالا لگانا ہے

یہ زبان کی سیاست سے سندھ کو تباہ کررہے ہیں

ہمارا ایک نعرہ ہے جو کہ پاکستان کا نعرہ ہے

پیپلز پارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر تھی

پیپلز پارٹی بلوچستان، کشمیر، پنجاب سے فارغ ہوگئی

انشاللہ پیپلز پارٹی سندھ سے بھی فارغ ہوجائے گی،

پیپلز پارٹی سندھ کو مونجودڑو میں تبدیل کردے گی۔

میں ایم کیو ایم ، جی ڈی اے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،
سندھ میں کالے بلدیاتی قانون کے خلاف متحدہ اپوزیشن کا احتجاج / فوارہ چوک، کراچی


*خواجہ اظہارالحسن*

عوام کا جوش و خروش بتا رہا ہے کہ سندھ کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہے

ابھی تھوڑی دیر پہلے وزیر اعلی ہاؤس سے اطلاع آئ ہے کہ جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئ پندرہ سو لوگ نہیں لا سکے

میم ان عقل کے اندھوں کو کہتا ہوں کہ یہاں اسٹیج سے آکر دیکھو ہزاروں لوگوں کا مجمع موجود یے

یہ لوگ اپنے ٹیکسوں کا حساب لینے آئے ہیں

میں وزیر اعلی سے کہتا ہوں کہ آپ سہون کی ایک یوسی دکھا دیں جہاں جینے اور مرنے کی سہولیات موجود ہوں

آپ لاڑکانہ کی ہی کوئی ایک یوسی دکھا دیں جہاں سہولیات موجود ہوں

یہ کہتے ہیں کہ صوبے میں لسانی فسادات کا خطرہ موجود ہے

ظالموں اور جابروں سے کہتا ہوں کہ آئیں اور دیکھیں تمام قومیتوں اور مذاہب کے ماننے والے اس احتجاج میں موجود ہیں

لاڑکانہ اور خیر پور بھی اتنا ہی تباہ ہے جتنا کراچی تباہ ہے

وزیراعلی صاحب بتائیں کہ کتنی بسیں صوبے میں لائے ہیں: انشاءاللہ عوام کا یہ جذبہ برقرار رہے گا اور پیپلزپارٹی یہ کالا قانون ختم ہوگا

میڈیا کے کیمرہ مین دکھا دیں کہ انسانوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر سندھ حکومت کے خلاف سڑکوں پر موجود ہے
پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان


اج پی ٹی آئی کی تمام جمہوریت پسند جماعتوں کو دیکھ کر زرداری کی ٹانگیں کانپ رہی ہوں گی۔

آج یہ ثابت ہوگیا ہے کہ تمام زبانیں بولنے والے متحد ہیں

پیپلز پارٹی کا کالا قانون صوبے کے عوام کو منظور نہیں ہے،

پیپلز پارٹی غیر سیاسی جماعت ہے

14 سالوں سے پی پی نے مسائل میں کمی نہیں اضافہ کیا ہے،

ہسپتالوں میں علاج، تعلیم نہیں دے سکی،

پیپلز پارٹی اگر سندھ میں رہی تو مزید تباہی ہوگی،

پیپلز پارٹی کی دکانوں کو تالا لگانا ہے

یہ زبان کی سیاست سے سندھ کو تباہ کررہے ہیں

ہمارا ایک نعرہ ہے جو کہ پاکستان کا نعرہ ہے

پیپلز پارٹی چاروں صوبوں کی زنجیر تھی

پیپلز پارٹی بلوچستان، کشمیر، پنجاب سے فارغ ہوگئی

انشاللہ پیپلز پارٹی سندھ سے بھی فارغ ہوجائے گی،

پیپلز پارٹی سندھ کو مونجودڑو میں تبدیل کردے گی۔

میں ایم کیو ایم ، جی ڈی اے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،
اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ خطاب،

آج پیپلز پارٹی کو تسلی ہوگئی،
ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
میں سلام پیش کرتا ہوں آج اپنے اتحادیوں کو،
پیپلز پارٹی کے چوروں لٹیروں کو بےنقاب کرنے کیلئے سڑکوں پر آئیں ہیں
سندھ کا بلدیاتی نظام نہیں بلکہ حکمرانوں کا منہ بھی کالا ہے،۔

پیپلز پارٹی لاتوں کی بھوت ہے باتوں سے نہیں مانے گی
سندھ اسمبلی میں جب بلدیاتی بل لایا گیا تو وہ چور دروازے سے لایا گیا،
آئین توڑنے والے حکمران سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہیں
ہم آئین کی بحالی کی بات کررہے ہیں،
کہا جارہا تھا کہ گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا ہوگا،
ہم نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیدیا ہے
ہم گورنر صاحب سے کہتے ہیں ان کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے،
سندھ میں پانی نہیں ملتا،
ٹنڈوالیار میں کچھ شراب پینے سے ہلاکتیں ہوئیں
یہاں پانی نہیں ملتا لیکن شراب ملتی
سندھ میں چوروں کے بے نقاب کرنے آج جمع ہوئے ہیں

بلدیاتی قانون صرف کالا نہیں سندھ کے حکمرانوں کو منہ بھی کالا ہے

ایک خاصخیلی وزیر فرما رہے تھے احتجاج سے اثر نہیں ہوتا

سندھ اسمبلی میں چور دروازے سے بلدیاتی بل پاس کروایا گیا

یہ آئین کی جانب سے دیئے گئے اختیارات کا مسئلہ ہے

ہم آئین کی بحالی کی جنگ لڑ رہے ہیں

حکومت کے چوہے آٹا پانی سب کچھ کھا جاتے ہیں

آئین توڑنے والے ان چوروں کے خلاف کارروائی کی جائے

گھوٹکی سے کراچی تک سندھ حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے

ہم نے بلاول ہائوس بھی دیکھا احتجاج کریں گے

سندھ میں پانی گندا نہیں شراب بھی گندی ملتی ہے

جامشورو میں زہریلی شراب پینے سے 23 افراد جانبحق ہوگئے
*عامر خان، سینئر ڈپٹی کنوینر*

جو کہتے ہیں کہ دو ہزار لوگ نہیں جمع ہونگے وہ آکر دیکھ لیں کے کتنے لوگ ہیں

ہمارے قافلوں کو علاقوں میں طاقت کا استعمال کرکے روکا گیا

مگر اب یہ قافلہ نہیں رکے گا

آپ کہتے ہو کہ ہم اکثریت میں ہیں جو چاہیں گے وہ کریں گے

شرم آنی چاہیئے جب 71 میں جن کی اکثریت تھی آپکے بانی نے انکو اقتدار نہیں منتقل کیا

ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں

ہم گرفتاریاں دیں گے اب نہیں رکیں گے

اب یہ قافلہ یہیں میٹرو پول ہوٹل کے چوراہے پر دھرنا دیگا

اگر یہاں طاقت کا استعمال کیا گیا تو یہ احتجاج شہر شہر اور گاوں گاؤں تک پھیلا دیں گے

آپ سے تمام دھاندلیوں اور کرپشن کا حساب لیا جائگا

آپکی اکثریت اس صوبے میں جعلی ہے
[م*حلیم عادل شیخ، لیڈر آف دی اپوزیشن سندھ اسمبلی*

میں تمام لوگوں اور اتحادیوں کو سلام پیش کرتا ہوں

صرف یہ قانون ہی کالا نہیں ہے بلکہ سندھ کے حکمرانوں کا منہ ھی کالا ہے

یہ کہتے ہیں کہ ہم تو بات کرنے کو تیار ہیں

مگر پرسوں جماعت اسلامی کو کہا کہ ہمیں آپکے دھرنے سے فرق نہیں پڑتا

ہمیں پتہ ہے کہ یہ باتوں کے بھوت نہیں ہیں

یہ لاتوں کے بھوت ہیں

آئین میں بلدیاتی اختیارات کا لکھا ہوا ہے

یہ وہ چوہے ہیں جو گندم اور آٹا کھا جاتے ہیں

ہم گورنر صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ ان چوروں کے خلاف کوئ کاروائی کیوں نہیں کرتے

ہم نے بلاول ہاوس دیکھا ہے اور وہاں پر کئے گئے قبضہ شدہ بنگلے بھی دیکھے ہیں
*سردار رحیم ،مسلم لیگ فنکشنل*

سندھ کی خاطر جس مشن کے لئے ہم نکلے آج اسکا پہلا مظاہرہ ہے

میں ایم کیوایم کی لیڈر شپ اور کارکنان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں

میں پی ٹی آئ کی لیڈر شپ اور کارکنان کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ تین مختلف جماعتوں کے باوجود ہم یہاں اکٹھے موجود ہیں

ہمارا اتحاد سندھ کو بانٹنے کی باتوں کو رد کر دیگا
*علی زیدی ، وفاقی وزیر و صدر پاکستان تحریک انصاف سندھ*

جوائنٹ اپوزیشن کی طرف سے کراچی والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں

پچھلے چودہ سالوں سے سندھ پر ایک ظالم اور جابر حکومت قائم ہے

ایم کیو ایم، اور جوائنٹ اپوزیشن نے آج ایک اچھا پاور شو پیش کیا ہے

میں زرداری مافیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک چھوٹا سا ٹریلر ہے

اس سے پہلے کا یہ احتجاج گھوم کر آپ کے ایوانوں تک پہنچے ہوش کے ناخن لیں

مہنگی ترین ڈیسکیں خریدیں اور کہتے ہیں کہ نیو ٹیکنالوجی لائیں گے

ان سے بسیں اور ہسپتال نہ چل سکے

سندھ حکومت 1122 ریسکیو سروس نہ بنا سکی

انہوں نے اسکولوں میں وڈیروں کو اوطاقیں بنا رکھی ہیں

سندھ کے بجٹ کا پیسہ دبئی اور بیرون ملک جارہا ہے

اس حکومت نے ایک کام درست نہیں کیا

اور آخر میں یہ کالا قانون نافذ کرکے رہی سہی کسر بھی پوری کردی

یہ سندھ کو دھرتی ماں کہتےبہیں

انہوں نے اس ماں کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکال لی

بلاول پہلے پرائمری اور سیکنڈری اسکول ٹھیک کردیں پھر ٹیکنالوجی بنائیں،

انہوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا

اعلان ہوا ہے سندھ حکومت پانچ ہزار اسکول بند کرنے جارہی ہے

یہ عوام کا پیسہ ہڑپ کررہے ہیں

سندھ حکومت کالا قانون لائی تاکہ رہی سہی کسر بھی نہ رہے

یہ عوام زرداری مافیا کے خلاف جنگ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے،

بلاول اپنی بجٹ تقریر میں کہہ رہا تھا کہ میں 27 فروری کو کراچی سے اسلام آباد مارچ کروں گا،

میں اعلان کرتا ہوں کہ پی ٹی آئی 27 فروری کو گھوٹکی سے کراچی مارچ کرے گی

یہ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کی بدمعاشی چلتی رہے گی؟

ہم سندھ حکومت کا تختہ پلٹ کر رہیں گے،

اب ٹیمپریچر بڑھانے کا وقت آگیا ہے،

یہ کہتے ہیں کہ 27 فروری کو اسلام آباد مارچ کریں گے

ہم 27 فروری کو اس جوائنٹ اپوزیشن کے ساتھ مل کر پورا سندھ بند کر دیں گے

ہم سب مل کر اس سندھ حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے
ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی احتجاج کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں
*ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، کنوینر ایم کیو ایم پاکستان*

یہ شہر پاکستان اور صوبے کے بجٹ کو ایک بڑا حصہ دیتا ہے

کیا یہ شہر پیپلزپارٹی کی حکومت کے آنے سے پہلے بھی ایسا ہی تھا

جمہوریت میں جس کے پاس جتنا مینڈیٹ ہوتا ہے اسکے پاس اتنا ہی اختیار ہوتا ہے

کوئ جاکر اندرون سندھ کے شہر دیکھے کہ وہاں کتنی ترقی ہوئ

بھٹو کے شہر لاڑکانہ کو دیکھیں کہ اسکی کیا حالت ہے

آئین کے آرٹیکل ایک سو چالیس اے کا تقاضہ ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں

آج جو لوگ اس احتجاج میں موجود ہیں وہ یہیں رہیں گے

ابھی تو یہ قافلہ ٹہرا ہوا ہے اگر یہ چل پڑا تو وزیراعلی ہاوس زیادہ دور نہیں ہے

ہم اس وزیراعلی ہاوس کو بھی خالی کروائیں گے

آج ہم صرف نوٹس دینے آئے ہیں

آج تمام قومیتوں کے لوگوں کے یہاں آنے کا شکریہ

پاکستان کی تمام قومیتوں کے لوگ گلدستے کی طرح اس احتجاج میں موجود ہیں
احتجاج کے شرکا عکامتی دھرنا
[علامتی دھرنا 2 گھنٹے کے لیے دیا گیا ہے
[ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی، عامر خان ۔پی ٹی آئی کے رہنما اسر وفقی وزیر ٹرک سے اتر کر سڑک پر دھرنے میں بیٹھ گئے
وفاقی وزیر علی زیدی کا علامتی دھرنے میں میڈیا سے گفتگو

میں پی ٹی آئی ،ایم کیو ایم ،جی ڈی اے کے کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،
اس دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کافی زیادہ جام ہو رہا ہے،
ہم یہاں پیپلز پارٹی کی مافیا کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ،
ہم یہاں سندھ کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بیٹھے ہیں ،
وفاقی حکومت نالے بنائے،سڑکیں بنائے ، کے فوربنائے ،
وفاقی حکومت ویکسینیشن بھر کروائے ،
پورے ملک میں 3 لاکھ سے گزیدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ،
ان میں سے 1 لاکھ 84 ہزار کا تعلق سندھ سے ہے ،

اشیا خرودنوش مہنگی کیوں ہوتی ہے ؟
نیب چیئرمین کے بیان کے مطابق 14 ارب روپے کی گندم چوہے کھا گئے،
اس وقت گندم کی قیمت 350 روپے ٹن ہے،
عوام کے پیسوں سے ہم گندم خرید کر لائے ہیں ،
سندھ حکومت کہتی ہے کہ ہماری گندم دو ٹانگوں والے چوہے کھا گئے ،
سندھ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول بورڈ کو ڈویژن پر لے کر جائینگے ،
سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو اضلاع پر لے کر جائینگے ،
پوری دنیا میں لوکل گورنمنٹ ٹیکس کے کر شہر پر لگاتی ہے،
سندھ حکومت کچرا کنڈیاں تک ٹھیکے پر دیتے ہیں ،
بلاول ہمیں ساڑھے تین سال سے جمہوریت سکھاتا ہے،
کہتا ہے کہ میں آکسفورڈ سے پڑھ کر آیا ہوں ،
پارلیمنٹ میں پر شعبہ کی کمیٹی ہے،
ہر کمیٹی کے ہم نے چیئر مین بنائے ہیں ،
ہیومن رائٹس کمیٹی کے چیئر مین بلاول زرداری خود ہے،
سندھ میں کسی کمیٹی میں اپوزیشن کا ایک ممبر بھی شامل نہیں۔ ہے،
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہونا چاہیے ،
مگر چیئر مین تو دور ممبر تک نہیں بنایا ،
7 دن میں سندھ حکومت نے کالا قانون واپس نہیں لیا تو ہم پورا سندھ بند کردینگے ،
ہم کراچی ، حیدرآباد ، بدین ، لاڑکانہ بند کردینگے ،

وزیر اعلی جیکب آباد ،سہون کے سول اسپتال سے اپنے جانوروں کا بھی علاج نہ کروائیں ،
ہم 7 دن کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ سندھ حکومت اس قانون کو واپس لیں ،
ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے ساتھ اختلافات ہوتے تو آج ہم ساتھ نہیں بیٹھے ہوتے ،
کراچی کو سندھ حکومت نے دنیا کے بڑے شہروں کی طرح درجہ نہیں دیا تو پاکستان کی معیشت بہتر نہیں ہوگی ،
لوکل گورنمنٹ کو جب تک خودمختار نہیں بنائے گے تب تک ملک ترقی نہیں کرے گا ،
کراچی والوں اس ملک میں اتنی طاقت ہے کہ پورا ملک بدل سکتا ہے،
کراچی والے اپنے حقوق کے لیے لازمی گھروں سے باہر نکلیں ،
ن لیگ نے ایل این جی کے معاہدے کیے اور آج ایل این جی کے مسائل کھڑے ہیں ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں