33

وسطی باغ میں سردار تنویر الیاس پر پر قاتلانہ حملہ، پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے گرفتاری کیلئے چھاپے

باغ (بیورو رپورٹ) پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی الیکشن مہم کے ڈپٹی چیئرمین و نامزد امیدوار حلقہ وسطی باغ سردار تنویر الیاس پر ہاڑی گہل کے مقام پر قاتلانہ حملہ، سابق ایس ایس پی موسیٰ خان سمیت دیگر ملزم نامزد، پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیئے، تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات سردار تنویر الیاس کفل گڑھ میں کھانے کی دعوت پر جارہے تھے کہ ہاڑی گہل کے مقام پر ایس ایس پی ریٹائرڈ موسیٰ خان کی ایماء پر پیپلز پارٹی کے مسلح کارکنان نے قافلے کا راستہ روکا اور تنویر الیاس کے پہنچتے ہی فائرنگ شروع کردی، تنویر الیاس فائرنگ کے نتیجے میں بال بال بچے، تنویر الیاس کے گارڈز نے اپنی جان پر کھیل کر بڑے تصادم کو روک لیا، پیپلزپارٹی کے کارکنان کی فائرنگ، پتھراو اور بٹ لگنے سے سردار تنویر الیاس کے گارڈ سمیت دو کارکنان زخمی ہوگئے، تصادم کی اطلاع جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے ہی تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنان موقع پر پہنچ گئے، سردار تنویر الیاس کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت دیتے رہے، جبکہ سابق ایس ایس پی موسیٰ خان نے موقع پر پہنچ کر پیپلز پارٹی کے کارکنان کو اشتعال دلانے کی کوشش کی اور پھر سے روڈ بند کردیا، پولیس بروقت اطلاع کے باوجود واقعے کے 2 گھنٹے کے بعد موقع پہنچی ، جس کے باعث مسلح کارکنان با آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، تاہم تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس کی سست روی اور انتظامیہ کی نااہلی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پنڈی سے باغ جانے والی مرکزی شاہراہ بند کردی، سردار تنویر الیاس نے صبح سات بجے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دھرنے سے عام شہری متاثر ہورہے ہیں، کارکنان روڈ کھول دیں، پولیس کو الٹی میٹم دیتا ہوں کہ اگر شام 6 بجے تک ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو پورا باغ چوک کردیں گے، بعد ازاں پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی، پولیس ایف آئی آر میں سابق ایس ایس پی موسی خان، سرفراز مغل، ظہیر مغل، شائق عزیز، حماد منظور اور دیگر کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، پولیس ایف آر کے مطابق ملزمان نے سردر تنویر الیاس کا راستہ روکا اور فائرنگ کی، سردار تنویر الیاس کے گارڈز نے جان پر کھیل کر بڑے تصادم سے بچا لیا، پیپلزپارٹی کے مسلح کارکنان کی فائرنگ، پتھراو اور بٹ لگنے سے سردار تنویر الیاس کے گارڈ سمیت دو کارکنان زخمی ہوگئے، دوسری جانب پی ٹی آئی کارکنان اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سردار تنویر الیاس پر حملہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور سردار قمر الزمان کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، فاروق حیدر نے انتظامیہ کو قمر الزمان کی پشت پناہی کی ہدایت کی جسکی وجہ سے قمر الزمان کی ایما پر انکے قریبی کارکنان جو پہلے ہی کئی طرح کے جرائم میں ملوث ہیں، انہوں نے حملہ کیا، مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ تنویر الیاس پر حملہ کرنے والا گروہ باغ کا سب سے بڑا جرائم پیشہ گروہ ہے اور اسے ہر طرح کے جرائم میں سردار قمر الزمان انکے بیٹے سردار ضیاء القمر کی مکمل پشت پناہی رہتی ہے، اگر انتظامیہ اور پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو وسطی باغ کو چوک کر دیں گے..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں