12

لاہور میں پولیس کے سپاہی کے بیٹوں نے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا لیکن پولیس کے پیٹی بھائیوں نے پرچہ درج کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے 

لاہور میں پولیس کے سپاہی کے بیٹوں نے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا لیکن پولیس کے پیٹی بھائیوں نے پرچہ درج کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے 

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے پنجاب پولیس پر شدید کی ان کا کہنا ہے کہ  سبزہ زار ملازمہ تشدد کیس۔ پنجاب پولیس کو کیوں نہ دنیا کی بے شرم ترین پولیس کہا جائے، ابھی تو یہ کانسٹیبل کے بیٹے ہیں جنہیں پولیس گرفتار کرنے حتی کہ 24گھنٹے بعد بھی FIR درج کرنے سے انکاری ہے، متاثرہ لڑکی کا بیان خود سن لیں

‏سبزہ زار لاہور میں کانسٹیبل مرتضی کے بیٹوں نے تشدد کر کے گھریلو ملازمہ ردا کی ٹانگیں توڑ دیں، اہل محلہ کے مطابق ASI امان اللہ کی سربراہی میں پولیس ٹیم آئی اور حسب مزاج اپنی پیٹی بھائی کے بیٹوں کو ہاتھ لگائے بغیر روانہ ہو گئی۔۔۔ وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پولیس

‏سے امید ہے کہ وہ نہ صرف کانسٹیبل کے بیٹوں کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کروائیں گے بلکہ کانسٹیبل مرتضی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ASI امان سمیت موقع پر پہنچنے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر پوری ٹیم کیخلاف محکمانہ کارروائی کر کے کالی بھیڑوں کو مثالی سزا دیں گے 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں