17

ملک شاھان حاکمین خان کا قاتل گرفتار سپردخاک پی پی سے زیادہ تحریک انصاف کے رہنما شریک ملک حاکمین کی بیوہ طرف سے مقدمہ درج

اٹک آبائی جائیداد کے تنازعہ پر پی پی پی کے سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک شاہان حاکمین خان کے قتل کا مقدمہ ان کی والدہ سابق وزیر سینیٹر ملک حاکمین خان مرحوم کی بیوہ کی مدعیت میں ان کے سوتیلے بیٹے آصف علی ملک اور ان کے بیٹے ملک شیر دل حاکمین کے خلاف درج کر کے قاتل ملک شیر دل حاکمین کو گرفتار کر کے اس کے والد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں تفصیلات کے مطابق 75 سالہ حمیدہ ملک بیوہ ملک حاکمین خان نے تھانہ صدر اٹک میں ایف آئی آر درج کرائی ہے کہ ان کے بیٹے ملک شاہان حاکمین کے ساتھ بلاول سیکرٹریٹ شیں باغ ہاءوس میں رہائش پذیر ہوں میرے حقیقی بیٹے ملک شاہان حاکمین خان اور سوتیلے بیٹے آصف علی ملک کے درمیان گزشتہ کچھ عرصہ سے جائیداد کے تنازعہ پر دیوانی مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ملک شاہان حاکمین خان نے آصف علی ملک کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن میں بھی مقدمہ درج کروا رکھا ہے جو زیر سماعت ہے چند روز قبل آصف علی ملک اپنے بیٹے ملک شیر دل حاکمین کے ہمراہ ہمارے گھر آیا اور کہا کہ ملک شاہان حاکمین خان کو سمجھائیں کہ میرے خلاف دیوانی اور فوجداری مقدمات واپس لے لے ورنہ نتیجہ اچھا نہیں ہو گا میں نے آصف علی ملک کو سمجھانے کی کوشش کی اور منت سماجت کی تاہم دونوں باپ بیٹا دھمکیاں دیتے ہوئے واپس چلے گئے بدھ کے روز شیں باغ گاءوں میں سابق ضلعی صدر تحریک جعفریہ اٹک سید فدا حسین شاہ مرحوم کے بیٹے اور مبلغ امریکہ علامہ عمران بخاری کے بڑے بھائی ضمیر بخاری اور نجم الحسن بخاری کے والد سیداقبال حسین شاہ کی نماز جنازہ میں جو ہمارے گھر کے سامنے گراءونڈ میں ادا ہونی تھی میں نے اور ملک شاہان حاکمین خان نے جنازہ کے فوراً بعد اسلام آباد روانہ ہونا تھا اسی پروگرام کے تحت میں اپنے بیٹے کی گاڑی میں جنازہ گاہ کے سامنے روڈ پر بیٹھی تھی ملک شاہان حاکمین خان گاڑی کھڑی کر کے جنازہ کیلئے گراءونڈ میں گئے وہاں عارف خان ولد لیاقت سکنہ ماڑی کنجور ، وقار انیس ولد ملک محمد عبداللہ سکنہ شیں باغ کے پاس رکھ کر بات چیت کرنے لگے اس دوران میرے سوتیلے بیٹے آصف علی ملک کا بیٹا ملک شیر دل حاکمین مسلح پسٹل آ گیا اور دیگر ہمرائیوں کے دیکھتے ہی دیکھتے سیدھا فائر قتل کی نیت سے ملک شاہان حاکمین خان پر کیا جو اسے سر پر لگا اور وہ گر گیا موقع پر موجود افراد نے ملک شیر دل حاکمین کو پکڑنے کی کوشش کی تاہم اس نے پسٹل لہرا کر انہیں دھمکی دی کہ میرے قریب مت آنا اور موقع سے فرار ہو گیا ملک شاہان حاکمین کو لوگوں کی مدد سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک منتقل کیا ملک شیر دل حاکمین نے اپنے باپ آصف علی ملک کے خلاف دیوانی اور فوجداری مقدمات کی رنجش کی بناء پر اور اس کے ایماء اور پلاننگ پر ملک شاہان حاکمین خان کو آتشیں اسلحہ سے فائر کر کے قتل کیا پولیس نے زیر دفعہ 324,109 ت پ کے تحت مقدمہ درج کیا بعدازاں راولپنڈی ہسپتال میں منتقل کرنے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہونے پر ایف آئی آر میں دفعہ 302 ت پ کا ضافہ کر دیا بعدازاں ڈی پی او اٹک سید خالد ہمدانی نے ملک شاہان حاکمین خان کے قتل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اے ایس پی صدر سرکل اٹک جواد اسحاق کی زیر نگرانی ایس ایچ او صدر اٹک جاوید اقبال ، انچارج ایچ آئی یو صدر اٹک سرکل عظمت حیات و دیگر افسران پر مشتمل ایک ٹیم کو فوری ملزم کو گرفتار کرنے کا ٹاسک دیا جو کہ اٹک پولیس کی ٹیم نے ملزم ملک شیر دل حاکمین کو انتہائی قلیل وقت میں آلہ قتل سمیت گرفتار کر کے ملزم کا عدالت سے جسمانی ریماند حاصل کر لیا ہے اٹک پولیس کے ترجمان کے مطابق ملزم کو بعد تفتیش چالان عدالت کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی ۔

پی پی پی کے سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک شاہان حاکمین خان قاتلانہ حملے میں سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے مرحوم پر جو قریبی عزیز کے جنازے میں شریک تھے نماز جنازہ کے دوران آبائی گاءوں شیں باغ میں مبینہ طور پر ان کے سوتیلے بھائی ملک محمد آصف کے 19 سالہ بیٹے ملک شیر دل حاکمین نے انہیں سر پر گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گولی لگنے سے وہ موقع پر ہی بے ہوش ہو گئے اور ان کے سر سے خون کے فوارے چھوٹ گئے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی جن کی ایمبولینس فوری طور پر شیں باغ گاءوں پہنچی اور انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک منتقل کر دیا ان کے ہمراہ سابق امیدوار پنجاب اسمبلی ملک حمید اکبر خان بھی ہسپتال آئے تاہم ان کی حالت تشویشناک ہونے اور مسلسل بے ہوشی کے سبب انہیں ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں راولپنڈی ہسپتال ریفر کر دیا گیا ملک حمید اکبر خان ان کے ہمراہ راولپنڈی بھی گئے خون زیادہ بہہ جانے کے سبب ملک شاہان حاکمین خان کو راولپنڈی ہسپتال ریفر کیا جا رہا تھا تاہم راولپنڈی ہسپتال کے گیٹ پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے مرحوم کی میت کو راولپنڈی سے واپس اٹک ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں لایا گیا اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک میں پوسٹ مارٹم کر کے لاش ورثاء کے حوالہ کی گئی ملزم واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ، رکن پنجاب اسمبلی ملک شاہان حاکمین خان کے قتل پر ڈی پی او اٹک سید خالد ہمدانی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے پولیس کو فوری طور پر ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے جس پر اے ایس پی اٹک جواد اسحاق اور ایس ایچ او تھانہ صدر اٹک جاوید اقبال اور انچارج ایچ آئی یو عظمت حیات جائے وقوعہ اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک میں پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ پہنچ کر ابتدائی شواہد اکھٹے کرنے کے علاوہ میڈیکل رپورٹ مرتب کیں ، ملک شاہان حاکمین خان ، سابق وزیر جیل خانہ جات ، ہاءوسنگ فزیکل پلاننگ خوراک پنجاب سینیٹر ملک حاکمین خان مرحوم کے بیٹے تھے سینیٹر ملک حاکمین خان ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں نصف درجن محکموں کے وزیر اور اس حلقہ سے 3 مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے علاوہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن بھی رہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں