45

بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کی سابق سربراہ فرزانہ راجہ کوان کےشوہرنے ہراساں کیاماراپیٹا اوران سےان کی جمع پونجی چھین کےانہیں گھرسے نکال باہرکیا

اسلام آباد۔:قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نےنیب کے تمام ریجنل بیوروز کو ہدایت کی ہےکہ وائٹ کالر کرائمزکے میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے قانون کےمطابق تمام وسائل بروئے  کار لائے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ نیب نے 179میگا کرپشن مقدمات میں سے 63میگا کرپشن مقدمات کو معزز احتساب عدالتوں نے قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا ہےجبکہ 95بدعنوانی کے مقدمات معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔نیب کے1272ریفرنسز مختلف معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباَ  1302اربہے ۔ نیب آرڈیننس کے تحت جلد سماعت کے لئے معزز احتساب عدالتوں میں قانو ن کے مطابق درخواستیں دائر کی جارہی ہیں. 2020میں35871شکایات موصول ہوئیں نیب نے قانون کے مطابق1681شکایات کی جانچ پڑتال،1326انکوائیریز جبکہ496انوسٹی گیشنز کی منظوری دی۔نیب نے 2020کے دوران 323 ارب روپے بلواسطہ اور بلاواسطہ بدعنوان عناصر سے برآمد کئے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کو اپنے قیام سے اب تک 487964شکایات موصول ہوئیں ،15930شکایات کی جانچ پڑ تال ،10041کی انکوائریز،4598انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی جبکہ 3682ریفرنسز مختلف معززاحتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے۔نیب نے اپنے قیام سے اب تک814 ارب روپے بلواسطہ اور بلاواسطہ بدعنوان عناصر سے برآمد کئے جو کہ پاکستان کے دوسرے اینٹی کرپشن اداروں سے زیادہ ہے۔  انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ یہ ٹیم ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر، لیگل کونسل، مالیاتی اور لینڈ ریونیو کے ماہرین پر مشتمل ہے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کرنے کے بعد نیب کی تحقیقات میں جہاں بہتری آئی ہے وہاں نیب نے انوسٹی گیشن آفیسرز /پراسیکیوٹرز کی عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے استعداد کار کو بہتر بنانے کے لئے ٹریننگ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کردار کو اہمیت دیتا ہے ۔نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے۔ جو ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔نیب کی کار کردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے سراہا ہے جو کہ نیب کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کے لئے ایک اعزاز کی بات ہے۔ نیب سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے نیب کو سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین بنایا گیا ۔ اس کے علاوہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بد عنوانی کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے۔ مزید بر آں نیب پوری دنیا میں واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے سی پیک کے منصوبوں کے تناظر میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔جو کہ نیب کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کا اعتراف  ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں