31

غیر سنجیدہ لونڈوں لپاڑوں کا کردار ادا کرنے والے وزیر خارجہ کی قومی اسمبلی میں فساد مچانے کی گلی کے بچوں کی طرح کی وضاحتیں

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی ،پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کے رویے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو

حکومت کبھی ہلڑ بازی نہ کرتی ہے اور نہ چاہتی ہے

آپ نے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر سنی

آپ بتائیں کون ہلڑبازی کر رہا تھا؟

کون غیر پارلیمانی زبان استعمال کر رہا تھا؟

کس پارٹی کی خواتین، اپنی نشستیں چھوڑ کر ٹریرری بنچز کی جانب گئیں؟

یہ ماحول تھا اور ممبران اپوزیشن کے رویے پر مشتعل تھے

میں نے معاملات کو سدھارنے کی کوشش کی

میں نے پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر صاحب سے وقت مانگا مگر بات نہ ہو سکی – ہاؤس adjurn کرنا پڑا

اسپیکر صاحب کے ہاں میٹنگ ہوئی مگر معاملات طے نہ ہو سکے

میں ان سے پھر یہی کہوں گا کہ آپ کو تنقید کا پورا حق حاصل ہے لیکن حدود و قیود طے کر لیجیے

ہر ممبر کو بات کرنے کا حق ہے

آپ کو بجٹ پر تنقید کرنا ہے، کیجئے لیکن حکومتی اراکین کو اپنا موقف تو پیش کرنے دیجیے

یہ بات مناسب نہیں ہے کہ آپ آئیں اور تقریر کر کے چلے جائیں اور آپ کے باقی اراکین سرکاری نکتہ نظر پیش نہ کرنے دیں

اس طرح یک-طرفہ ٹریفک نہیں چل سکتی

جمہوریت کی گاڑی دونوں پہیوں سے آگے چلتی ہے

اگر یہی وطیرہ رہا تو معاملات آگے نہیں چل پائیں گے

میری کوشش یہ ہے کہ معاملات آگے چلیں

اسپیکر صاحب نے ابھی اجلاس میں بلایا ہے اسی میں شرکت کیلئے جا رہا ہوں
دیکھیے بات کہاں پہنچتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں