49

صوابی میں پولیس نے کامران خان شھید قتل کیس کے ملزمان گرفتار لوٹی ہوئی دولت برآمد

صوابی
)ڈسٹرکٹ پولیس صوابی نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران تحصیل ٹوپی کے مین بازار میں کامران خان شھید کے قاتلوں کا سراغ لگا کران کی قبضے سے سرقہ شدہ لاکھوں روپے برآمدگی کی ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی جناب محمد شعیب خان کی بہترین حکمت عملی کی بدولت مطلوبہ ملزمان کو گرفتار کیے گنے۔

آئی جی پی خیبر پختون خواہ جناب معظم جاہ انصاری کی طرف سے ڈسٹرکٹ صوابی پولیس ٹیم کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد پیش کیۓ۔ اسپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر نے صوابی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے
کہا کہ ڈسٹرکٹ پولیس کی انتہاٸ بہترین حکمت عملی اور کوششوں سے کامران شھید کے قاتلوں کو گرفتار کیا۔

شاہ منصور پولیس لاٸنز میں اسپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر صاحب کی زیر صدارت ایک پر وقار تقریب منعقد کیا گیا۔ جس میں ڈی آئی جی مردان جناب یاسین فاروق ڈی پی او صوابی محمد شعیب خان،ایس پی انوسٹیگیشن بنارس خان اور کامران خان شھید کے بھاٸ اور بچوں سمیت چھوٹا لاہور کے مشران نے خصوصی شرکت کی۔

ڈی پی او صوابی محمد شعیب خان نے کامران خان شھید کیس میں مختلف ڈکیت گروپس اور مشتبہ افراد کو حراست میں لیکرگرفتار کرکے انٹاروگیٹ کیا۔ چونکہ یہ کیس ایک انتہائی اہم اور حساس نوعیت کا ٹارگٹ کیس تھا۔ ڈی ایس پی ٹوپی افتخار خان کی زیر نگرانی ایس ایچ او ٹوپی جناب جواد خان،انچارج ڈی ایس پی عامرعلی پی اے ایس آئی، انچارج کمپیوٹر لیب خافظ زاہد اے ایس آئی، پر مشتمل ٹیم نے بہترین حکمت عملی سے کامران خان شھید کیس میں چار رکنی ڈکیت گروپ کو ٹریس کرکے اسکے سرغنہ محمد اسرار ولد فرید خان ساکن شھباز گڑھی کو پہلے گرفتار کرکے جس نے دوران انوسٹیگیشن اپنے دوسرے ساتھیوں کے نام بتاکر پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرلیاتھا۔

ملزم محمد اسرار نے روبرو عدالت اپنا اعترافی بیان زیر دفعہ 364crpc قلمبند کروایا۔ ملزم محمد اسرار کے دو ساتھی ملزمان اشرف ولد حضرت آمان ساکن کوٹھا، اور شکیل ولد اسرار ساکن رسالپور کو بھی گرفتارکرلیا گیا۔ جس سے لاکھوں روپیہ اور واردات میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل بھی برامد کیا۔چار رکنی ڈکیت گروپ میں تاحال ایک ملزم کی گرفتاری باقی ہے جس کو انشااللّہ بہت جلد گرفتار کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں