45

ممتاز صحافی حامد میر نے معزرت کرلی لیکن اس توقع کے ساتھ صحافیوں پر حملوں کے سلسلہ کو رکوائے اور ان حملوں کے ذمہ داران کو قانون کٹہرے میں لایا جائے

آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حامد میر سے ملاقات میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ وہ (اسٹیبلشمنٹ سے متعلق)  اپنے الفاظ ہر معذرت خواہ ہیں۔ پرید ریلیز میں کہا گیا کہ حامد میر نے کہا ہے کہ 28 مئی کو نیشنل پریس کلب کے سامنے صحافیوں کی جبری گمشدگی اور تشدد کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اس دوران کئی صحافی دوستوں نے سخت تقاریر بھی کیں۔ اسی دوران میری بھی تقریر ہوئی۔ میرے الفاظ کو جس انداز میں غلط طور پر پیش کیا گیا اسکا مجھے اندازہ ہے۔ میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے تقریر میں کسی کا نام نہیں لیا اور میری فوج سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ میں بطور ادارہ پاک فوج کا احترام کرتا ہوں۔ میں نے سیاچن سے لے کر لائن آف کنٹرول بلوچستان اور فاٹا تک فوجی بھائیوں کی قربانیوں کو قریب سے دیکھا ہے اور ان کی کوریج کو باعث فخر سمجھا ہے۔ میرا مقصد ہرگز کسی کی دلازاری اور کسی کو تکلیف اور جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ میں اہنے اکفاظ سے پہنچنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صحافیوں پر حملوں کے سلسلہ کو رکوائے اور ان حملوں کے ذمہ داران کو قانون کٹہرے میں لایا جائے۔ اور اس ضمن میں پارلیمنٹ میں صحافیوں کے تحفظ کے لیئے قانون سازی بھی کی جائے۔ کمیٹی کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا۔ سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں