11

کینیڈا میں پاکستانی نژاد مسلمان خاندان کے 4 افراد کو گاڑی تلے روند نے کے ردعمل میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ ایک دہشتگردی کا واقعہ اور کینیڈین معاشرے کا امتحان ہے۔

کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں پاکستانی نژاد مسلمان خاندان کے چار افراد کو گاڑی تلے روند کر ہلاک کیے جانے کے بعد جہاں اس عمل کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے وہیں پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ ایک دہشتگردی کا واقعہ اور کینیڈین معاشرے کا امتحان ہے۔

یہ واقعہ اتوار کی شام اونٹاریو کے شہر لندن میں پیش آیا تھا جب 20 سالہ مقامی شخص نے اپنی گاڑی اس خاندان پر اس وقت چڑھا دی تھی جب وہ اپنے گھر کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے۔

پاکستان میں کینیڈا کی ہائی کمشنر ونڈی گیلمور نے کہا ہے کہ پاکستانی نژاد چار کینیڈین آج رات ایک خوفناک کارروائمیں ہلاک ہوگئے۔ پانچویں اسپتال میں۔ وزیر اعظم ٹروڈو سے: “ہماری کسی بھی جماعتوں میں اسلامو فوبیا کا کوئی مقام نہیں ہے۔” میرا دل متاثرین اور ساتھی کینیڈین خصوصا our ہماری حیرت انگیز پاکستانی کمیونٹی کی طرف جاتا ہے۔

اس واقعے میں اس خاندان کا صرف ایک نو سال کا بچہ زندہ بچ پایا ہے جو ہسپتال میں داخل ہے۔

مرنے والوں میں 46 سالہ فزیوتھریپسٹ سلمان افضل، ان کی اہلیہ اور پی ایچ ڈی کی طالبہ 44 سالہ مدیحہ سلمان، نویں جماعت کی طالبہ 15 سالہ یمنیٰ سلمان اور اُن کی 74 سالہ ضعیف دادی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں