21

ماں کے گھر جانے کی اجازت مانگنے پر ساس کا بیٹے کے ساتھ مل کر اس کے گھر والوں کے سامنے تشدد جسم پر متعدد جگہوں پر زخموں کے نشان کپڑے بھی پھاڑ دیئے اور بعد میں طلاق بھی دے دی لڑکی کے گھر والوں کو بھی قتل کی دھمکیاں

ماں کے گھر جانے کی اجازت مانگنے پر ساس کا بیٹے کے ساتھ مل کر اس کے گھر والوں کے سامنے تشدد جسم پر متعدد جگہوں پر زخموں کے نشان کپڑے بھی پھاڑ دیئے اور بعد میں طلاق بھی دے دی لڑکی کے گھر والوں کو بھی قتل کی دھمکیاں متاثرہ لڑکی کی ماں نے تھانہ صدر بیرونی درخواست دے دی جس پر مقدمہ درج مگر ملزم تاحال پولیس کی گرفت میں نہ آسکے تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر بیرونی کو آسیہ بی بی نے درخواست دی اور کہا کہ اسکی بیٹی کی شادی اڈیالہ روڈ کے علاقے راہ سکون کے رہائشی اجمل حسین سے ہوئی گزشتہ روز ایک شادی کے لیے بیٹی کو اپنے بیٹے کے ہمراہ لینے گئے تو وہاں اسکی ساس نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر میری بیٹی پر تشدد کیا اور میرے بیٹے پر بھی تشدد کیا میری بیٹی کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے اور شدید زخمی بھی کیا اور اسی دوران اس کے شوہر نے میری بیٹی کو طلاق بھی دے دی ہم لوگ بڑی مشکل سے جان بچا کر نکلے تھانہ صدر بیرونی کی پولیس نے لڑکی کی ماں کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا لیکن تاحال ملزمان پولیس کی گرفت میں نہ آسکے متاثرہ خاتون نے سی پی او راولپنڈی سے انصاف کی اپیل کی ہے کہ وہ ملزموں کو جلد سے جلد گرفتار کریں کیونکہ ان سے ہماری جان کو خطرہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں