30

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزردزری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کنفیوژن کا شکار ہے ، ہمیں مل کر سلیکٹیڈ حکومت کے خلاف دیوار بننا ہو گا، ہم چاہتے ہیں سب مل کر بجٹ کے خلاف اپنا ووٹ کاسٹ کریں اور پارلیمان میں کوئی کنفیوژن نظر نہ آئے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزردزری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کنفیوژن کا شکار ہے ، ہمیں مل کر سلیکٹیڈ حکومت کے خلاف دیوار بننا ہو گا، ہم چاہتے ہیں سب مل کر بجٹ کے خلاف اپنا ووٹ کاسٹ کریں اور پارلیمان میں کوئی کنفیوژن نظر نہ آئے۔چارسدہ میں بیگم نسیم ولی خان کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹوزردزری نے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کا اہم کردار ہے، مستقبل میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر سلیکٹیڈ حکومت کے خلاف دیوار بننا ہو گا، نااہل حکومت کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی پی ڈی ایم سے مستعفی ہوچکی ہے، ہرسیاسی جماعت کا اپنا نظریہ اور منشور ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عدم اعتماد پر درست کام کرتے تو پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت نہ ہوتی، پی ڈی ایم کے اجلاس میں تمام جماعتیں کنفیوژن کا شکار نظر آئیں، ایکشن پلان پر 10 سیاسی جماعتوں نے حامی بھری تھی۔ان کا کہنا تھا کہ جو جماعت نظریئے پر کلیئر نہیں وہ کیا ٹف ٹائم دیں گے، تحریک انصاف حکومت کا بجٹ آئی ایم ایف بجٹ ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان ہاوس تبدیلی سے تحریک انصاف حکومت آسانی سے گرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال سے پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے، افغان قیادت کو اپنے ملک کے لیے بہتر فیصلے کرنا ہوں گے۔ افغانستان میں امن ہوگا تو پورا خطہ پرامن ہو گا

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ولی باغ آمد
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، سیکرٹری جنرل نیر بخاری، ترجمان فیصل کریم کنڈی اور دیگر پی پی پی رہنما بھی ہمراہ تھے
بلاول بھٹو زرداری نے بیگم نسیم ولی خان کی وفات پر اے این پی قائدین سے تعزیت کی
پی پی پی چیئرمین نے اے این پی کی سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان کی سیاسی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا
اے این پی اور پی پی پی کئی نسلوں سے ملک میں آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور پارلیمان کی بالادستی کے لئے کوشاں ہیں، امیر حیدر خان ہوتی
1973 کے آئین سے لے کر اٹھارہویں اور 25ویں آئینی ترمیم تک دونوں جماعتوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے
دونوں جماعتوں نے پاکستان میں جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں
پی پی پی اور اے این پی کا منشور عوام دوست ہے، دونوں جماعتیں پرامن اور خوشحال پاکستان کی خواہاں ہیں، بلاول بھٹو زرداری
دونوں جماعتوں نے مل کر پاکستان کو اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبائی خود مختاری کا تحفہ دیا ہے
دیگر ہم خیال جماعتوں کے ہمراہ مستقبل میں بھی پارلیمان کے اندر اور باہر عوام کے حقوق کی جنگ لڑیں گے
اے این پی اور پی پی پی نے مل کر پی ڈی ایم سے استعفیں دیئے ہیں اور موجودہ صورتحال میں واپسی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا
پی ڈی ایم کے دس نکاتی پلان کی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے منظوری دی تھی لیکن اس پر عمل اور اتفاق قائم نہیں رہ سکا
سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے پورا پاکستان اذیت سے گزر رہا ہے
عوام بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کا سامنا کررہے ہیں
افغانستان سمیت خطے کے دیگر مسائل میں سلیکٹڈ حکومت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے
سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ، صاف شفاف انتخابات اور منتخب حکومتوں کا قیام اے این پی اور پی پی پی کی مشترکہ منزل ہے
ترقی پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کو ان کے آئینی، جمہوری اور قانونی حقوق دیں گے
چارسدہ(پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ولی باغ چارسدہ کا دورہ کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی، سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین، صوبائی صدر ایمل ولی خان اور دیگر قائدین نے بلاول بھٹو زرداری کا استقبال کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بیگم نسیم ولی خان کی وفات پر اے این پی قائدین سے تعزیت کی اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، سیکرٹری جنرل نیر بخاری، ترجمان فیصل کریم کنڈی، سینیٹر روبینہ خالد، صوبائی صدر ہمایون خان، شیراعظم وزیر، فرحت اللہ بابر، امجد آفریدی، نگہت اورکزئی اور دیگر پی پی پی قائدین بھی ہمراہ تھے۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی اور پی پی پی کے درمیان دیرینہ تعلقات رہے ہیں اور دونوں جماعتیں کئی نسلوں سے ملک میں آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور پارلیمان کی بالادستی کے لئے کوشاں ہیں۔ 1973 کے آئین سے لے کر اٹھارہویں اور 25ویں آئینی ترمیم تک دونوں جماعتوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ دونوں جماعتیں سیاسی حلیف بھی رہی ہیں اور حریف بھی۔ دونوں جماعتوں نے پاکستان میں جمہوریت کی جنگ لڑی ہے، جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں اور مستقبل میں بھی دونوں جماعتیں جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ امیر حیدر خان ہوتی نے پی پی پی چیئرمین اور دیگر رہنماؤں کا ولی باغ آمد پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کی سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان کی سیاسی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پی پی پی اور اے این پی کا منشور عوام دوست ہے۔ دونوں جماعتوں نے مل کر پاکستان کو اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبائی خود مختاری کا تحفہ دیا ہے۔ دونوں جماعتیں پرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی خواہاں ہیں۔ دونوں جماعتوں نے ملکر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور قربانیاں دی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے تاریخی سیاسی رشتے اور روابط ہیں۔ پی پی پی اور اے این پی دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ہمراہ مستقبل میں بھی پارلیمان کے اندر اور باہر عوام کے حقوق کی جنگ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی اور پی پی پی نے مل کر پی ڈی ایم سے استعفیں دیئے ہیں اور موجودہ صورتحال میں واپسی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ پی ڈی ایم کے دس نکاتی پلان کی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے منظوری دی تھی لیکن اس پر عمل اور اتفاق قائم نہیں رہ سکا جس کی وجہ سے راستے جدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے پورا پاکستان اذیت سے گزر رہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنادیا ہے۔ ملک بھر میں عوام بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران خارجہ پالیسی میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ افغانستان سمیت خطے کے دیگر مسائل میں سلیکٹڈ حکومت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے، جو پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ کٹھ پتلی حکومت بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک کو جواب دینے کے قابل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات اور منتخب حکومتوں کا قیام اے این پی اور پی پی پی کی مشترکہ منزل ہے۔ تمام ترقی پسند اور ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس سلیکٹڈ حکومت کامقابلہ کریں گے اور عوام کو ان کے آئینی، جمہوری اور قانونی حقوق دیں گے۔ اس موقع پر اے این پی کے سیکرٹری مالیات سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، مرکزی ترجمان زاہد خان، صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور، حاجی غلام احمد بلور اور لونگین ولی خان سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں