51

احتساب عدالت کوئٹہ نے بلوچستان کی تاریخ کے میگاکرپشن کیس کا فیصلہ سنا دیا، سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی اور سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کو مجموعی طور پر ساڑھے بارہ سال قید کی سزا

احتساب عدالت کوئٹہ نے بلوچستان کی تاریخ کے میگاکرپشن کیس کا فیصلہ سنا دیا، سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی اور سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کو مجموعی طور پر ساڑھے بارہ سال قید کی سزا سنا دی گئی،اربوں روپے کے اثاثے ضبط کرکے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی احکامات جاری،احتساب کے قانون کی شق 15کے تحت ملزمان دس سال کے لئے کسی بھی عہدے کے لئے نااہل قرار۔

معززاحتساب عدالت کوئٹہ نے صوبہ بلوچستان کی تاریخ کے بہت بڑے کرپشن کیس میں فیصلہ سنا تے ہوئے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی اور سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کو مجموعی طور پر ساڑھے بارہ سال قید کی سزا سنا دی جبکہ ملزمان کی جانب سے کرپشن کرتے ہوئے بنائے گئے اربوں روپے کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ضبط کرکے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کے بھی احکامات جاری کردیئے گئے۔
تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب بلوچستان نے محکمہ لوکل گورنمنٹ اور خزانہ بلوچستان کے افسران اور مشیر خزانہ کی ملی بھگت سے اربوں روپے کی کرپشن کیس کی تحقیقات شروع کیں تو انکشاف ہوا کہ سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی نے سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کے ساتھ سازباز کرکے غیر قانونی طور پر دو میونسپل کمیٹیوں خالق آباد اور مچھ کو دو ارب 34کروڑ روپے جاری کرتے ہوئے دو ارب 25کروڑ کا غبن کیا۔ بعد ازاں مزید چشم کشا انکشاف سامنے آنے پر سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کے گھر پرقانون کے مطابق چھاپہ مارا گیا جہاں موقع پر تقریبا80کروڑ (موجود ہ مالیت) لوکل اور فارن کرنسی برآمد ہوئی جبکہ 3کلو 3سو گرام سونا قبضے میں لیا گیا۔جس کی قومی میڈیا نے نہ صرف براہ راست کوریج کی بلکہ بدعنوانی کے ثبوت قوم کے سامنے لائے گئے۔
حقائق سامنے آنے پر خالد لونگو کے فرنٹ مین اور شریک ملزم سہیل مجید شاہ نے جرم تسلیم کرتے ہوئے خرد برد کئے گئے معزز عدالت کی توثیق سے 96کروڑ روپے سرکار کو واپس جمع کروائے، دوران تفشیش سلیم شاہ اور اسکے بے نامی داروں سے ڈی ایچ اے کراچی کی گیارہ جائیدادوں کی صورت میں ایک ارب روپے کی ریکوری کی گئی، شریک ملزمان طارق اور ندیم اقبال سے ایک کروڑ اور 30لاکھ روپے وصول کئے گئے جبکہ سابق سیکرٹری خزانہ کی جانب سے پلی بارگین کی درخواست نیب کی جانب سے مسترد کی گئی۔
قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب بلوچستان کی تحقیقاتی ٹیم نے شبانہ روز محنت کرتے ہوئے بلوچستان کی تاریخ کی کرپشن کے بڑے کیس میں ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی روشنی میں ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا۔ احتساب عدالت نے متعدد سماعتوں کے بعد نیب کی تحقیقات اور دلائل کی روشنی میں سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو دس سال قید جبکہ مشیر خزانہ خالد لانگو کو 26ماہ کی قید کی سز ا سنا دی جبکہ معزز عدالت نے ملز م مشتاق رئیسانی کے گھر سے برآمد شدہ تقریبا 80کروڑ روپے کی ضبطگی کا حکم صادر کرتے ہوئے ملزمان کے اربوں روپے کی کوئٹہ اور کراچی میں بنائی گئی جائیدادوں کے ساتھ ساتھ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئے گئے۔معزز عدالت کے فیصلے کے بعد احتساب کے قانون کی شق 15کے تحت ملزمان دس سال کے لئے کسی بھی عہدے کے لئے نااہل قرار دے دئے گئے۔
قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے نیب بلوچستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ نیب میگا کرپشن کے مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں