32

پاک چین آر ایم بی حکمت عملی سے تجارت میںآسانی ہوگی’ قربان علی سی پیک منصوبہ پاکستان کو چین جیسی بڑی معیشتوں سے جوڑ دیگا’ چیئرمین ایف پی سی سی آئی تاجر برادری کے لئے ویزا کا عمل آسان اور آسان ہونا چاہئے’ مرزا عبدالرحمن

اسلام آباد قربان علی چیئرمین اور مرزا عبدالرحمن کوآرڈینیٹر وفاقی ایوان ہائے تجارت و صنعت کیپٹل آفس اسلام آباد نے پاکستان اور چین کے مابین باہمی تجارت و کاروبار کو آسانی فراہم کرنے کیلئے مقامی کرنسی کے فروغ کو سراہتے ہوئے کہا کہ آر ایم بی کے فروغ سے پاکستان اور چین کے مابین نہ صرف تجارتی حجم میں اضافہ ہو گا بلکہ عالمی و مقامی سطح پر دونوں ممالک کے تاجروں کو آسانی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ خطے کی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جبکہ گلگت بلتستان اس کا گیٹ وے ہے ۔ چینی سرمایہ کاروں کو زراعت، ہائیڈرو پاور، روڈز ، سیاحت سمیت دیگر شعبوںمیں سرمایہ کاری کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس میں پاکستان اور چین کے مابین باہمی تجارت اور کاروبار میں آسانی و فروغ کیلئے رینمنبی (آر ایم بی ) کے انٹرنیشنلائزیشن فروغ کے حوالے سے منعقدہ ویبینار کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ویبینار میں پاکستان میں چینی سفیر سمیت دونوں ممالک کے بنکوں کے سربراہان ، تاجروں سمیت دیگر نمائندوں نے شرکت کی اور اپنی اپنی تجاویز پیش کیں ۔ قربان علی چیئرمین ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس اسلام آباد نے مطالبہ کیا کہ چینی حکومت گلگت بلتستان میں انڈسٹریل اینڈ کمرشل بنک آف چائنہ لمیٹیڈ ( آئی سی بی سی ) یا بنک آف چائنہ کی برانچ کھولے تاکہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کو آسان بنانے کیلئے آر ایم بی حکمت عملی کو صحیح معنوں میں نافذ کیا جا سکے ۔ انہوںنے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہدری خطے کی ترقی کیلئے ایک اہم اور بڑا منصوبہ ہے جبکہ اس منصوبہ کا گیٹ وے گلگت بلتستان ہے ۔ چینی و پاکستان حکومتوں کو گلگت بلتستان پر خصوصی توجہ دینا چاہیے ۔ سی پیک جیسے میگا پراجیکٹ کی تکمیل سے گلگت بلتستان نہ صرف ملک کے بڑے شہروں کیساتھ بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک کیساتھ بھی معاشی طور پر جڑ جائے گا ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مرزا عبدالرحمن کوآرڈینیٹر ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت ، زراعت ، لائیوسٹاک ، کان کنی ، ماہی گیری ، پھل ، سبزیوں ، مائنز اینڈ منرل ، ہائیڈرو پاور منصوبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ چینی سرمایہ کاروں کو ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کوویڈ 19 وبائی امراض کی وجہ سے سرحد بند ہونے کی وجہ سے کوئی پاکستانی تاجر چین نہیں گیا تھا اور اب تاجر برادری کے لئے ویزا کا عمل آسان اور آسان ہونا چاہئے۔ چینی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو چین کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ودیگر علاقائی ممالک کو اپنی معیشتوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرنے ہیں۔ مرزا عبد الرحمن نے پاکستان اور چین کے مابین دوطرفہ تجارت اور معاشی تعلقات کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی اور دونوں فریقین کے مابین تجارت بڑھانے کے لئے اپنی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔مرزا عبدالرحمن نے کہا کہ پاکستان خطے میں اپنے جیو معاشی مقام کے ذریعہ اپنی سرزمین کو علاقائی اور عالمی تجارت کے لئے تجارتی راہداری میں تبدیل کرنے کی بہت بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ‘ افغانستان اورچین کے مابین تجارت میں اضافے سے علاقائی تجارتی ماحول کے امکانات زیادہ سے زیادہ ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں