42

تحریک حریت جموں کشمیر کے چیئرمین مین محمد اشرف خان صحرائی وفات پا گئے

جموں :- تحریک حریت جموں کشمیر کے چیئرمین مین محمد اشرف خان صحرائی وفات پا گئے ۔معروف آزادی پسند رہنماء محمد اشرف صحرائی گزشتہ دو برس سے اودھمپور جیل میں قید تھے۔ جیل میں طبیعت خراب ہونے پر بھارتی قابض انتظامیہ نے کل انہیں ہسپتال منتقل کیا تھا۔
کافی عرصہ سے علیل کشمیری آزادی پسند رہنماء
کو علاج معالجے سے بھارتی قابض انتظامیہ نے جانتے بوجھتے دور رکھا تھا۔
تحریر آصف اشرف
دھرتی ماں جموں کشمیر کا ایک اور عظیم سپوت بھارت سے آزادی مانگتے مانگتے شہید ہو چلا۔ بھارت کے زیر قبضہ جموں کی اودھم پور جیل میں قید تحریک حریت کشمیر کے سربراہ محمد اشرف خان المعروف اشرف صحرائی بدھ کے روز آزادی کا خواب آنکھوں میں سجائے دنیا سے چل بسے۔ اشرف صحرائی کا تعلق سیز فائر لائن کے قریبی علاقے ٹکی پورہ لولاب سے تھا اور وہ اپنے خاندان سمیت عرصہ دراز سے سرینگر شہر میں قیام پذیر تھے۔ اشرف صحرائی کی زندگی کا طویل عرصہ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے ساتھ گزرا لیکن انہوں نے سید علی گیلانی کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی کی طرف سے مسلح جدوجہد کا ساتھ نہ دینے پر الگ ہو کر تحریک حریت جموں کشمیر نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ سید علی گیلانی کی بیماری کے باعث اشرف صحرائی کو تحریک حریت کا سربراہ بنایا گیا۔ گزشتہ سال پچیس رمضان کو ان کا لخت جگر جنید صحرائی بھارتی فوج سے معرکہ آرائی میں شہید ہوا۔ کشمیر کی تحریک میں پہلا واقعہ تھا کہ کسی سیاست کار کا اپنا بیٹا بندوق اٹھا کر قابض سامراج سے لڑتے ہوئے شہید ہوا جس کے بعد اشرف صحرائی کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں کچھ عرصہ قبل وادی سے ادھم پور جیل جموں منتقل کیا گیا۔ جہاں ان کی صحت مزید خراب ہوتی گئی۔ ادھم پور جیل سے GMSہسپتال جموں منتقل کیا گیا۔ جہاں بالآخر وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اشرف صحرائی کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انہوں نے اپنی تنظیم تحریک حریت جموں کشمیر کے منشور میں کشمیری عوام کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے ساتھ آزاد اور خودمختار کشمیر کا آپشن بھی دیا اور کئی مواقعوں پر اس آپشن کی کھلم کھلا حمایت بھی کی۔ اپنے لخت جگر کی شہادت پر انہوں نے بھرپور مسرت کا اظہار کرتے اس قربانی کو نہ صرف اپنے لیے اثاثہ قرار دیا تھا بلکہ جنید صحرائی کی نماز جنازہ بھی خود پڑھائی تھی۔ جموں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اشرف صحرائی کے جسد خاکی کو مشروط طور پر ورثاء اور رشتے داروں کے حوالہ کیا جائے گا لیکن انہیں جسد خاکی سرینگر لے جا کر مدفن کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قابض بھارتی حکام کو خدشہ ہے کہ اشرف صحرائی کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگ امڈ کر سامنے آسکتے ہیں۔ سرینگر سے جموں کشمیر لبریشن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ہاشم قریشی نے اشرف صحرائی کی موت کو شہادت قرار دیتے ہوئے اسے عدالتی قتل قرار دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جیلوں میں قید دیگر کشمیری اسیران خاص کر محمد یاسین ملک، شبیر شاہ، بٹہ کراٹے، ظہور بٹ سمیت تمام اسیران کو فوری رہا کیا جائے۔ جبکہ انجمن شرعی شیعان جموں کشمیر کے سربراہ آغا حسن موسوی نے بھی اشرف صحرائی کی شہادت کو تحریک آزادی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ اطلاع ہے کہ جمعرات کے روز وادی اور جموں کے کئی مقامات پر اشرف صحرائی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ اشرف صحرائی22رمضان کو شہید ہوئے جبکہ ان کے لخت جگر جنید صحرائی گزشتہ سال 25رمضان کو شہید ہوئے تھے۔ اشرف صحرائی کی شہادت پر جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیر کے سابق امیر اعجاز افضل خان ایڈووکیٹ نے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا عہد کیا کہ اشرف صحرائی کے اصولوں کو لے کر آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ دریں اثناء جے کے ایل ایف (ص) کے سربراہ محمد صغیر خان اور یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن (یکجا) کے کنوینئر آصف اشرف نے اشرف صحرائی کی موت کو تحریک کے لیے ایک بڑا خلاء قرار دیتے ان کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

تحریک حریت کشمیر کے رہنما محمد اشرف صحرائی بھارتی جیل میں انتقال کر گئے
جموں کورٹ بلوال جیل میں اسیر رہنما علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا فانی سے رخصت ہوگئے حریت رہنما عبدالحمید لون
نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر ایک عظیم رہنما سے محروم ہوگئی ہیں ۔
محمد اشرف صحرائی گزشتہ دو برس سے کورٹ بلوال جیل میں قید تھے۔جیل میں طبیعت خراب ہونے پر بھارتی قابض انتظامیہ نے کل انہیں ہسپتال منتقل کیا تھا
کچھ عرصہ پہلے محمد اشرف صحرائی صاحب کے بیٹے جنید صحرائی بھارتی قابض افواج کی حراست میں شہید ہوگئے تھے ۔

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے نامور حریت رہنماء اشرف صحرائی کی بھارت کی قید کے دوران شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے جناب اشرف صحرائی شہید اور ان کے خاندان کی قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوے کہا کہ وطن عزیز کو اپنے ان بہادر بیٹوں پر فخر ہے۔انہوں نے کہا بھارت نے قید وبند کی صعوبتوں کے ذریعے اشرف صحرائی کو کمزور کرنے کی کوشش کی مگر وہ ان کے آہنی عزم کو متزلزل نہ کر سکے۔انہوں نے کہا اشرف صحرائی ایک عزم صمیم کا نام تھے جنہوں نے تحریک آزادی کشمیرکے لیے پنی قیمتی متاع تک قربان کی اور اپنے بیٹے کی شہادت کا غم بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔وزیراعظم نے کہا میرا دل آج غم سے بوجھل ہے دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ ہم وطن کے اس بہادر بیٹے کو جو اسیری کے دوران رمضان کے مبارک مہینے میں شہادت کے عظیم مرتبے کو پہنچا کے تابوت کو کندھا بھی نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا اشرف صحرائی اسقدر بہادر تھے کہ جب انہیں بیٹے کی شہادت کی خبر ملی تو ان کا کہنا تھا میں اپنے دوسرے بیٹے کی شہادت کیلیے بھی تیار ہوں۔انہوں نے کہا تحریک آزادی کشمیر کا عظیم۔بطل حریت ہم سے جدا ہوا اللہ پاک سے دعاگو ہیں کہ وہ ان کے درجات سربلند فرمائے اور ان کے خاندان،جماعت،حریت قیادت اور ان کے معتقدین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان شہداء اور اسیران کشمیر کی قربانیاں رائگاں نہیں جائیں گی اور وہ دن دور نہیں جب آزادی کا سورج وادی کشمیر کے افق پر بھی نمودار ہو کر رہے گا۔

مسلم لیگ ن کے چیف آرگنائزر وزیر اطلاعات،سیاحت،سپورٹس و امور نوجوانان راجہ مشتاق احمد منہاس نے ممتاز حریت رہنماء اشرف صحرائی کی دوران اسیری وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں وزیر اطلاعات نے شہید اشرف صحرائی کی تحریک آزادی کے لیے خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ شہید اشرف صحرائی بھارت کے ظلم و تشدد کے خلاف سینہ سپر رہے ان کی تحریک آزادی کے لیے خدمات امر رہیں گی۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ پاک مرحوم کے درجات سربلند اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری شہداء اور اسیران کشمیر کی یہ قربانیں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ آزادی کی نعمت سے ضرور بہرہ ور ہونگے۔

مظفرآباد:- بھارتی جیل میں قید تحریک حریت جموں کشمیر کے عظیم رہنماء محمد اشرف صحرائی کی وفات منصوبہ بند قتل ہے ۔ عزیراحمدغزالی چیئرمین پاسبان حریت جموں کشمیر
محمد اشرف صحرائی شہید کو شدید بیماری کے باوجود بھارتی حکومت نے علاج معالجے سے دور رکھا محمد اشرف صحرائی شہید اور انکے خاندان کی تحریک آزادی کیلئے قربانیاں ہمیشہ یاد رہیں گی۔ بھارت کی وحشی حکومت کشمیری قیدیوں کو جانتے بوجھتے موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں محمد اشرف خان صحرائی کا جسد خاکی تدفین کیلیئے ورثاء کے حوالے کروائے۔ بھارت ریاستی جبر اور بربریت سے کشمیری عوام کے جزبہ آزادی کو نہیں مٹا سکتا۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں