24

مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی فوجی قبضے، انسانی حقوق کی پامالیوں اور ریاست کی جبری تقسیم کیخلاف پاسبان حریت جموں کشمیر کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گی

*مظفرآباد ( ) مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی فوجی قبضے، انسانی حقوق کی پامالیوں اور ریاست کی جبری تقسیم کیخلاف پاسبان حریت جموں کشمیر کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا ۔*

*بھارتی حکومت اور افواج کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے حق خودارادیت کا مطالبہ کیا گیا، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کو مقبوضہ ریاست میں جبر و استبداد سے روکیں مظاہرین کا مطالبہ ۔*

تفصیلات کیمطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں ہندوستان کے ریاستی جبر انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں، مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے پر بھارت کیخلاف دارالحکومت مظفرآباد میں پاسبان حریت کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر کی آزادی کے حق میں، بھارتی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کیخلاف اور حق خودارادیت کے حق میں نعرے درج تھے۔ بھارت مخالف مظاہرین نے آزادی، شھدائے کشمیر اور آزادی پسند نوجوانوں کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کیئے۔ برہان وانی شہید چوک میں لوگوں کی بڑی تعداد بھارت مخالف احتجاج میں شریک ہوئی۔ مظاہرے سے پاسبان حریت کے چیئرمین عزیراحمدغزالی، پیپلز پارٹی کے راہنما شوکت جاوید میر، انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے وائس چیئرمین مشتاق السلام، پاسبان کے وائس چیئرمین عثمان علی ہاشم، مہاجرین نمائندہ حمزہ شاہین، مذہبی راہنما عظمت حیات کشمیری، تنظیم مہاجرین اتحاد کے امیر عبدالروف تانترے، طالبعلم رہنماء عمیر سفید عباسی۔ محمد اسلم انقلابی، اورنگ زیب تانترے اور قاسم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے تاریخی حیثیت رکھنے والی متنازعہ ریاست پر غیر قانونی طور پر قابض ہے ۔ غیر قانونی فوجی قبضے کے دوران بھارت نے وہاں کے عوام کہ سیاسی، مذہبی اور سماجی حقوق بری طرح پامال کیئے۔ لاکھوں انسانوں پر جبرا قابض بھارت آزادی، حقوق اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے نہتے عوام کو بری طرح کچل رہا ہے۔ دسیوں ہزار شہریوں کو شہید کیاگیا ہے اور ہزاروں افراد جن میں خواتین، بچے ،نوجوان، بزرگ شامل ہیں قید کر لیئے گئے ہیں۔ مقررین نے کہا کے 5 اگست 2019 کو ریاست کی جبری تقسیم کرکے بھارت نے بہت بڑی دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے۔ ریاست کا وجود مٹانے ریاست کے عوام کی شناخت کو تحلیل کرنے کے بھارتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کے 623 دنوں کے فوجی محاصرے ، ہر طرح کے ظلم اور تشدد کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو کچلنے میں ناکام رہا ہے ۔ کشمیری عوام بھارت سے آزادی کیلئے آج بھی سربکفن ہیں کشمیری نوجوان آج بھی گرم گرم لہو پیش کرکے آزادی کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔ کشمیر کے عوام بھارت مخالف مزاحمتی تحریک کا ہراول دستہ کا کردار ادا کررہے ہیں۔ مقررین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کے وہ بھارت کو متنازعہ ریاست میں دہشت گردی، جبر اور غیر انسانی قوانین آفسپا ، پوٹا اور ٹاڈا کے استعمال سے روکنے کیلیئے کردار ادا کرے۔ مقررین نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیاء واچ سے مطالبہ کیا کے وہ بھارت کو متنازعہ ریاست میں حقوق البشر کو پامال کرنے سے روکے۔ مقررین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کے وہ ریاست جموں کشمیر میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا قیام عمل میں لائے ۔ بھارت مخالف مظاہرین نے برہان وانی چوک سے گھڑی پن چوک تک مارچ کیا اور احتجاجی طور پر بھارتی جھنڈا نظر آتش کیا ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں