54

میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، ہمت نہیں ہاروں گا جسٹس قاضی فائز عیسی ۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نظرثانی کیس کی سماعت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بطور جج سپریم کورٹ عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں اور مجھے ہٹانےکی خواہش کی وجہ یہ ہےکہ میں نے فیض آباد دھرناکیس کا فیصلہ دیا لیکن میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، ہمت نہیں ہاروں گا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس قاضی فائز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم نے مجھ پر اور میری اہلیہ پر سنگین الزامات لگائے، میرے خلاف ریفرنس کالعدم قراردینےکا فیصلہ آئین وقانون پرمبنی تھا، میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں پھر بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، فروغ نسیم کے لیے عدالت کا احترام نہیں، وزارت ضروری ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی فروغ نسیم تحریری دلائل جمع کراتے رہے، پہلی بار کوئی وزیرقانون ہے جس نے آئین پاکستان کو بنیادی حقوق سےمتصادم قراردیا، تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلے ہی ایف بی آر کو کارروائی مکمل کرنے کا کہا گیا جب کہ  ٹیکس کمشنر ذوالفقار احمد نے عدالت کے دباؤ میں آکرکارروائی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے بدنیتی پرمبنی کارروائی کی اور کبھی مجھے صفائی کا موقع نہیں دیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے انصاف کا قتل عام کیا، صدر نے میرے 3 خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا، مجھے ریفرنس کی کاپی نہیں ملی لیکن میڈیا پر بینڈ باجا شروع ہوگیا، میرے اور اہلخانہ کیخلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی۔

جسٹس قاضی فائز نے اپنے دلائل میں کہا کہ آصف سعید کھوسہ نے میرا مؤقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا، میرے ساتھی ججز نے جوڈیشل کونسل میں مجھے پاگل شخص قراردیا، کہا گیا عمران خان کی فیملی کے بارے میں بات نہیں ہوسکتی، عمران خان کرکٹر تھے تو ان کا مداح تھا اور آٹوگراف بھی لیا۔

معزز جج کا کہنا تھا کہ عظمت سعید میرے دوست تھے لیکن ان کے فیصلے پر دکھ ہوا، عظمت سعید آج حکومت کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، ہمت نہیں ہاروں گا، مجھے بطور جج سپریم کورٹ عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں اور مجھے ہٹانےکی خواہش کی وجہ یہ ہےکہ میں نے فیض آباددھرناکیس کا فیصلہ دیا، مرحوم خادم رضوی نے بھی فیض آباد دھرنا کیس فیصلےکیخلاف نظرثانی اپیل دائرنہیں کی جب کہ خادم رضوی کے علاوہ باقی سب نے فیض آباد دھرنا فیصلہ چیلنج کیا، تحریک انصاف اور ایم کیوایم نے بھی فیض آباد دھرنا فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کی، تحریک انصاف کی نظرثانی درخواست میں کہا گیا کہ میں جج بننےکااہل ہی نہیں، میں واقعی جج بننے کا اہل نہیں کیونکہ میں بنیادی حقوق کی بات کرتا ہوں۔

جسٹس قاضی نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت صبح کے اوقات میں مقرر کی جائے کیونکہ سماعت جلد مکمل ہونا ضروری ہے، جسٹس منظور ملک کے ریٹائر ہونے میں کم وقت ہے۔

اس پر جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ کو اب یاد آرہا ہے کہ وقت کم ہے؟ آپ براہ راست کوریج کی درخواست میں مارچ کا مہینہ ضائع کرچکے، اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ لائیوکوریج کی درخواست میرے اس امیج کے باعث اہم تھی جو انہوں نے پبلک میں بنایا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ امیج بنانے والی اللہ کی ذات ہے، آپ اس پربھروسہ رکھتے ہیں تو فکرکیوں، اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ فکر سپریم کورٹ کی ہے، میری کیا حیثیت ہے۔

بعد ازاں عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں