36

اٹک میں تحریک لبیک پاکستان کے 13 نامزد اور 120 نامعلوم عہدیداران اور کارکنان کے خلاف 16 ایم پی او سمیت 11 دفعات کے تحت مقدمہ درج

اٹک () تحریک لبیک پاکستان کے 13 نامزد اور 120 نامعلوم عہدیداران اور کارکنان کے خلاف 16 ایم پی او سمیت 11 دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او ماڈل پولیس اسٹیشن سب انسپکٹر چوہدری مظہر الاسلام نے تھانہ اٹک سٹی میں ایف آئی آر درج کرائی ہے کہ سربراہ تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال ، مظاہرہ اور امن و عامہ کو خراب کرنے کے علاوہ اٹک کامرہ روڈ بالمقابل خدمت مرکز مین روڈ کے اوپر روڈ بلاک کر کے شاہراہ عام کو بند ، ٹائر جلا کر حکومت کے خلاف بذریعہ لاءوڈ سپیکر غیر قانونی مجمع اکھٹا کر کے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے جس پر میں ٹی ایس آئی سید منیر شاہ ، اے ایس آئی سلطان محمود ، اجمل خان ، محمد سجاد ، محمد ندیم ، ہیڈ کانسپیبلان راشد حیات ، شاہد محمود ، کانسٹیبلان مسعود احمد ، ناصر علی اور نثار کے ہمراہ سرکاری گاڑی جسے ڈرائیور عبدالقدوس چلا رہا تھا اور ایک ریزرو فورس جس میں ہیڈ کانسٹیبلان محمد سہیل ، سیف الرحمان ، وقاص احمد ، کانسٹیبلان سرفراز خٹک ، محمد فہیم ، محمد زبیر ، بشارت خان ، وحید ، راشد محمود ، عادل ، ثاقب جمیل ، شکیب خان ، شہباز علی ، عقیل نواز کو لے کر رات9 بجے پہنچا تو عمر ارشد ایڈووکیٹ ساکن ماڑی کنجور ، منشی شیر خان قادری ، حافظ سفیر احمد سکنائے شکردرہ ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان نورانی ، محمد عدیل سکنہ بوڑا ، محمد نعیم واپڈا ملازم ، خرم شہزاد سکنائے مہریہ ٹاءون اعوان شریف ، عامر شہزاد ساکن مرزا ، محمد شفیق ساکن ڈھوک فتح ، پیرزادہ محمد حامد رضا خان ساکن مسجد ولی محمد ڈھوک فتح ، محمد احسان ساکن براہ زئی حال مسجد فاروقیہ محلہ کربلا ، احمد علی ساکن میانوالی حال دارالسلام کالونی ملازم حبیب بینک اٹک سٹی ، منیر احمد ساکن ڈھوک فتح اور 120 نامعلوم افراد مسلح ڈنڈے ، سوٹے و پتھر اٹھائے مین روڈ پر پتھروں کو روڈ کے درمیان رکھ کر روڈ بلاک کیا ہوا تھا اور آنے جانے والی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ میں مصروف تھے مجمع کو خلاف قانون بذریعہ اشتعال دلا رہے تھے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے انہیں ہر ممکن طریقہ سے سمجھایا گیا مگر ہٹ دھرمی ، اشتعال انگیزی سے باز نہ آئے بلکہ گھیراءو ، جلاءو جاری رکھا جس پر خلاف قانون مجمع کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے اور طاقت کے استعمال سے گریز کیا گیا تاہم مجمع خلاف قانون مسلسل غیر قانونی اقدام پر تلا رہا اور پولیس فورس کو سنگین نتاءج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں مزید سمجھانے پر خلاف قانون مجمع نے پولیس پر پتھراءو شروع کر دیا کانسٹیبل نثار احمد ان کے پتھر لگنے سے زخمی ہو گیا جسے ہسپتال بھجوایا گیا اور مناسب حکمت عملی استعمال کرتے ہوئے اس مجمع کو منتشر کیا گیا پولیس نے زیر دفعہ 16 ایم پی او ، 506;477373;,341,440,148,149,353,186 ت پ ، 3;47;6 پنجاب ساءونڈ سسٹم آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کر دیئے ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس نے اپنی ایف آئی آر میں اندھا دھند شیلنگ جس میں انتہائی زہریلی آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس سے نہ صرف تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی شرکاء منتشر ہوئے بلکہ اس آنسو گیس سے محلہ مہرپورہ اور ڈاکٹر خالد سعید ہسپتال تک گنجان آبادی کے ہزاروں افراد بری طرح متاثر ہوئے اور لوگوں کو سانس لینے میں اس زہریلی آنسو گیس کے سبب شدید دشواری اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں