31

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست اکٹریتی ججوں نے مسترد کردی سوشل میڈیا پر سوال اٹھ گئے

سپریم کورٹ نے  فیض آباد دھرنے کا فیصلہ کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت براہ راست نشرکرنےکی درخواست مسترد کردی۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست پر سپریم کورٹ کا دس رکنی بنچ 4 اور 6 سے تقسیم ہوگیا

سپریم کورٹ کے 6 ججوں نے اکثریتی رائے سے کیس کی براہ راست سماعت نشر کرنے کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست مسترد کی جب کہ 4 ججوں نے کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی حمایت کی
سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرے شروع ہوگئے  ممتاز صحافی مرتضی سولنگی کا کہنا ہے کہ  ^ ‏سپریم کورٹ پاکستان کے عوام کو انصاف دینے کیلیے بنی ہے۔ اس کے تمام فیصلے عوام کی ملکیت ہیں۔ یہ کوئی نجی ادارہ نہیں ہے اور اس کی کارروائی اور فیصلے کسی جج کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔ جب ٹیکنالوجی موجود ہے تو الیکشن کمیشن کو مشورے دینے کی بجائے جج حضرات ڈائنوسار نہ بنیں اس پر عمل کریں۔^

عدالت کا کہنا ہےکہ درخواست پر تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

فیصلے کے اختلافی نوٹ میں کیس کی براہ راست نشریات کی استدعا منظور کی گئی ہے اور کہا گیا ہےکہ  عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈکی جائے، عوامی دلچسپی کےکیسزکی آڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پربغیر ایڈیٹ اپ لوڈکی جانی چاہیے، معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے۔

عدالت نے کہا ہےکہ سپریم کورٹ معلومات تک کس انداز میں رسائی دے سکتی ہے یہ انتظامی معاملہ ہے۔

فیصلہ جاری ہونے پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ فیصلے تحریرکرنے اور اختلاف کرنے والے ججز کے نام جاننا چاہتا ہوں اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیصلہ پڑھیں گے تو آپ کو ناموں کا اندازہ ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی درخواست مستردکرنے کا فیصلہ بینچ نے اکثریتی بنیاد پر سنایا۔ 10میں سے چھ ججوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست مسترد کردی جبکہ چار ججز نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ منگل کے روز جسٹس عمر عطابندیال نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے ، سپریم کورٹ معلومات تک رسائی کسی انداز میں دے سکتی ہے اور یہ ایک انتظامی معاملہ ہے۔ دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ فیصلہ تحریرکرنے اور اختلاف کرنے والے ججز کے نام جاننا چاہتا ہوں۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ پڑھیں گے تو آپ کو ناموں کا اندازہ ہو جائے گا۔ فیصلہ سے اختلاف کرنے والے ججز نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ کیس  براہ راست نشر کرنے کی استدعا منظور کی جاتی ہے، یہ عوامی مفاد کا کیس ہے، سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست کوریج ہونی چاہیئے۔ عدالتی کارروائی کی آڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائے۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عوامی دلچسپی کے کیسز کی آڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پر بغیر ایڈٹ کئے اپ لوڈ کی جانی چاہیئے۔ واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی نظرثانی درخواست کی براہ راست کوریج کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست مسترد کردی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اب عدالت عظمیٰ کا 10رکنی لارجر بینچ ان کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں