30

مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو دوبارہ پی ڈی ایم میں واپسی کی دعوت دے دی

‏پیپلز پارٹی اور اے این پی کے پاس اب بھی موقع ہے ، انہیں دوبارہ پی ڈی ایم سے رجوع کرنا چائیے۔ انہوں نے راستے الگ کرلیے ہیں لیکن ہم دوبارہ ان کو موقع دے رہے ہیں۔ وہ آئین اور مل کر اس نا اہل اور ناجائیز حکومت کے خلاف جدوجہد کریں۔ مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ وضاحت طلب کرنا ہمارا حق تھا، ہمیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ ‘باپ’ کو ‘باپ’ بنائیں گے، اب بھی پیپلزپارٹی اور اے این پی کےلیے موقع ہے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔

اسلام آباد میں پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں بیان بازی میں نہیں الجھنا، یہ ہمارا آخری بیان ہے، پی ڈی ایم اس لیے نہیں بنی کہ عہدوں پرلڑیں،بڑی مشکلیں آئیں،گفتگو اور افہام تفہیم سے راہ نکالی گئی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کےبجائے اپنے مفادات دیکھ کر فیصلے نہیں کریں گے، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین اورسینیٹ میں اپوزیشن لیڈرکے لیے امیدواروں کا تعین اتفاق رائے سے ہوا، ان کیلیے اب بھی موقع ہےفیصلوں پر نظرثانی کریں اور پی ڈی ایم سے رجوع کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان کی سیاست اور جمہوریت عزیز تھی، آج بھی ہم اس فورم کے اُس عظیم مقصد کو مدنظر رکھتے ہیں، پی ڈی ایم اس لیے نہیں کہ ہم کسی عہدے کیلیے لڑیں، ہم نے بہت مشکل مراحل عبورکیے،غیر ضروری طور پر اسے عزت نفس کا مسئلہ بنانا سیاسی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، وہ پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کرسکتے تھے کہ وہاں وضاحت کریں گے۔

سربراہ پی ڈیم ایم نےکہا کہ خبریں آئیں کہ انہوں نے وضاحت طلبی کے نوٹس کو پھاڑد یا، آخری خبریں آئیں کہ یہ کون ہوتے ہیں ہم سے پوچھنے والے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم اپنے فیصلے رمضان میں کرلےگی، پی ڈی ایم تحریک کی رفتار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پی ڈی ایم کی رفتار اور آگے بڑھنے میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے ،اپنے دوستوں کو واپس لانے کیلئے ہم نے ان کا انتطار کیا، اب بھی کریں گے، ہم نے بیان بازی میں بالکل نہیں الجھنا، یہ ہمارا آخری بیان ہے،ہماری طرف سےجواب آگیا ہے، ان سے توقع ہے کہ بلوغت کا مظاہرہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں