40

متحدہ پی ایف یو جے کے قیام کے لیے کسی دھڑے سے آزاد آر آئی یو جے کے قیام کا فیصلہ

اسلام آباد (پریس ریلیز) ملک بھر میں میڈیا ورکرز اور صحافیوں کی حالت زار اور باالخصوص راولپنڈی اسلام آباد میں میڈیا بحران کے نتیجہ میں ہونے والی تنخواہوں میں کٹوتی، ڈاﺅن سائزنگ اور جبری برطرفیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشاورتی اجلاس یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دیکھا گیا کہ پی ایف یو جے کی دھڑے بندیوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تقسیم نے صحافیوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ دیکھا گیا کہ یونین کو متحد کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں کیونکہ دو ہزار تیرہ کے بی ڈی ایم اجلاس کے بعد ہونے والی دھڑے بندی کے بعد نفرتوں میں اضافہ ہوا اور ایک دوسرے کے لیے برداشت کم ہوتی گئی۔ سینئر ترین صحافی ایم ضیا الدین، رحیم اللہ یوسف زئی، شاہد الرحمن پر مشتمل یونیفکیشن کمیٹی کے قیام پر دونوں دھڑوں نے اتفاق کیا مگر اس کمیٹی کے فیصلوں کو نہیں مانا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی محسوس کیا گیا کہ پی ایف یو جے کے مختلف دھڑے صحافیوں کے اہم ترین مسائل پر بھی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھیچنے کے عمل میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ مسائل ختم ہی نہیں ہوتے جس کا فائدہ مالکان اخبارات و چینل، حکومت اور دیگر ادارے اٹھا رہے ہیں۔ صحافیوں کے مسائل کے حوالہ سے کوئی بھی دھڑا عدالت کا رخ نہیں کرتا لیکن دیگر معاملات پر نامعلوم اشاروں پر عدالتی کیسز میں فریق بننے کی درخواستوں نے بھی یونین کو رسوا کیا۔ اجلاس میں یہ نوٹ کیا گیا کہ اس تقسیم کے باعث صحافیوں کی آواز کمزور ہو گئی ہے اور اکثر میڈیا اداروں میں تنخواہیں چالیس فیصد تک کم کر دی گئی ہیں، سٹاف کی ڈاﺅن سائزنگ بھی کی جاتی ہے اور کوئی بھی یونین کا دھڑا اس کے خلاف موثر آواز نہیں اٹھاتا جس کے باعث صحافیوں کا معاشی قتل بہت سہل ہوتا جا رہا ہے۔ بے روزگاری کا شکار ہو کر موت کی وادی میں جانے والے سینئر صحافیوں میں فصیح الرحمان اور سردار جہانزیب کے نام شامل ہیں جبکہ کورونا کے ماحول میں بھی ورکرز کو بغیر انشورنس اور کسی احتیاطی آلات کی فراہمی کے کام لینے کے نتیجے میں صرف راولپنڈی اسلام آباد میں پانچ صحافی کورونا کا شکار ہو گئے جبکہ ان کے لیے اب تک کسی پیکج کا اعلان نہیں ہو سکا ہے کیونکہ کسی یونین نے اس حوالہ سے آواز نہیں اٹھائی۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں صحافت کی حالت روز بروز بگڑتی جارہی ہے اور اس کشیدہ صورتحال میں آزاد گروپ نے کوشش کی کہ اس خطرناک صورتحال سے نکلنے کے لئے تمام یونینز مل کر کام کریں چونکہ تقسیم در تقسیم نے صحافیوں کے روزگار پہ برے اثرات ڈالے ہیں، ان تجاویز پر عملدرآمد نہ ہونے پر تمام حقیقی صحافیوں کی مشاورت سے آر آئی یو جے بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو صحافیوں کو درپیش مسائل کے ممکنہ حل کے لئے کام کرے گی۔ اجلاس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ صحافیوں کی آواز کو توانا بنانے کے لیے پہلے مرحلہ میں راولپنڈی اسلام آباد کی سطح پر کسی دھڑے بندی سے پاک راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے ) قائم کی جائے جس کے لیے باقاعدہ رکن سازی کی مہم شروع ہو۔ اس رکنیت سازی کے نتیجہ میں بننے والی یونین کے لیے فوری طور پر الیکشن کمیٹی قائم ہو جو ماضی کی طرح یونین کے شفاف انتخابات کرائے اور صحافیوں کی نمائندہ تنظیم قائم ہو سکے۔ اس تنظیم کی رکنیت کا پیمانہ متحدہ پی ایف یو جے کے مطابق ہو گا اور ہر عامل صحافی اس کا حصہ بن سکے گا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ کوئی بھی دھڑا اپنے گروپ کو ختم کر کے اس آر آئی یو جے میں شامل ہو سکتا ہے جس کا تعلق کسی دھڑے سے نہیں ہے۔آزاد گروپ کی جانب سے بلائے گئے اس مشاورتی اجلاس میں سابق صدر نیشنل پریس کلب شکیل قرار، سابق صدر نیشنل پریس کلب و آر آئی یو جے شہریار خان، نائب صدر نیشنل پریس کلب ڈاکٹر سعدیہ کمال، فیصل حکیم مغل، راجہ عبد الوحید جنجوعہ، قربان بلوچ، محبوب الرحمان تنولی، عبد الرزاق کھٹی، غلام رسول کمبھر، جمیل ببر، شاداب خٹک، سلمان ادریس قاضی، عبد الرزاق چشتی، بابر ملک، راجہ کاشف حسین، وفا عباس، مدثر داﺅد، خالد ملک، مستحسن کاظمی، ذوالقرنین حیدرسمیت سینئر صحافی شریک ہوئے جبکہ جرنلسٹ پینل کے چیئرمین فاروق فیصل خان نے بھی اجلاس میں خصوصی دعوت پر شرکت کی۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں