46

پچھلے سال کے SOPs میں تبدیلیاں علماء کی آراء کی روشنی میں عمر کی اوپری حد کو 50 سے 60 سال کر دیا

پچھلے سال کے ایس او پیز میں تبدیلیاں

علماء کی آراء کی روشنی میں عمر کی اوپری حد کو 50 سے 60 سال کر دیا

نمازیوں کے مابین فاصلہ پچھلے سال کے ایس او پیز میں تبدیلیاں

علماء کی آراء کی روشنی میں عمر کی اوپری حد کو 50 سے 60 سال کر دیا

نمازیوں کے مابین فاصلہ 6 فٹ کی بجائے تین فٹ کیا گیا

معتکفین کو 6 فٹ فاصلہ برقرار رکھنے سے مشروط اجازت دی گئی6 فٹ کی بجائے تین فٹ کیا گیا

معتکفین کو 6 فٹ فاصلہ برقرار رکھنے سے مشروط اجازت دی گئی

صدر مملکت کا علماء سے مشاورت کی روشنی میں متفقہ اعلامیہ

مساجد اور امام بارگاہوں میں نماز، تراویح اور اعتکاف سے متعلق SOPs (ترمیم شدہ، 2021ء)
1. مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی۔
2. اگر کچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے۔
3. جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اْس پر نماز پڑھنا چاہیں، وہ ایسا ضرور کریں۔
4. نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے۔
5. جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کے اندر نہیں بلکہ صحن میں نماز پڑھائی جائے۔
6. 60سال سے زیادہ عمر کے لوگ، نابالغ بچے اور کھانسی نزلہ زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں۔
7. مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے۔ سڑک اورفٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔
8. مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کے لئے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے۔
9. اسی محلول کو استعمال کر کے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑکاؤ بھی کر لیا جائے۔
10. مسجد اور امام بارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان 3 فٹ کا فاصلہ رہے۔
11. مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پرعمل یقینی بنا سکے۔
12. مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین اگر فرش پر نمازیوں کے کھڑے ہونے کے لئے صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہو گی۔
13. وضو گھر سے کر کے مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔ صابن سے بیس سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔
14. لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں اورکسی سے ہاتھ نہیں ملائیں اور نہ بغل گیر ہوں۔
15. اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔ گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر یہ کر سکتے ہیں۔
16. موجودہ صور ت حال میں اعتکاف کے لیے ہر دو معتکفین کے درمیان فا صلہ 6فٹ ہوگا اور تمام SOPsکو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔
17. مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اورسحر کا اجتمائی انتظام نہ کیا جائے۔
18. مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ، آئمہ اور خطیب ضلعی وصوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں –
19. مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جا رہی ہے۔
20. اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرے گی۔اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ مخصوص علاقہ کے لیے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں