26

عدالتی حکم پر عملدآمد میں سیکریٹری بلدیات سندھ رکاوٹ بن گئے

کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ) سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی عدالتی فیصلے پر عملدآمد میں اصل رکاوٹ بیورو کریسی ہے، سیکریٹری بلدیات سندھ نجم احمد شاہ کے نگرانی میں کئی افسران مختلف ڈیپارٹمنٹ کے افسران عدالتی فیصلے کے برخلاف کام کررہے ہیں سیکریٹر ی لوکل گورٹمنٹ بورڈ ضمیر عباسی اور دیگر22 افسران انٹی کرپشن کے ساتھ مختلف محکموں کے ڈیپوٹیشن پر کام کررہے ہیں اور اسپیشل سیکریٹری ڈیولپمنٹ نجیب احمدحال ہی میں بمعہ تنخواہ بلدیات سندھ میں ضم کروالیا ہے اس کے پاس کراچی میگا پروجیکٹ کا اضافی عہدہ بھی موجود ہے واضح رہے ایڈمنسٹریٹر کراچی کی ہدایت پر سینئر ڈائریکٹر HRMنے نجیب احمد کا 31مارچ کو حکمنامہ میں بطور چیف انجینئر KMCمیں تقرری کردیا گیا ہے،یاد رہے نجیب احمد کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے بھرتی شدہ گریڈ۔17 کے سول انجینئر ہے، KMC میں ڈیپوٹیشن پر ٹرانسفر2005ء کروایا اور سولڈ ویسٹ KMCمیں کام کرتے ہوئے دو عدد ایکس کیڈر اور آوٹ آف ٹرن غیرقانونی پروموشن بطور ڈپٹی ڈائریکٹرگریڈ۔18 اور ڈائریکٹر گریڈ۔19 سولڈ ویسٹ KMC میں حاصل کرچکے ہیں، 2017 میں نجیب احمد نے اپنے ساتھ شبیہ الحسنین کو ملا کر ایک بار پھر غیرقانونی اور قواعد و ضوابط کے خلاف جعل سازی، ملی بھگت اور سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے گریڈ20 حاصل کیا اور چیف انجینئر سول کی پوسٹ ہتھیا لی، اور یہ تمام غیرقانونی کام سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائیکورٹ کے 2015 سے جاری شدہ احکامات کے برخلاف انجام دئیے گئے جبکہ عدالت عالیہ کے واضح احکامات ہیں کہ تمام ضم شدہ افسران کو ان کے اصل گریڈ میں واپس ان کے اصل محکمے میں بھیجا جائے اور تمام غیر قانونی پروموشنز آرڈرز، ایکس کیڈر اور آوٹ آف ٹرن، ختم کئے جائیں لیکن نجیب احمد اور شبیہ الحسنین کے گریڈ۔19 اور گریڈ۔20 کے غیرقانونی پروموشنز ختم کرنے کی بجائے سیکریٹر ی بلدیات سندھ نجم شاہ کی نگرانی میں کام کررہے ہیں ان دونوں کو مزید نواز دیا گیا اور گریڈ۔20 کے سینئر اور قابل اور میریٹ اور سینیارٹی میں ٹاپ آف دی لائن سول انجینئرز کو نظر انداز کرکے دوہرے عہدون پر تعینات کیا ہے، محمد لطیف کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈکے ملازم ہے وہ عرصہ دراز سے محکمہ بلدیات سندھ کی نگرانی میں کام کررہے ہیں جبکہ ایڈمنسٹریٹر کے۔ایم۔سی۔ لئیق احمد نے شبیہ الحسنین کو ڈی۔جی۔ٹیکنیکل سروسز انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے۔ایم۔سی۔ تعینات کیا ہوا ہے اور گریڈ۔20 کے سینئر سول انجینئرز کو ان کا ماتحت بنا دیا ہے اور اس طرح کھلم کھلا سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے معزز ججز کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور باقاعدہ توہین عدالت کی جارہی ہے، اس کے ساتھ ہی ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے ابتک طحہ سلیم نامی گریڈ۔18 کے ایک جونیئر ترین افسر کو او۔پی۔ایس۔ پر ڈائریکٹر پارکس کی پوسٹ پر برقرار رکھا ہے اور طحہ سلیم ابتک انتہائی ڈھٹائی کیساتھ ڈی۔جی۔پارکس کی پوسٹ پر بھی قابض ہے اور غیرقانونی طور پر دونوں عہدوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے،واضح رہے کہ سیکریٹری بلدیات سندھ نجم احمد شاہ خط نمبر E&A(LG(2(25)/2021بتاریخ 26مارچ 2021ء کو جاری کردہ ہدایت پرKMCمیں انتظامہ نے مصنوعی طور پر ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جس کے تحت 18افسران سے اضافی عہدہ واپس لے لیا گیا، دلچسپ امریہ ہے کہ KMCمیٹروپولیٹن کمشنر افضل زیذی دوہرے عہدے پر تعینات ہے، کئی سینئرڈائریکٹرز بھی ایک سے ذائد عہدوں پر تعینات ہے،سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر سینئر ڈائریکٹر ہومین رسورسس ڈیپارٹمنٹ KMCاصغر درانی کے حکمنامہ نمبر Sr.Dir(HRM)/KMC2021/1068بتاریخ 31مارچ 2021ء کو جاری کیا ہے،KMCمیں پاکستان ریلوے، جنگلات، فشریز، ورکس اینڈسروسز، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، اوردیگر محکموں کے ملازم بھی KMCکا حصہ بن چکے ہیں یہ افسرا ن جونیئر گریڈ میں آکر 17،18، 19اور گریڈ 20میں پہنچ چکے ہیں مصدق ذرائع کا کہنا تھا کہ DMCsسے آئیں 608جونیئر گریڈ کے عملہ KMCمیں سینئر ترین عہدوں اپناقبضہ چمٹے ہوئے ہیں اس بارے میں ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد بھی مختلف محکموں اور DMCsسے آئیں ہوئے608 ملازمین کی حیثیت کو ہٹانے پر تیار تھے اور زرائع کہ مطابق ایسا وہ ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد کی زبانی آرڈر پر کررہا ہے، اسی طرح KMCکے ایک افسر امتیاز ابڑوجو گریڈ 18کے جونیئر افسر بھی ڈائریکٹر اسٹیٹ کے بجائے سینئر ڈائریکٹر سمیت کئی عہدوں پر براجمان ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں