72

اٹک کے معروف تجارتی ، سیاسی سرگرمیوں کے محور تاریخی مقام فوارہ چوک کو مسمار کر دیا گیا اور اس کے نیچے سے فرنگی دور حکومت میں پختہ ، مضبوط ، چوکوں کی چنائی سے تعمیر ہونے والا 200 فٹ سے زائد گہرا کنواں نکل آیا

اٹک کے معروف تجارتی ، سیاسی سرگرمیوں کے محور تاریخی مقام فوارہ چوک کو مسمار کر دیا گیا اور اس کے نیچے سے فرنگی دور حکومت میں پختہ ، مضبوط ، چوکوں کی چنائی سے تعمیر ہونے والا 200 فٹ سے زائد گہرا کنواں نکل آیا خوبصورت طرز و تعمیر کے حامل کنویں کی موجودگی پر ضلع بھر میں سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہوئی اور سب سے زیادہ دلچسپی کی حامل رہی دور دور سے لوگ کنواں دیکھنے کیلئے آنا شروع ہو گئے جس پر ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر جو ایڈمنسٹریٹر بلدیہ اٹک بھی ہیں اور سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بلدیاتی اداروں کی بحالی کے بعد بھی انہوں نے اپنے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کا چارج چیئرمین بلدیہ اٹک ناصر محمود شیخ کے حوالہ نہیں کیا علی عنان قمر کے احکامات پر بلدیہ حکام نے کسی بھی حادثہ سے بچنے کیلئے اس کے چاروں اطراف میں سبز چادر کی چاردیواری سی بنا دی ہے فوارہ چوک اٹک ، کچہری چوک ، حبیب بینک روڈ ، سول بازار اور مدنی روڈ سے آنے والی چاروں شاہراءوں کا مرکز اور محور ہے فوارہ چوک اٹک کو ایک درجن مرتبہ سے زیادہ مختلف انداز میں تعمیر کیا گیا تاہم ہر مرتبہ چند روز کی چاندنی کے بعد پھر اندھیری رات کا منظر نظر آتا رہا تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان نے میڈیا کے سینئر نمائندگان صوفی فیصل بٹ ، جاوید خان اور ڈاکٹر مہتاب منیر خان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی فوارہ چوک اپنے اندر ایک طویل داستان لیے ہوئے ہے اس چوک میں قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان اور برصغیر کی نامور سیاسی ، مذہبی ، روحانی اور سماجی شخصیات نے عوامی اجتماعات سے خطاب کیے اور یہ تاریخی چوک اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہے قیام پاکستان میں بھارت سے لٹے پھٹے قافلوں کو یہیں سے مختلف سکولوں اور گھروں میں عارضی طور پر منتقل کیا گیا سابق صدر ، سابق آرمی چیف جنرل ضیاء الحق شہید کے دور حکومت میں ضلع کیملپور کا نام تبدیل کر کے اٹک رکھا گیا اور ضلع چکوال کے قیام کے وقت اٹک کی تحصیل تلہ گنگ کو چکوال کا حصہ بنا دیا گیا جو طویل عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی سیاسی ، معاشرتی لحاظ سے چکوال اور اس کی تہذیب و تمدن میں شامل نہیں ہوئی تلہ گنگ کے لوگ آج بھی اٹک سے تعلق رکھنے پر فخر محسوس کرتے ہیں فوارہ چوک اٹک میں 60 سال قبل اس دور کے ڈپٹی کمشنر راجہ ضیاء اللہ کے دور میں پہلا باقاعدہ عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس نکالنے کا اعلان ہوا اس پر ڈپٹی کمشنر نے دفعہ 144 نافذ کر دی اس دور کے ڈپٹی کمشنر کے پاس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے لا محدود اختیارات بھی موجود ہوتے تھے اور انہیں عوامی اجتماع پر گولیاں برسانے کا لائسنس بھی فرنگی دور حکومت میں ملا اور قیام پاکستان کے بعد ’’ کالے انگریز ‘‘ نے ان تمام اختیارات کو من و عن برقرار رکھا ڈپٹی کمشنر راجہ ضیاء اللہ نے بانی جنرل سیکرٹری مرکزی سیرت کمیٹی رجسٹرڈ اٹک محمد اکبر خان یوسف زئی جو پاکستان کی تاریخ کے واحد صحافی ہیں جو 60 سال تک نہ صرف مسلسل صحافت کے پیشہ سے منسلک رہے بلکہ 60 سال سے زائد ’’ جنگ میڈیا گروپ ‘‘ کے اٹک میں نمائندہ رہے ان کو ڈپٹی کمشنر نے بلایا اور کہا کہ عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایک لکیر کھینچ دی کہ اس سے آگے آنے والے پر پولیس گولیاں برسائے گی اور پولیس کو انہوں نے فائرنگ کے احکامات جاری کر دیئے تو سب سے پہلا پاءوں محمد اکبر یوسف زئی مرحوم نے اس لکیر کے پار رکھا اور بعدازاں اس دور کے جن لوگوں نے یہ لکیر کراس کی ان میں صرف خان محمد افضل خان زندہ ہیں جبکہ عینی شاہدین میں نگران اعلیٰ مرکزی سیرت کمیٹی رجسٹرڈ اٹک الحاج محمد الیاس شامل ہیں جبکہ دیگر عاشقان رسول ﷺ میں بانی چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ منصب حسین خان جو صحافت کے بے تاج بادشاہ تھے اور ان کے شاگردوں میں پاکستان کے معروف صحافی ’’ منو بھائی ‘‘ بھی شامل تھے ، نائب نگران اعلیٰ راشد الرحمان خان کے والد ماسٹر رشید الرحمان خان ، صدر حاجی محمد الماس کے دادا حاجی قادر بخش ، سینئر وائس چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ شہزاد انجم بٹ کے نانا اور سیرت کمیٹی کے عہدیدار قیوم بٹ کے پھوپھا یوسف بٹ المعروف بٹ بجلی والے ، ماسٹر خیر دین ، مرزا عبدالعزیز المعروف عزیز للاری ، جامعہ قادریہ حقانیہ کے صاحبزادہ عبدالظاہر رضوی ، سابق امیدوار پنجاب اسمبلی ملک حمید اکبر خان چیف آف شیں باغ کے والد سابق امیدوار پنجاب اسمبلی ملک اللہ بخش خان اور دیگر شخصیات تھیں بعدازاں محمد اکبر یوسف زئی کی پہلی گرفتاری کے بعد دیگر شرکاء کو گرفتار کر کے ضلع بھر کے مختلف تھانوں کی حوالاتوں میں اسیر رکھا گیا اور اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہر سال ’’ رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم کا یوم ولادت 12 ربیع الاول ‘‘ پوری شان و شوکت سے منایا جاتا ہے اس کو روکنے والوں کے نام و نشان مٹ گئے تاہم بانی جلوس کے نام قیامت تک زندہ اور جاوید رہیں گے اس تاریخی چوک میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان نے شہید ملت لیاقت علی خان ہاکی سٹیڈیم ( لالہ زار گراءونڈ ) میں 17 اکتوبر 1951 میں عوامی اجتماع سے خطاب کر کے فوارہ چوک کا دورہ کرنا تھا تاہم 16 اکتوبر 1951 کو انہیں لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک سازش کے تحت شہید کر دیا گیا اس تاریخی چوک کا سردار عبدالرب خان نشتر نے دورہ کیا مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے سابق ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف چلائی جانے والی عوامی تحریک میں بھی اس چوک میں خطاب کیا جو اس کیلئے سب سے بڑا اعزاز ہے سابق وزیر جیل خانہ جات ملک حاکمین خان مرحوم اور ان کے والد ملک کریم خان کا جھگڑا بھی اسی چوک میں ان کے روایتی مخالفین ملک اللہ بخش خان وغیرہ سے پی پی پی کے دور میں ہوا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اسیری کے دوران ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو نے بھی اسی تاریخی فوارہ چوک میں تاریخی جملہ ’’ کہ میں اس وقت تک ہلتی جلتی رہوں گی جب تک بھٹو صاحب چھوٹ نہیں جاتے ‘‘ کہا جو آج تک ایک مذاق کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اس تاریخی چوک میں جنرل ایوب خان کے خلاف چلائی جانے والی ملک گیر تنظیم کا آغاز ممتاز حریت پسند کشمیری رہنما سید کبیر الدین گیلانی کے بیٹے سابق مشیر بلدیات حکومت پنجاب سید عاشق کلیم کے بھائی اٹک کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت سید شجاعت حسین گیلانی المعروف شادا شاہ نے طالبعلمی کے دور میں جنرل ایوب خان کے خلاف تقریر کر کے کیا اور بعدازاں ان کی گرفتاری ہوئی اس چوک میں پی پی پی کی مرکزی قیادت اس دور کے 9 ستاروں کے تمام قائدین مفتی محمود احمد ، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار نیازی ، ولی خان اور دیگر نے کیا تھا اس تاریخی چوک میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی کا پہلا جلسہ جو اٹک کی تاریخ کے بڑے جلسوں میں شمار ہوتا ہے میں جوشیلے انداز میں تقریر کر کے کیا تھا اسی چوک میں جنرل ایوب خان ، جنرل ضیاء الحق ، جنرل یحییٰ خان ، سابق وزراء اعظم ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو ، محمد نواز شریف ، محمد خان جونیجو کے ادوار میں بھی یہ چوک سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ملک کی نامور مذہبی شخصیات نے یہاں دینی اور مذہبی اجتماعات سے بھی خطاب کیا مرکزی سیرت کمیٹی رجسٹرڈ اٹک کے زیر اہتمام سالانہ جلسہ عام اسی چوک میں منعقد ہوا کرتا تھا تاہم بعدازاں دہشت گردی کے نام پر سیاسی اور مذہبی اجتماعات کو یہاں سے منتقل کر دیا گیا اس چوک میں سابق مشیر بلدیات سید عاشق کلیم مرحوم نے درجنوں مرتبہ عوامی اجتماعات سے خطاب کیا علاوہ ازیں آج بھی سیاسی ، سماجی مذہبی اور دیگر احتجاجی ریلیوں کا آغاز اور اختتام اسی چوک پر ہوتا ہے ملی یکجہتی کونسل کے قائدین اور بعدازاں ایم ایم اے کے قائدین نے بھی اسی فوارہ چوک کے ذریعے حکومتوں کو للکارا جماعت اسلامی جو ضلع اٹک کی سب سے منظم جماعت ہے وہ 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے علاوہ دیگر تقاریب بھی اسی تاریخی چوک میں منعقد کر کے عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے کوشاں ہے ملک بھر اور اقوام عالم میں کسی بھی طرح کے اہم واقعہ یا کسی شخصیت کی کسی کامیابی پر ان کی پارٹی یا ان کے چاہنے والے مٹھائی کی تقسیم سمیت لنگر تقسیم کا عمل اسی چوک سے کرتے ہیں اٹک شہر میں روزانہ اجرت کی بنیاد پر آنے والے ہزاروں محنت کش بھی نماز فجر کے بعد اسی چوک میں آ جاتے ہیں جہاں سے انہیں دیہاڑی یا ٹھیکے کے بنیاد پر لوگ اپنے تعمیراتی کاموں یا گندم کی کٹائی کے موسم میں بھی مزدور اسی چوک سے حاصل کرنا ایک روایت ہے دن میں یہ چوک تجارتی سرگرمیوں کا مرکز اور شام کو یہاں چٹ پٹے کھانے سیخ کباب ، شوارما ، برگر ، ملک شیک ، آئس کریم ، کافی ، ، سوپ ، یخنی ، ابلے ہوئے دیسی انڈے ، کوءٹہ کی معروف چائے اور کھانوں کا کوءٹہ چمن ہوٹل ، سیاسی و سماجی شخصیت خان محمد افضل خان پہلوان کا ناز ہوٹل جو بطور گیسٹ ہاءوس استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ اقبال ہوٹل ، بٹ ہوٹل ، سٹینڈرڈ فارمیسی ، کریسنٹ ہال ، عباس کلاتھ ہاءوس ، عالم فیبرکس ، معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا ملکیتی امین اسلم پلازہ ، اور بھائی بھائی پان ہاءوس کے حسیب الدین عرف بھیا ، 40 سال قبل ڈاکٹر دارالفضل ، انڈس ہوٹل ، اباسین ہوٹل اور دیگر قدیم ہوٹل ، بیکری ، مٹھائی کی دکانیں جن کے نام و نشان آج ختم ہو گئے ہیں اسی چوک کی رونق ہوا کرتے تھے اسی چوک میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں کوڑے برسانے کے مناظر بھی عوام کو دکھانے کیلئے اسی چوک میں مجرموں کو باندھ کر کوڑے برسائے جاتے تھے غرض اٹک کا یہ فیصل آباد کی طرح کا ’’ گھنٹہ گھر ‘‘ تھا جہاں سے تاریخ ، سیاست ، تجارت ، حکومتوں کے اتراءو چڑھاءو شروع ہوتے اور یہیں ان کے اختتام ہوا کرتے تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں