31

یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن مس ماریا  ارینا کے بیان کا بھرپور خیرمقدم کہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف یورپی یونین کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی ہے۔ چیرمیں کشمیر کونسل علی رضا سید

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہا ہے کہ ہم یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن مس ماریا  ارینا کے اس بیان کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف یورپی یونین کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی سب کمیٹی کی چیئرپرسن مس ماریا  ارینا نے پارلیمنٹ کے ایک حالیہ آن لائن سیشن میں مقبوضہ وادی کشمیر اور بھارت میں جاری بھارتی حکام کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی خراب صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ مئی 2021ء کو پرتگال کے شہر پورٹو میں منعقد ہونے والے ای یو انڈیا سمٹ کے دوران یورپی یونین کے لئے ایک نادر موقع ہے کہ  وہ اس مشترکہ سربراہی اجلاس میں انسانی حقوق کی صورتحال پر انڈیا سے موثر بات چیت کرے کیونکہ انڈیا میں سول سوسائٹی کے لوگ، صحافی، طلباء اور  اقلیتوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، خصوصًا بھارت میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دفتر بھی جبراً بند کیا گیا ہے جو کہ قابل مذمت عمل ہے۔

انہوں نے یورپی یونین کو تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کے یونین کو بھارت سے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں سیاسی ضمیر کے قیدیوں کی رہائی، آزادی اظہار کے قوانین پر پابندی کے خاتمے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو کام کرنے سے روکنے جیسے قوانین کے اختتام

اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے خاتمے اور دیگر پابندیوں کی معطلی کے لیے پرزور مطالبہ کرنا چاہیے۔

اپنے ایک بیان میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے ماریا ایرینا کے بیان کو جرتمندانہ اور قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ بروقت اور درست بیان ہے۔

انہوں نے کہاکہ یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی سربراہ نے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں اور ناجائز اور غیرقانونی پابندیوں کی درست نشاندہی کی ہے۔

علی رضا سید نے کہاکہ یورپی یونین کو بھارت کے ساتھ مذاکرات میں انسانی حقوق کے مسائل پر ترجیح بنیادوں پر توجہ دینے چاہیے اور بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو انسانی حقوق کے تحفظ سے مشروط کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ سات دہائیوں سے مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں اور خاص طور پر پچھلے ڈیڑہ سال سے لاک ڈاؤن، انٹرنیٹ سروس کی پے درپے معطلی، سوشل میڈیا پر پابندی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں  اور جبری گمشدگیوں اور نوجوانوں کے قتل عام نے کشمیری عوام میں شدید خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے ریاستی فسطائیت کی بدترین مثال قائم کی ہے۔ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی کئی بین الاقوامی رپورٹس آچکی ہیں لیکن بھارت اس کے باوجود یہ ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہے۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے ای یو انڈیا آزادانہ تجارتی معاہدے کے سابقہ مذاکرات کار اور سابق رکن یورپی پارلیمنٹ ڈاکٹر سجاد حیدر کریم کی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آوازبلند کی۔

انہوں نے کہاکہ یورپی حکام بھارت کے یورپ سے  تجارتی تعلقات کے حوالے سے یورپی پارلیمنٹ کے ۲۰۰۸ کے فیصلے پر قائم رہیں جس میں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔

علی رضا سید نے کہاکہ یورپ بھارت کے ساتھ تجارت کے لیے انسانی حقوق کے تحفظ کی شرط پر قائم رہے اور خاص طور پر مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکوانے کے لیے اقدامات کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں