44

چار سالوں سے بھارت کی قید میں گرفتار شہید کشمیر محمد مقبول بٹ کے برادر اصغر اور جے کے ایل ایف کے مرکزی قائد ظہور احمد بٹ پر بھارتی حکومت نے چوتھی مرتبہ پبلک سروس ایکٹ (پی۔ایس۔اے)نافذ کر کے انھیں مزید دو سال کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے

راولاکوٹ (آصف اشرف)
چار سالوں سے بھارت کی قید میں گرفتار شہید کشمیر محمد مقبول بٹ کے برادر اصغر اور جے کے ایل ایف کے مرکزی قائد ظہور احمد بٹ پر بھارتی حکومت نے چوتھی مرتبہ پبلک سروس ایکٹ (پی۔ایس۔اے)نافذ کر کے انھیں مزید دو سال کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے ظہور بٹ کی سزا میں اضافے کی اطلاع ملتے ہی جموں کشمیر کے طول و عرض میں غم و غصہ کی کیفیت دوڑ گئی آبائی گھر ترہگام کپواڑہ میں علیل ان کی 90سالہ والدہ شاہ مالی بیگم ان کے بچوں اور اہلیہ میں تشویش پیدا ہو گئی۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ ان کے خاندان کے سربراہ ظہور بٹ کو علاج کی خاطر فوری رہا کر کے گھر منتقل کیا جائے دریں اثناء شہید اشفاق مجید وانی کے والد محترم عبدالمجید وانی، شہید عبدالحمید شیخ کی ہمشیرہ محترمہ، شہید شبیر صدیقی کے اہل خانہ، شہید جنرل بشارت رضا کے اہل خانہ شہید اول اعجاز ڈار کے خاندان عبدالقادر راتھر مرحوم کے اہل خانہ شہید کاکا حسین کے اہل خانہ تہاڑجیل دہلی میں قید جے کے ایل ایف راج باغ کے سربراہ فاروق ڈار المعروف بٹہ کراٹے کے خاندان اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے قائدین ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ، ایس ایم افضل، انجینئر غلام رسول ڈار، شو کت بخشی، مشتاق اجمل، الطاف حسین، اشرف بن سلام، جاوید میر، طاہر میر، زمان میر، یاسین بٹ، اقبال گاندرو، منظور صوفی، جاوید زرگر، پروفیسر جاوید، حسنی مبارک،راسخ خان خو رشید،مصطفی بٹ،وجا ہت عزیز قر یشی،شفا عت جان،شنگلوفیا ض میر،یعقو ب بٹ،ڈا کٹر حیدر حجا زی،سلیم ننھا جی،ڈاکٹر مسعود عالم، عبدالا حد وازہ،قطب عالم،رفیق وار،بلال صدیقی،سلیم زرگر،شیخ عبدالرشید پاکستان میں قیام پذیر محمد مقبول بٹ کے فرزند اکبر جاوید مقبول بٹ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم ایڈوکیٹ صغیر،جعفر کشمیری،شعیب شاہ،خورشید میر،بشارت نوری،یو نا ئیٹڈ کشمیرجر نلسٹس ایسو سی ایشن(یکجا)کے کنو ینر آ صف اشرف، تہاڑ جیل دہلی میں قید محمد یاسین ملک کی والدہ محترمہ، ہاشم قریشی، آفاق خان، اعظم انقلابی، الطاف اندرابی، اقبال میر، اسلامک سٹوڈنٹس لیگ کے سرپرست اعلیٰ شکیل بخشی نے ظہور بٹ کی سزا میں اضافہ پر رنجیدگی کا اظہار کرتے ہند حکام سے فوری طور پر انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ظہور احمد بٹ جو پچھلے چار سال سے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بھارت کی قید میں ہیں اور ان دنوں ڈسٹرکٹ جیل اننت ناگ میں اسیری کے شب و روز گزار رہے ہیں کو گزشتہ ایک ماہ سے صحت کی خرابی بالخصوص کھانسی اور بخار کا سامنا بھی ہے مگر حکام بالا بار بار کی مانگ اور درخواست کے باوجود ان کو طبعی معائنہ کے لیے معالج کے پاس لے جانا گوارہ نہیں کر رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں