46

رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے دائرے میں بلوچستان کو باقی صوبوں کے برابر لانے کے لئے سخت جدوجہد کی ہے ظیور بلیدی

وزیر خزانہ بلوچستان ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے دائرے میں بلوچستان کو باقی صوبوں کے برابر لانے کے لئے سخت جدوجہد کی ہے کیونکہ بلوچستان اسمبلی نے ، زیادہ قوی اور شہریوں کےلئے مفید، بلوچستان راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 کی منظوری یکم فروری 2021 کو دےدی ہے صوبے میں برسر اقتدار حکومت نظام حکمرانی میں شفافیت پر یقین رکھتی ہے جو ایک مضبوط اور ترقی پسند آر ٹی آئی قانون کے بغیر ناممکن ہے، وقت کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان اسمبلی نے پرانا قانون منسوخ کر کے نیا اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بلوچستان راءٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021 متعارف کرایا تا کہ شہریوں کو معلومات کی بروقت رسائی ممکن بنائی جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پی ڈی آئی کے زیر اہتمام پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے ’’ معلومات تک رسائی کے قوانین کے نفاذ کا تجزیہ ‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے کیا سیمینار سے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سنٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشیٹیوز ( سی پی ڈی آئی ) مختار احمد علی ، ڈائریکٹر پروگرامز ایم ایم ایف ڈی محترمہ صدف خان ، انفارمیشن کمشنرز پاکستان انفارمیشن کمیشن فواد ملک، زاہد عبداللہ ، ڈائریکٹر بجٹ سٹڈی سنٹر سی پی ڈی آئی عامر اعجاز ، رضا گردیزی اور محترمہ تنزیلہ مظہر نے بھی خطاب کیا اس موقع پر صحافیوں ، پبلک انفارمیشن آفیسرز، وکلاء اور سول سوساءٹی تنظیموں کے اراکین چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان ، ڈویژنل سینئر نائب صدر ریجنل یونین آف جرنلسٹس راولپنڈی ڈویژن سعید آفریدی ، ضلعی سینئر نائب صدر ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان اٹک سید اسد عباس بخاری ، سرپرست اعلیٰ سینٹرل یونین آف جرنلسٹس پاکستان الحاج پرویز خان اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی ڈائریکٹر بجٹ سٹڈی سنٹر سی پی ڈی آئی عامر اعجاز نے کہا کہ معلومات تک رسائی کا حق شفافیت اور بدعنوانی سے پاک معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے آر ٹی آئی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ آر ٹی آئی کو بنیادی انسانی حقوق کا سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے اس موقع پر ’’ معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کا تجزیہ ‘‘ کے نام سے ایک تحقیقاتی مقالہ جو حال ہی میں یورپی یونین کے مالی معاونت سے جاری پراجیکٹ، سول سوساءٹی برائے آزاد میڈیا اور اظہار رائے کے تحت سی پی ڈی آئی نے مکمل کیا تھا مقالے کے حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ اب بھی تقریبا تمام وزارتوں میں رازداری کا کلچر غالب ہے کیونکہ اس مقصد کے لئے بھیجی گئی بیشتر معلومات تک رسائی کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں آیا انہوں نے پی آئی سی کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی جیسے فنڈز کی کمی، انفارمیشن کمشنرز کی تقرری میں تاخیر، حکومت کی جانب سےانتظامی تعاون کا فقدان، ورکنگ رولز کو حتمی شکل دینے میں تاخیر اور اس کے نتیجے میں عملے کی کمی نیز عوامی اداروں کے زیرانتظام معلومات کی فراہمی میں مزاحمت پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا مختار احمد علی نے کہا کہ وفاق میں راءج معلومات تک رسائی کے قانون میں بہت سی خامیاں ہیں اور اس قانون کو صوبائی اور بین الاقوامی سطح پر راءج معلومات تک رسائی کے قوانین کے مساوی لانے کے لئے سفارشات بھی پیش کی جا چکی ہیں لیکن موجودہ شقوں کے نفاذ میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ جمہوری تقاضوں کے منافی ہے اس قانون میں بہتری لانے کے لئے سول سوساءٹی کو قانون ساز اداروں کے ساتھ مشاورت اور مسلسل اشترک کی ضرورت ہے صدف خان نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ کس طرح کرونا نے صحافیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حق کو متاثر کیا موجودہ حالات میں قابل بھروسہ اور مستند معلومات تک رسائی انتہائی ضروری ہے اگر صحافیوں کو بھی مستند اور مصدقہ معلومات تک رسائی حاصل نہیں تو عام شہری کو کیسے حاصل ہو سکتی ہے ;238; کانفرنس کے دوران انفارمیشن کمشنرز اور سول سوساءٹی ممبران نے پاکستان میں شفاف اور موَثر معلومات تک رسائی کے قوانین کے فروغ کے لئے مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ معلومات تک رسائی حاصل ہو رضا گردیزی نے اس موقع پر کہا کہ اگرچہ سندھ نے معلومات تک رسائی کا بہت اچھا قانون نافذ بنایا ہے لیکن اس کے نفاذ میں ابھی بھی مسائل درپیش ہیں قانون نافذ کرنے کے 4 سال بعد بھی سندھ انفارمیشن کمیشن ابھی تک غیر فعال ہے، ہم سی ایس اوز اسے فعال بنانے کے لئے عدالت بھی گئے معلومات کی طلب اور رسد کے دونوں پہلوؤں میں فرق موجود ہے کیونکہ شہری معلومات تک رسائی کے حق کے استعمال سے بے خبر ہیں انفارمیشن کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن فواد ملک نے اس موقع پر کہا کہ اگرچہ کمیشن کو ابتدائی مرحلے میں ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اب صورتحال بہتر ہوتی جارہی ہے آر ٹی آئی سے متعلق آگاہی سیشن وقت کی ضرورت ہے وفاقی انفارمیشن کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن زاہد عبد اللہ نے کہا کہ کمیشن ہر ہفتے میں 4 دن مقدمات کی سماعت کرتا ہے معلومات تک رسائی کے قانون پر عمل درآمد چیلنج ہے اور اس کے ساتھ ہی کمیشن کو دیگر مسائل بھی درپیش ہیں پی آئی او کو مستقل طور پر معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے اور وہ قانون کے مطابق کمیشن کے احکامات کی تکمیل کرتے ہیں سوال جواب کے سیشن کے دوران، شرکاء کو شہریوں تک معلومات تک رسائی کے حق کو یقینی بنانے کے لئے موجودہ حکومت کے آئندہ اقدامات کے حوالے سے بھی شرکاء کو اگاہ کیا سی پی ڈی آئی سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز (سی پی ڈی آئی) ایک آزاد، غیرجانبدار اور غیر منافع بخش رجسٹرڈ سول سوساءٹی تنظیم ہے جو پاکستان میں ترقی اور امن کے امور پر کام کررہی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں