31

سندھ:— پی ٹی آئی کے 3 اراکین سندھ اسمبلی منحرف ہوگئے۔

سندھ:—
پی ٹی آئی کے 3 اراکین سندھ اسمبلی منحرف ہوگئے۔


کریم۔بخش گبول، اسلم ابڑو اور شہریار شیر پارٹی قیادت سے نالاں، فضل واوڑا اور سیف ابڑو کو ووٹ نا دینے کا اعلان -!!!’

پریس ریلیز

سندھ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، پی ٹی آئی کے تین اراکین کو اغوا کرلیا گیا ہے، رابطے میں نہیں ہے، ان کے فون بند اور اہل خانہ سے بھی رابطے میں نہیں ہیں۔ خرم شیر زمان

کریم بخش گبول کا وڈیو بیان آیا ہے وہ ان کے ماضی سے اختلاف رکھتا ہے، انہوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کے خلاف بات کی ہے۔فردوس شمیم نقوی

جتنا وقت میرا تحریک انصاف میں گزرا ہے اتنا شرجیل میمن کا پیپلز پارٹی میں نہیں گزرا۔ ہم نہ بکنے، جھکنے اور ڈرنے والے نہیں ہیں۔جمال صدیقی

کراچی (01مارچ) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے انصاف ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت سندھ میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کل شام سے پاکستان تحریک انصاف کے تین اراکین اسمبلی کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ ہماری پارٹی کے تین اراکین اسمبلی ہم سے رابطے میں نہیں ہے، ان کے فون بند ہیں۔ جب ہم نے ان کے اہل خانہ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے اہل خانہ سے بھی رابطے میں نہیں ہیں اور ان کے اہل خانہ انتہائی فکر مند ہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فردوس شمیم نقوی، سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار، اراکین سندھ اسمبلی جمال صدیقی، ارسلان تاج، عدیل احمد،پی ٹی آئی رہنما ارسلان فیصل مرزا، ارم بٹ موجود تھے۔خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے پولیس سمیت تمام اداروں میں شکایات درج کروا دی ہیں۔کچھ دن قبل ان لاپتہ اراکین نے ہمارے کچھ ارکان کو بتایا تھا کہ ہمیں مختلف طریقوں سے ڈرایا جارہا ہے، ہم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور ہمیں ووٹ بیچنے کے لئے پیشکش کی جارہی ہیں۔ یہ سارا معاملہ جب شروع ہوا جب اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا گیا، تب سے تحریک انصاف کے اراکین کو ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ لا پتہ اراکین اسمبلی کے اہل خانہ بہت پریشان ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ سندھ میں جو پیپلز پارٹی کی حکومت ہے یہ سارا کھیل ان کا کھیلا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کریم بخش گبول سے ڈرا دھمکا کر اور دباو میں لا کر بیان دلوایا گیا ہے۔کریم بخش گبول وہ شخص ہیں جنہوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کی کرپشن پر آواز اٹھائی ہے۔ کریم بخش گبول جیسے مخلص اراکین کبھی اپنی وفاداری نہیں بیچتے۔ کریم بخش گبول سمیت دیگر دو اراکین کے بارے میں ہمیں کوئی اطلاعات نہیں مل رہیں کہ وہ کہاں موجود ہیں۔ ہم پیپلز پارٹی کو بتانا چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اپنی صوبائی حکومت کی طاقت کا ناجائز استعمال کررہے ہیں اسی طرح ہم بھی وفاق کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے انہیں دبا سکتے تھے لیکن ہم نے یہ کام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ہمارے لیڈر وزیر اعظم عمران خان نے کبھی یہ تربیت نہیں دی کہ کسی کو ڈرا دھمکا کر ان کی وفاداریوں کو تبدیل کروایا جائے۔ ہم نے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے خدشات اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کردیا تھا۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سینیٹ میں اضافی نشستیں جیتنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ ہم سب اراکین اسمبلی کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ اگر ہمارے کسی رکن کو قتل، اغوا یا اسکے اہل خانہ کو کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری آصف علی زرداری، مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر عائد ہوگی۔ کچھ دن قبل ہم سب اراکین کی سیکورٹی کو واپس لے لیا گیا تھا۔ خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے پر اطمنان کا اظہار کرتے ہیں، اس فیصلے سے معلوم ہو سکے گا کہ وہ کونسے لوگ ہیں جو سینیٹ الیکشن میں اپنے ضمیر بیچتے ہیں۔ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ وزیرا عظم عمران خان کو بھی خراج تحسین پیش کریں گے کہ انہوں نے ہمیشہ شفاف انتخابات کے لئے جدوجہد کی۔ ہم نے دھرنے دیئے اور دھرنوں کے دوران بھی ہمارا یہی مطالبہ ہوتا تھا کہ جہاں دھاندلی ہوتی ہے اسے روکا جائے۔اس موقع پر فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ میری کل دوپہر میں کریم بخش گبول سے بات ہوئی تھی، ان کی طبعیت ناساز تھی۔ کریم بخش گبول نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ میرا ووٹ تحریک انصاف کا ہے جس امیدوار کو پارٹی کہے گی میں اسے ووٹ دوں گا۔ میں اپنے کارکنان اور ووٹرز سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کے گھر والوں کو تحفظ دیں۔ کریم بخش گبول واضح انداز میں یہ جانتے ہیں کہ سندھ کی تباہی میں جس جماعت کا ہاتھ ہے وہ پیپلز پارٹی ہے۔کریم بخش کی ڈھائی سالہ کارکردگی دیکھیں تو انہوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کے خلاف بات کی ہے، لیکن ان کا جو وڈیو بیان آیا ہے وہ ان کے ماضی سے اختلاف رکھتا ہے۔اگر کریم بخش گبول کو اس طرح بیان دینا ہوتا تو وہ پریس کانفرنس کر کے اعلان کرتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو خرید و فروخت کرنے کے عادی ہیں وہ ماضی میں خیبر پختونخواہ میں بھی یہ کام کر چکے ہیں۔ہم الیکشن کمیشن سے کہتے ہیں کہ ان مجرموں کو بھی پکڑیں جو خرید و فروخت کررہے ہیں۔ ہمارے 65ووٹوں کے بدلے میں ہماری 3جنرل نشستیں، 1ٹیکنوکریٹ اور ایک خاتون کی نشست نکلتی ہے۔ ہم نے سندھ میں اپنی نیک نیتی کا ثبوت دیا کہ ہماری جتنی نشستیں بنتی ہیں اس سے ایک امیدوار بھی زیادہ کھڑا نہیں کیا۔ جن کی نیتیں خراب ہیں انہوں نے اضافی امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ہے جسے ووٹ نہیں دینا تو وہ میڈیا پر آ کر بیان دے۔ہمارا ووٹ پی ٹی آئی کی امانت ہے، ہم پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتے ہیں، ہم اپنی پارٹی کے مقروض ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم سب وہ لوگ ہیں جو عمران خان کے ساتھ مخلص ہیں۔ ہمارے ووٹ عمران خان اور تحریک انصاف کی امانت ہیں۔پیپلز پارٹی مختلف طریقوں سے ہمارے اراکین کو رابطہ کررہی ہے، انکے وزراء اور قیادت اسی کام پر لگی ہوئی ہے۔ مجھے بھی ایک شخص نے رابطہ کیا ہے۔ میں 26سال سے پی ٹی آئی کا کارکن ہوں۔شرجیل میمن سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کبھی بھی پی ٹی آئی کے مخلص اور نظریاتی ورکرکو خریدنے کی کوشش بھی نہ کرے۔ جتنا وقت میرا تحریک انصاف میں گزرا ہے اتنا شرجیل میمن کا پیپلز پارٹی میں نہیں گزرا۔ ہم نہ بکنے والے ہیں، نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی ڈرنے والے ہیں۔ اگر ہمارے کسی ایم پی اے یا انکی فیملی کو جانی یا مالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ دار پی پی قیادت ہوگی۔ ہمارے اراکین پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں