39

سپریم کورٹ نے کئی ہفتے سینیٹ کے انتخاب اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرینس کو مسترد کرتے ہوئے آئین کے تحت خفیہ رائے شماری سے کرانے کا فیصلہ دیا ہے

سپریم کورٹ نے کئی ہفتے سینیٹ کے انتخاب اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرینس کو مسترد کرتے ہوئے آئین کے تحت خفیہ رائے شماری سے کرانے کا فیصلہ دیا ہے سابق وزیر نتھو داد خان کے صاحبزادے اٹارنی جنرک خالد جاوید خان کورونا کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوئے صدر مملکت عارف علوی کو اب تک سپریم کورٹ کو متنازعہ ریفرنس بھجوائے سینیٹ کے انتخاب 3 مارج کو ہونگے خیبر پختون خوا سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحیی آفریدی علیحدہ سے اپنا نوٹ لکھیں گے انہوں نے کہا کہ ‏صدرمملکت کا ریفرنس واپس بھیجنے کی وجوہات بعد میں بتائی جائیں گی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ‏صدرمملکت کے ریفرنس کو بغیر کسی جواب کے واپس بھیجا جاتا ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ‏صدرمملکت کا سوال آرٹیکل 186 کے زمرے میں نہیں آتا، ‏اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پرچیف جسٹس پاکستان نے رائے تحریرکی‏ سینیٹ انتخابات آئین وقانون کے تحت ہوتے ہیں، سپریم کورٹ کی رائے سپریم کورٹ نے کہا کہ ‏ووٹ کے خفیہ ہونے پر آئیڈیل انداز میں کبھی عمل نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ کے مطابق ‏خفیہ ووٹنگ کے عمل کو انتخابی ضروریات کےمطابق ٹیمپرکیا جاتا ہے، ‏سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر 8 صفحات پر مبنی رائے جاری کردی
وزیر اطلاعات سندھ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کے بعد اب صدر مملکت بھی آرڈیننس فیکٹری بند کر دیں۔

ناصرحسین شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نااہل اور سلیکٹڈ حکمرانوں کو ایک بار پھر قانونی محاذ پر شکست ہوئی، عدالتی فیصلہ پی ڈی ایم کی اخلاقی و قانونی فتح ہے۔

ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کی رائے کا خیر مقدم کرتے ہیں، حکمرانوں کی ضد نے ناصرف عدالتوں کا وقت تباہ کیا بلکہ قوم کو بھی پریشان کیا، الیکشن کمیشن کے این اے 75 کے فیصلے سے بھی اپوزیشن کے مؤقف کی فتح ہوئی، آئین اور قانون کے مطابق فیصلوں سے ملک مضبوط اور مستحکم ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلیکٹڈ حکمرانوں نے نااہلی چھپانے کے لیے ریاستی اداروں کو آپس میں لڑوانےکی کوشش کی۔

ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا ایوان صدر کی بھی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، اب صدر مملکت بھی آرڈیننس فیکٹری بند کردیں کیونکہ صدر مملکت کے جاری کردہ آرڈیننس قانونی نہیں ہوتے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا اور سپریم کورٹ سے اس حوالے سے رائے طلب کی تھی، سپریم کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنا دیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 سپریم کورٹ کی رائے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔

سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کے بعد جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن 3 مارچ کو سینیٹ انتخابات میں عدالتی رائے پر عمل کرے، عدالت کی بیلٹ کی سیکریسی دائمی نا ہونے کی رائے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا سینیٹ انتخابات کے لیے عدالت نے واضح طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال کا کہا ہے، ابھی بیلٹ پیپر چھپے نہیں ہیں، الیکشن کمیشن بیلٹ پیپر کو شناخت بنا سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی رائے کے بعد سینیٹ الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 اب ختم ہو چکا ہے کیونکہ آرڈیننس عدالتی رائے سے مشروط تھا۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا اور سپریم کورٹ سے اس حوالے سے رائے طلب کی تھی، سپریم کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد رائے محفوظ کی تھی جو آج جاری کی گئی ہے۔
لاہور: مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہماری الیکشن کی شفافیت کی علمبردار رہی ہے۔

صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم کورٹ کی رائے پر جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے رائے دی ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوسکتا ہے، شبلی فراز کی منشا کے مطابق الیکشن نہیں ہوسکتے
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کہتا ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے مطابق ہوگا، سپریم کورٹ کے فیصلے سے آرڈیننس بھی کالعدم ہوگیا ہے۔

لیگی ترجمان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کافیصلہ تھاکہ پنجاب میں اپنی نمائندگی کے مطابق نشستیں حاصل کی جائیں، مسلم لیگ (ن) الیکشن کی شفافیت کی علمبردار رہی ہے، اکثریت ہونے کے باوجود ہمارا ووٹ چوری کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن عدالتی فیصلے کی روشنی میں شفافیت کو یقینی بنائے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا سپریم کورٹ کی رائے سے بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت سیکرٹ بیلٹ کے تحت ہوں گے لیکن معزز جج صاحبان نے نشاندہی کی کہ الیکشن کو شفاف بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سینیٹ انتخابات میں شفافیت کے لیے ہر اقدام اٹھائے، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سیکریسی بیلٹ دائمی نہیں ہے، وقت کے تقاضے اور ہیں، زمینی حقائق اور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا آئین کی تشریح مانگنے کا فیصلہ اچھا تھا، ہم پاکستان میں شفافیت اور کرپشن سے پاک معاشرے کا فلسفہ لے کر چلے ہیں، ہم نظریہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

شبلی فراز کا کہنا تھا ایک نظریہ یہ ہے کہ جیسے پاکستان چل رہا ہے ایسے ہی چلے جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے ہمیشہ پیسے اور ضمیر خریدنے کی سیاست کی ہے۔

ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں منتخب نمائندے پیسے کے زور پر نہیں اہلیت کی بنیاد پر آئیں، منتخب نمائندے عوام کے لیے فیصلہ کریں کیونکہ پیسے کے زور پر آنے والے اپنے مفادات کے خلاف قانون سازی نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ حفیظ شیخ ایک ایماندار اور قابل شخص ہیں اور ہر وہ شخص جو قابل اور ایماندار ہو وہ پاکستان تحریک انصاف کا ڈی فیکٹو ممبر ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حفیظ شیخ اسلام آباد میں بھی جیتیں گے، لوگ عمران خان کو ووٹ دیتے ہیں، امیدوار کو نہیں دیتے، لوگ عمران خان کے نظریہ اور شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ادارے آزاد ہوں اور بغیر دباؤ کے فیصلے کریں، ہم الیکشن کمیشن پرکسی قسم کا دباؤ نہیں ڈال سکتے، درخواست ضرور کر سکتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہر قسم کے اقدامات اٹھائے۔

اپوزیشن سے متعلق ایک سوال پر شبلی فراز کا کہنا تھا پی ڈی ایم قلابازیاں کھاتی رہتی ہے، ن لیگ چاہتی ہے کہ فیصلے ان کی منشا کے مطابق ہوں، عدالتیں آزاد ہیں، کئی فیصلے ہمارے خلاف بھی آئے ہیں، لیکن مریم نواز کہت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں