51

پشاور،عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی غا‌ئبانہ نماز جنازہ باچا خان مرکز پشاور میں ادا کر دی گئی

پشاور،عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی غا‌ئبانہ نماز جنازہ باچا خان مرکز پشاور میں ادا کر دی گئی
پشاور، نماز جنازہ میں پارٹی کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین سمیت کثیر تعداد میں کارکنان نے شرکت کی
پشاور، اے این پی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور، صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک بھی نمازہ جنازہ میں شریک ہوئے
پشاور، غائبانہ نماز جنازہ کے بعد اجتماعی دعا بھی کی گئی
پشاور، پاکستان میں پختونوں سے دیگر حقوق کے ساتھ جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے، غلام بلور کا خطاب
پشاور، پچھلے چالیس سال سے پختون قوم کی نسل کشی جاری ہے، غلام بلور
پشاور، پختونوں کو کبھی ایک نام سے تو کبھی دوسرے نام سے مارا جارہا ہے، حاجی غلام احمد بلور
پشاور، پختون قوم کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے جس میں مرنے والے اور بدنام ہونے والے دونوں پختون ہیں، رہنما اے این پی
پشاور، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عوامی نیشنل پارٹی نے سینکڑوں کارکنان کی قربانیاں دی ہیں، حاجی غلام احمد بلور
پشاور، آئین پاکستان شہریوں کو یہ ضمانت دیتا ہے کہ ان کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے،حاجی غلام احمد بلور
پشاور، ریاست اپنی ذمہ داری میں غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے، حاجی غلام احمد بلور
پشاور، دن دیہاڑے لوگ اغواء ہورہے ہیں، ان کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، غلام احمد بلور
پشاور، ریاست اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، غلام احمد بلور
پشاور، ایسے اقدامات پختونوں سمیت تمام مظلوم قومیتوں میں احساس محرومی کو پروان چڑھا رہے ہیں، غلام بلور
پشاور، ریاست اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی، غلام احمد بلور
پشاور، عوامی نیشنل پارٹی کا موقف اور مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، غلام احمد بلور
پشاور، لاپتہ افراد کا صاف اور شفاف ٹرائیل کیا جائے، غلام احمد بلور
پشاور، اے این پی نے اسد خان اچکزئی سمیت تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے، غلام بلور
پشاور، اے این پی اسد خان اچکزئی کے اغواء سے لے کر ان کی لاش کی برآمدگی تک کے تمام عوامل کی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے، حاجی غلام احمد بلور
پشاور، اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ اس سانحے میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے، غلام بلور

اسد خان اچکزئی کی شہادت لاپتہ افراد کے لئے آواز اٹھانے والوں کے لئے پیغام ہے، میاں افتخار حسین
لاپتہ کرانے والے بتانا چاہ رہے ہیں کہ اگر خاموش نہیں ہوئے تو آپ کے پیاروں کا بھی یہ حال ہوگا
مقتدر قوتیں اگر یہ سمجھتی ہیں کہ اس قسم کے واقعات سے ہمیں ڈرا سکیں گے تو یہ ان کی بھول ہے
اے این پی نے ببانگ دہل لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لئے آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتی رہے گی
اس قسم کے ہتکھنڈوں سے باچا خان کے سپاہیوں کو نہیں ڈرایا جاسکتا
قانونی اور آئینی طور پر شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے
پختون اور دیگر مظلوم قومیتوں کے معاملے میں ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے
کوئٹہ جیسے حساس شہر سے ایک ذمہ دار شہری لاپتہ ہوجاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی
شہری پانچ مہینے لاپتہ رہتا ہے اور ذمہ دار ادارے اس کی کھوج میں ناکام رہتے ہیں
ریاست اور متعلقہ اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگا، اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی
عوامی نیشنل پارٹی کا آج بھی مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کرا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے
جو قصوروار ہیں ان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور جو بےگناہ ہیں ان کو اہل خانہ کے حوالے کیا جائے
اسد خان اچکزئی کے کیس میں مکمل انکوائری سے قبل ‍ بے بنیاد قیاس آرائياں اصل محرکات سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے
عوامی نیشنل پارٹی اسد خان اچکزئی کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتی ہے
اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے اغواء سے لے کر ان کی لاش ملنے تک کے واقعات کی عدالتی انکوائری کروائی جائے
سانحے میں ملوث تمام کرداروں اور ان کے سہولت کاروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کو قانون واقعی سزا دی جائے
عوامی نیشنل پارٹی اپنے شہیدوں کو کبھی نہیں بھولے گی اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی
عوامی نیشنل پارٹی ملک بھرمیں تین روزہ سوگ منائے گی اور پارٹی دفاتر پر پارٹی پرچم سرنگوں رہیں گے
پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں لاپتہ افراد کا مسئلہ شدید تر ہوتا جارہا ہے، اسد خان اچکزئی کی شہادت کا سانحہ لاپتہ افراد کے لواحقین اور ان کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانے والوں کو پیغام ہے کہ اگر خاموش نہیں ہوئے تو آپ کے پیاروں کا بھی یہی حال ہوگا۔ مقتدر قوتیں اگر یہ سمجھتی ہیں کہ اس قسم کے واقعات سے ہمیں ڈرا سکیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، ہم نے ببانگ دہل لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لئے آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے۔ اس قسم کے ہتکھنڈوں سے باچا خان کے سپاہیوں کو نہیں ڈرایا جاسکتا۔ عوامی نیشنل پارٹی اس مٹی کی وارث ہے اور اس مٹی اور اپنے عوام کے حقوق کے لئےآواز اٹھانے اور جدوجہد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے لیکن پختونوں اور دیگر مظلوم قومیتوں کے معاملے میں ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ کوئٹہ جیسے حساس شہر سے ایک ذمہ دار شہری لاپتہ ہوجاتا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، شہری پانچ مہینے لاپتہ رہتا ہے اور ذمہ دار ادارے اس کی کھوج میں ناکام رہتے ہیں، ان تمام عوامل کا جائزہ لینا ہوگا، ریاست اور متعلقہ اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگا، اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔عوامی نیشنل پارٹی کا آج بھی مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کرایا جائے، ان کو عدلتوں میں پیش کر کے ان کا شفاف ٹرائیل کیا جائے، جو قصوروار ہیں ان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور جو بےگناہ ہیں ان کو اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسد خان اچکزئی کے کیس میں انتظامیہ کی جانب سے مکمل انکوائری سے قبل بے بنیاد قیاس آرائياں اصل محرکات سے توجہ ہٹانے کی سازش ہے، عوامی نیشنل پارٹی اسد خان اچکزئی کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتی ہے، اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے اغواء سے لے کر ان کی لاش ملنے تک کے واقعات کی عدالتی انکوائری کروائی جائے، اس افسوسناک سانحے میں ملوث تمام کرداروں اور ان کے سہولت کاروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کو قانون واقعی سزا دی جائے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو مظلوم قومیتوں میں احساس محرومی مزید بڑھے گی اور معاملات حل ہونے کی بجائے کشیدگی کی جانب بڑھیں گے، عوامی نیشنل پارٹی اپنے شہیدوں کو کبھی نہیں بھولے گی اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ملک بھر میں اسد خان اچکزئی کی شہادت کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، ملک بھر میں پارٹی دفاتر پر پارٹی پرچم سرنگوں رہیں گے، اتوار کے روز باچا خان مرکز پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور ان کی درجات کی بلندی کے لئے دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، سردارحسین بابک
آئین ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے، حکومت عدم تحفظ کے شکار عوام کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟
یہاں پر پختونوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی اور انکی جاری نسل کُشی کو سمجھ چکے ہیں
ایک عرصے سے پختونوں کو چن چن کر شہید کیا جارہا ہے۔ اے این پی نے ہمیشہ تشدد کے خلاف جنگ عدم تشدد کے مضبوط ہتھیار سے لڑی ہے
آئندہ بھی امن کے قیام کیلئے باچاخان کے دیے گئے فلسفہ عدم تشدد پر کاربند رہتے ہوئے پختونوں کی بقا اور حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے
حکومت وضاحت کریں کہ آئے روز اغواء برائے تاوان اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والے کیا اتنے طاقتور ہیں کہ حکومت انکے آگے سر نہیں اٹھاسکتے؟
ایک طرف پختونوں کا قتل عام جاری ہے اور دوسری طرف انہیں آئینی حقوق سے محروم رکھ کر انہیں فاقوں پر مجبور کیا جارہا ہے
پختونوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے کون سے اقدامات اٹھائے ہیں
پختون اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ پختونوں کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ انہیں کون اور کس جرم میں قتل کئے جارہے ہیں
انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیمیں پختونوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی پر خاموشی توڑ دیںاورپختونوں کی آواز دنیا تک پہنچائے
متحد ہونا پڑے گا،تمام پختونوں کو یک آواز ہو کر پختونوں کے خلاف ایک نہ ختم ہونیوالے سلسلے کو بند کرنا چاہئیے
باچاخان مرکز پشاور میں اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسداچکزئی کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو
پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ آئین ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے لیکن حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ باچاخان مرکز پشاور میں اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسدخان اچکزئی کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردارحسین بابک نے سوال اٹھایا کہ حکومت عدم تحفظ کے شکار عوام کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟یہاں پر پختونوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی اور انکی جاری نسل کُشی کو سمجھ چکے ہیں۔ ایک عرصے سے پختونوں کو چن چن کر شہید کیا جارہا ہے۔ اے این پی نے ہمیشہ سے تشدد کے خلاف جنگ عدم تشدد کے مضبوط ہتھیار سے لڑی ہے۔ سردارحسین بابک نے کہا کہ آئندہ بھی امن کے قیام کیلئے باچاخان کے دیے گئے فلسفہ عدم تشدد پر کاربند رہتے ہوئے پختونوں کی بقا اور حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت وضاحت کریں کہ آئے روز اغواء برائے تاوان اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے والے کیا اتنے طاقتور ہیں کہ حکومت انکے آگے سر نہیں اٹھاسکتے؟ پختونوں میں احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف پختونوں کا قتل عام جاری ہے اور دوسری طرف انہیں آئینی حقوق سے محروم رکھ کر انہیں فاقوں پر مجبور کیا جارہا ہے۔ پختونوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے کون سے اقدامات اٹھائے ہیں؟ پختون اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ پختونوں کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ انہیں کون اور کس جرم میں قتل کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ پختونوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی پر خاموشی توڑ دیں اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے پختونوں کی آواز دنیا تک پہنچائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پختونوں کو متحد اور بیدار ہونا پڑے گا۔ تمام پختونوں کو یک آواز ہو کر پختونوں کے خلاف ایک نہ ختم ہونیوالے سلسلے کو بند کرنا چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں