73

کیا آپ کے مؤکل کو میرے ایمان پر کوئی شک ہے ہم بھی مسلمان ہیں،ہمارے متعلق اس طرح کے کیسز میں شک و شبہ نہیں ہونا چاہئیے چیف جسٹس اطہر من اللہ۔ کسی کے ایمان پر کوئی شک نہیں ہے>طارق اسد ایڈووکیٹ کا جواب

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کا مقدمہ۔۔۔

توہین رسالت کے مرتکب مجرمان کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے لئے تشکیل پانے والے بنچ کی تبدیلی کے لئے دائر درخواست کی سماعت۔۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مدعی مقدمہ حافظ احتشام احمد کی جانب سے دائر متفرق درخواست کی سماعت کی۔۔۔

درخواست گزار کی جانب سے طارق اسد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بنچ کی تبدیلی کے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کئے گئے اعتراض کو ختم کر دیا۔۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا مدعی مقدمہ کی جانب سے بنچ کی تبدیلی کے لئے دائر کی گئی درخواست کو نمبر لگا کر باقاعدہ طور پر سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم۔۔۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا درخواست گزار کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ سے مکالمہ۔۔۔

طارق صاحب!اس طرح کے کیسز میں ججز پر عدم اعتماد کا مطلب جج کے ایمان پر شک کرنا ہے>چیف جسٹس اطہر من اللہ۔

کیا آپ کے مؤکل کو میرے ایمان پر کوئی شک ہے>چیف جسٹس اطہر من اللہ۔

اگر آپ کے مؤکل کو میرے ایمان پر شک ہے تو واضح طور پر اس کا اظہار کیجئے>چیف جسٹس اطہر من اللہ۔

ہم بھی مسلمان ہیں،ہمارے متعلق اس طرح کے کیسز میں شک و شبہ نہیں ہونا چاہئیے>چیف جسٹس اطہر من اللہ۔

مجھے یا میرے مؤکل کو کسی کے ایمان پر کوئی شک نہیں ہے>طارق اسد ایڈووکیٹ کا جواب۔

اس کیس میں آپ پر اعتراض کی وجوہات آپ کو چیمبر میں دی گئی درخواست میں درج ہے>طارق اسد ایڈووکیٹ۔

میرے مؤکل نے آپ کے ایمان پر شک نہیں کیا>طارق اسد ایڈووکیٹ۔

آپ ایک دفعہ پھر اپنے مؤکل سے ہدایات لے لیں،ذرہ سوچ لیں کہ آپ کا اس کیس میں مجھ پر اعتراض کرنا میرے ایمان پر کہیں شک تو نہیں ہے>چیف جسٹس اطہر من اللہ۔

آپ آئندہ سماعت پر اس متعلق اپنا موقف عدالت میں پیش کریں>جسٹس اطہر من اللہ کی درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت۔

واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے توہین رسالت کے مرتکب تین مجرمان عبدالوحید،رانا نعمان رفاقت اور ناصر احمد کو سزائے موت سنائی تھی۔۔۔

مذکورہ تین مجرمان نے سزائے موت کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہے۔۔۔

مذکورہ مجرمان کی اپیلوں کی سماعت کے لئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بنچ تشکیل دیا گیا تھا۔۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مذکورہ ڈویژن بنچ نے ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مجرمان کی جانب سے دائر اپیلوں کو چار مارچ کو باقاعدہ سماعت کے لئے مقرر کیا ہے۔۔۔

مدعی مقدمہ حافظ احتشام احمد کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کی مذکورہ بنچ میں شمولیت پر اعتراض کیا گیا ہے۔۔۔

مدعی مقدمہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری پر بھی مذکورہ مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے لئے تشکیل پانے والے کسی بھی نئے بنچ میں شمولیت پر اعتراض کیا گیا ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں